🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
296. تفسير سورة الأحقاف
سورۂ الاحقاف کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3736
حَدَّثَنَا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حَدَّثَنَا أبو داود سليمان بن الأشعث السِّجِستاني، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير العَبْدي، حَدَّثَنَا سفيان، عن صفوان بن سُلَيم، عن أبي سَلَمة بن عبد الرحمن، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿أَوْ أَثَارَةٍ مِنْ عِلْمٍ﴾ [الأحقاف: 4] ، قال: هو الخَطُّ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، وقد أُسنِدَ عن الثوري من وجه غير مُعتمَد.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3694 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد اَوْ اَثَارَۃً مِّنْ عَلْم کے متعلق فرماتے ہیں: اس سے مراد خط ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک غیر معتبر سند کے ہمراہ اس کو سنداً بھی روایت کیا ہے جیسا کہ درج ذیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3736]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3736 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. سفيان هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ سفیان سے مراد ثوری ہیں۔
وأخرجه أحمد 3 / (1992) عن يحيى القطان، عن سفيان، بهذا الإسناد - ونقل عن سفيان أنه تشكّك في وقفه فقال: لا أعلمه إلّا عن النَّبِيّ ﷺ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (3/ 1992) نے یحییٰ قطان عن سفیان کے واسطے سے روایت کیا اور سفیان سے نقل کیا کہ وہ اس کے موقوف ہونے میں شک میں پڑ گئے، تو کہا: "میں اسے نبی ﷺ سے ہی جانتا ہوں۔"
والمراد بالخط: ما كانت بعض العرب تفعله من خطِّهم خطوطًا في الأرض يتكهَّنون بها.
📝 نوٹ / توضیح: "خط" سے مراد وہ لکیریں ہیں جو بعض عرب زمین پر کھینچتے تھے اور ان کے ذریعے کاہنی (غیب دانی) کرتے تھے۔