🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
344. الناس على ثلاث منازل
لوگ تین درجوں پر ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3842
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن يونس الضَّبّي، حدثنا أبو بدر شُجاع بن الوليد، حدثنا عبد الله بن زُبَيد، عن طلحة بن مُصرِّف، عن مصعب بن سعد بن أبي وقَّاص قال (1) : الناسُ على ثلاثِ منازلَ، فمَضَت منهم اثنتان وبقيَت واحدةٌ، فأحسنُ ما أنتم كائنون عليه أن تكونوا بهذه المنزلة التي بقيَت، ثم قرأ: ﴿لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ﴾ الآية، ثم قال: هؤلاء المهاجرون، وهذه منزلةٌ قد مضت، ثم قرأ: ﴿وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ﴾ الآية، ثم قال: هؤلاء الأنصارُ، وهذه منزلةٌ وقد مضت، ثم قرأ: ﴿وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ الآية [الحشر: 8 - 10] ، قال: فقد مضت هاتانِ المنزلتانِ وبقيَت هذه المنزلةُ، فأحسنُ ما أنتم كائنون عليه أن تكونوا بهذه المنزلة التي بقيَت (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3800 - صحيح
سیدنا سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں کے تین مراتب ہیں۔ ان میں سے دو گزر چکے ہیں اور ایک باقی ہے۔ تم جس مرتبے پر ہو اس میں بہتر یہ ہے کہ اس مرتبے پر فائز ہو جو ابھی باقی ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: لِلْفُقَرَآءِ الْمُھٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیارِھِمْ وَ اَمْوَالِھِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہٗ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ (الحشر: 8) ان فقیر ہجرت کرنے والوں کے لیے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے اور اللہ و رسول کی مدد کرتے وہی سچے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: یہ مقام مہاجرین کا ہے اور یہ گزر چکا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُا الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِھِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ھَاجَرَ اِلَیْھِمْ وَ لَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِھِمْ حَاجَۃً مِّمَّآ اُوْتُوْا وَ یُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی اَنْفُسِھِمْ وَ لَوْ کَانَ بِھِمْ خَصَاصَۃٌ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (الحشر: 8) اور جنہوں نے پہلے سے اس شہر اور ایمان میں گھر بنا لیا دوست رکھتے ہیں انہیں جو ان کی طرف ہجرت کر کے گئے اور اپنے دلوں میں کوئی حاجت نہیں پاتے اس چیز کی جو دیے گئے اور اپنی جانوں پر ان کو ترجیح دیتے ہیں اگرچہ انہیں شدید محتاجی ہو اور جو اپنے نفس کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی کامیاب ہیں۔ پھر فرمایا: یہ مقام انصار کا ہے اور یہ بھی گزر چکا ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (الحشر: 10) اور وہ جو ان کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب بیشک تو ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ دونوں منزلیں گزر چکی ہیں اور اب یہ منزل باقی ہے تو تم جس منزل پر فائز ہو اس سے بہتر یہ ہے کہ تم اس منزل پر فائز ہو جو باقی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3842]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3842 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا هو في (ز) و (ص) و (ع) من قول مصعب بن سعد بن أبي وقاص، وفي (ب): عن مصعب بن سعد عن سعد بن أبي وقاص قال، فجعله من رواية مصعب بن سعد عن أبيه، وهو كذلك في "تلخيص الذهبي" و "إتحاف المهرة" (5057)، والصواب أنه من قول مصعب بن سعد، وهو كذلك عند اللالكائي في "أصول الاعتقاد" وعند الماوردي والقرطبي في "تفسيريهما".
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (ز)، (ص) اور (ع) میں یہ مصعب بن سعد بن ابی وقاص کا اپنا قول (مقطوع) ہے، جبکہ نسخہ (ب) میں اسے مصعب بن سعد عن ابیہ (سعد بن ابی وقاص) کی روایت بنا دیا گیا ہے۔ امام ذہبی کی "تلخیص" اور "اتحاف المہرہ" (5057) میں بھی یہی صورت ہے۔ 📌 اہم نکتہ: درست بات یہ ہے کہ یہ مصعب بن سعد کا اپنا قول ہے، جیسا کہ امام لالکائی (اصول الاعتقاد) اور امام ماوردی و قرطبی کی تفاسیر میں مذکور ہے۔
(2) إسناده محتمل للتحسين إن شاء الله من أجل عبد الله بن زبيد - وهو ابن الحارث الياميّ - فقد ذكره ابن حبان في "الثقات" وقال: روى عنه أهل الكوفة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ان شاء اللہ "حسن" ہونے کا احتمال رکھتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ راوی عبداللہ بن زبید (الحارث یامی کے بیٹے) ہیں؛ انہیں ابن حبان نے "الثقات" میں ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اہل کوفہ نے ان سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه اللالكائي في "أصول الاعتقاد" (2354) من طريق الحسن بن الحكم القُطرُبُلِّي، عن أبي بدر شجاع بن الوليد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: امام لالکائی نے اسے "اصول الاعتقاد" (2354) میں حسن بن حکم قطربلی عن ابی بدر شجاع بن ولید کی سند سے روایت کیا ہے۔