المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
343. قصة إيثار الصحابة رضي الله عنهم
صحابۂ کرامؓ کے ایثار کا واقعہ
حدیث نمبر: 3841
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن المغيرة السُّكَّري بهَمَذان، حدثنا القاسم بن الحَكَم العُرَني، حدثنا عبيد الله بن الوليد، عن مُحارِب بن دِثَار، عن ابن عمر قال: أُهديَ لرجلٍ من أصحاب رسول الله ﷺ رأسُ شاةٍ فقال: إِنَّ أخي فلانًا وعيالَه أحوَجُ إلى هذا منّا، قال: فبَعَثَ إليه، فلم يَزَلْ يَبْعَثُ إليه واحدٌ إلى آخرَ حتى تداوَلَها سبعةُ أبياتٍ، حتى رَجَعَت إلى الأول، فنزلت: ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾ إلى آخر الآية [الحشر: 9] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3799 - عبيد الله بن الوليد ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3799 - عبيد الله بن الوليد ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک صحابی کو کسی نے بکری کا سر ہدیہ کیا۔ اس نے آگے سے جواب دیا: میرا فلاں بھائی مجھ سے زیادہ غریب اور ضرورت مند ہے (ابن عمر) کہتے ہیں۔ اس نے یہ سر اس کی طرف بھیج دیا (اس نے دوسرے بھائی کی طرف بھیج دیا) یہ سر اسی طرح آگے سے آگے جاتا رہا حتیٰ کہ سات گھروں سے گھوم کر یہ سر دوبارہ پہلے آدمی کے پاس آ گیا۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَ لَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) (الحشر: 9) ” اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو جو اپنے نفس کے لالچ سے بچا لیا گیا تو وہی کامیاب ہے۔“ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3841]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3841 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بمَرَّة من أجل عبيد الله بن الوليد الوصّافي، فإنه متفق على ضعفه خاصة في محارب بن دثار، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند سخت (بمرہ) ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے ضعف کی وجہ عبیداللہ بن ولید وصافی ہے، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے، بالخصوص محارب بن دثار سے اس کی روایت میں۔ امام ذہبی نے بھی "تلخیص" میں اسی بنیاد پر اسے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه البيهقي في "شعب الإيمان" (3204) عن أبي عبد الله الحاكم بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام بیہقی نے اسے "شعب الایمان" (3204) میں ابوعبداللہ الحاکم کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "الجود والسخاء" (80)، والواحدي في "أسباب النزول" (810)، وقِوام السنة في "الترغيب والترهيب" (1556) من طريقين عن القاسم بن الحكم، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الجود والسخاء" (80)، واحدی نے "اسباب النزول" (810) اور قوام السنہ نے "الترغیب والترہیب" (1556) میں القاسم بن الحکم کے دو طرق سے روایت کیا ہے۔