المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
297. ذكر وفاة عثمان بن مظعون رضى الله عنه
حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کا ذکر
حدیث نمبر: 3739
حدثني علي بن حَمْشاذ العَدْل، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى، حَدَّثَنَا الحُميدي، حَدَّثَنَا سفيان بن عُيينة، عن عمرو بن دينار، سمع صفوانَ بن عبد الله بن صفوان يقول: استَأْذَنَ سعدٌ على ابن عامر وتحته مَرافِقُ من حرير، فأَمَر بها فرُفِعَت، فَدَخَلَ وعليه مِطرَفُ خَزٍّ، فقال له: استأذنتَ عليَّ وتحتي مَرافقُ من حرير فأَمرتُ بها فرُفِعَت، فقال له: نِعمَ الرجلُ أنت يا ابنَ عامر إن لم تكن ممَّن قال الله ﷿: ﴿أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا﴾ [الأحقاف: 20] ، والله لأَنْ أَصْطَجَعَ على جَمْرِ الغَضَى، أحبُّ إليَّ من أن أضطجعَ عليها (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عمر بن الخطّاب من رواية القاسم بن عبد الله العُمَري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3697 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديثُ عمر بن الخطّاب من رواية القاسم بن عبد الله العُمَري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3697 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا صفوان بن عبداللہ بن صفوان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سعد رضی اللہ عنہ نے ابن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت طلب کی۔ اس وقت وہ ریشم کے تکیے پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ انہوں نے اس کو اٹھا دینے کا حکم دیا تو وہ (تمام تکئے) اٹھا دئیے گئے، پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لے آئے، انہوں نے ریشم کی نقش و نگار والی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ ابن عامر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے جب اجازت مانگی تو اس وقت میرے نیچے ریشم کے تکیے تھے، میں نے وہ اٹھوا دئیے، پھر انہوں نے کہا: اے ابن عامر رضی اللہ عنہ اگر تو ان لوگوں میں سے نہ ہوتا جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے تو تو کتنا اچھا آدمی ہے: اَذْھَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیْ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا (الاحقاف: 20) ” تم اپنے حصے کی پاکیزہ چیزیں اپنی دنیا ہی کی زندگی میں فنا کر چکے اور انہیں برت چکے۔“ خدا کی قسم! غضا (ایک درخت ہے، جس کی چنگاری بہت دیر تک سلگتی رہتی ہے) کے انگاروں پر لیٹنا میرے نزدیک ریشم پر لیٹنے سے بہتر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3739]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3739 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. الحميدي: هو عبد الله بن الزبير بن عيسى القرشي المكي، وسفيان: هو ابن عيينة، وسعد هو ابن أبي وقاص.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حمیدی سے مراد عبد اللہ بن زبیر بن عیسیٰ قرشی مکی، سفیان سے مراد ابن عیینہ اور سعد سے مراد ابن ابی وقاص ہیں۔
وأخرجه البيهقي 3/ 267 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (3/ 267) نے ابو عبد اللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 8/ 344، والطحاوي في "معاني الآثار" 4/ 248 من طريق سفيان بن عيينة به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (8/ 344) اور طحاوی "معانی الآثار" (4/ 248) نے سفیان بن عیینہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وابن عامر: هو عبد الله بن عامر كما وقع في "الكنى" للدولابي (84)، وعبد الله بن عامر: هو ابن ربيعة العنزي أبو محمد المدني. وهو من رجال "التهذيب". والغضى: شجر، وخشبه من أصلب الخشب، ولذلك يكون في فحمه صلابة ويبقى جمره زمانًا طويلًا لا ينطفئ، واحده: غضاة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عامر سے مراد "عبد اللہ بن عامر" ہے (جیسا کہ دولابی کی الکنی 84 میں ہے)۔ اور یہ عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ عنزی ابو محمد مدنی ہیں، جو تہذیب کے رجال میں سے ہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: "الغضٰی" ایک درخت ہے، اس کی لکڑی سخت ترین ہوتی ہے، اسی لیے اس کے کوئلے میں سختی ہوتی ہے اور اس کی آگ دیر تک بجھتی نہیں۔ واحد: غضاة۔