🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
326. شواهد حديث انشقاق القمر
چاند کے شق ہونے سے متعلق حدیث کے شواہد
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3803
أخبرنا أبو بكر أحمد بن جعفر الزاهد ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حَنبَل، حدثني أبي، حَدَّثَنَا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن قَتَادة، عن أنس قال: سأل أهلُ مكةَ رسولَ الله ﷺ آيةً، فانشَقَّ القمرُ بمكة مرَّتين، قال الله ﷿: ﴿اقتربت السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ﴾ (2) . قد اتَّفق الشيخان على حديث شُعبة عن قَتادة عن أنس: انشقَّ القمرُ على عهد رسول الله ﷺ، ولم يخرجاه بسِيَاقة حديث مَعمَر، وهو صحيح على شرطهما.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3761 - وفي الصحيحين حديث قتادة عن أنس انشق القمر على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزے کا مطالبہ کیا تو مکہ میں دو مرتبہ چاند شق ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے شعبہ کی قتادہ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند شق ہوا نقل کی ہے لیکن معمر کی قتادہ سے روایت کردہ حدیث نقل نہیں کی حالانکہ یہ بھی ان دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3803]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3803 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. وهو في "مسند أحمد" 20/ (12668).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ یہ "مسند احمد" (20/ 12668) میں ہے۔
ومن طريق عبد الرزاق أخرجه مسلم (2808) (46)، والترمذي (3286)، والنسائي (11490).
📖 حوالہ / مصدر: عبد الرزاق کے طریق سے اسے مسلم (2808)، ترمذی (3286) اور نسائی (11490) نے روایت کیا۔
وأخرجه أحمد 20/ (13154) و 21/ (13303) و (13918) و (13919) و (13958)، والبخاري (3637) و (3868) و (4867) و (4868)، ومسلم (2802) من طرق عن قتادة، به - بعضهم يقول فيه عن قتادة: مرتين، وبعضهم لا يقولها، وبعضهم يقول: شِقَّتين أو فرقتين، وهو الذي اختاره البخاري، وهو الصواب إن شاء الله، وقد غلَّط بعض أهل العلم المرّتين فيه كما في "فتح الباري" 11/ 346.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد، بخاری (3637 وغیرہ) اور مسلم (2802) نے قتادہ کے طرق سے روایت کیا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: قتادہ سے بعض "مرتین" (دو بار) نقل کرتے ہیں اور بعض نہیں، اور بعض "شقتین یا فرقتین" (دو ٹکڑے) کہتے ہیں؛ امام بخاری نے اسی (دو ٹکڑوں) کو اختیار کیا ہے اور ان شاء اللہ یہی درست ہے۔ بعض اہل علم نے "مرتین" (دو بار) کو غلط قرار دیا ہے۔ دیکھیے: "فتح الباری" (11/ 346)۔