🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
328. تفسير سورة الرحمن
سورۂ الرحمن کی تفسیر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3811
أخبرنا أبو زكريا العنبري، حَدَّثَنَا محمد بن عبد السلام، حَدَّثَنَا إسحاق، أخبرنا يحيى بن اليَمَان، حَدَّثَنَا المِنهال بن خَليفة، عن حجَّاج، عن عطاء، عن ابن عبَّاس: ﴿وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ﴾ [الرحمن: 6] ، قال: النَّجمُ: ما أَنجَمَت الأرضُ، والشجرُ: ما كان على ساقٍ (3) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3769 - منهال بن خليفة ضعفه ابن معين
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما وَالنَّجْم وَالشَّجَرُ کے بارے میں فرماتے ہیں: النجم سے مراد زمین کی بیل بوٹیاں اور الشجر سے مراد تنے والا درخت یا پودا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3811]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3811 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) خبر حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف المنهال بن خليفة، وعنعنة حجاج - وهو ابن أرطاة - فإنه مدلِّس. إسحاق: هو ابن راهويه، وعطاء: هو ابن أبي رباح.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "حسن" ہے، لیکن یہ سند "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ منہال بن خلیفہ کا ضعف اور حجاج (ابن ارطاۃ) کا عنعنہ ہے، کیونکہ وہ مدلس ہیں۔ اسحاق سے مراد ابن راہویہ اور عطاء سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔
وأخرجه أبو الشيخ في "العظمة" (1206) من طريق أبي هشام الرفاعي، عن يحيى بن يمان، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو الشیخ نے "العظمہ" (1206) میں ابو ہشام رفاعی عن یحییٰ بن یمان کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو الشيخ أيضًا في "طبقات المحدثين بأصبهان" 1/ 427 من طريق خطّاب بن جعفر، عن أبيه، عن سعيد بن جبير، عن ابن عبَّاس. وإسناده حسن.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو الشیخ نے "طبقات المحدثین باصبہان" (1/ 427) میں خطاب بن جعفر عن ابیہ عن سعید بن جبیر عن ابن عباس کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه الطبري 27/ 116 و 117 من طريق معاوية بن صالح، عن علي بن أبي طلحة، عن ابن عبَّاس. وعلي بن أبي طالب لم يسمع من ابن عبَّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری (27/ 116، 117) نے معاویہ بن صالح عن علی بن ابی طلحہ عن ابن عباس کے طریق سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس سے سماع نہیں کیا (یعنی سند منقطع ہے)۔