🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
346. تفسير سورة الممتحنة - شأن نزول: لا تتخذوا عدوي وعدوكم أولياء
تفسیرِ سورۃ الممتحنہ — آیتِ لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیاء کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3844
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا وَرْقاءُ، عن ابن أبي نَجِيح، عن مجاهد، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ﴾ إلى قوله: ﴿وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (3)[الممتحنة:1 - 3] : في مكاتَبة حاطبِ ابن أبي بَلْتعة ومن معه إلى كفّار قريش يُحذِّرونهم، وقوله تعالى: ﴿إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ﴾ [الممتحنة: 4] ، نُهوا أن يتأسَّوْا باستغفار إبراهيم لأبيه فيستغفروا للمشركين، وقوله: ﴿رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا﴾ [الممتحنة: 5] ، لا تُعذِّبْنا بأيديهم ولا بعذابٍ من عندِك فيقولون: لو كان هؤلاءِ على الحقِّ ما أصابهم هذا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3802 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل ارشاد: یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّی وَ عَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ (الممتحنۃ: 1) اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ تم انہیں خبریں پہنچاتے ہو دوستی سے حالانکہ وہ منکر ہیں اس حق کے جو تمہارے پاس آیا واللہ بما تعملون بصیر تک۔ کفار قریش کو بچانے کے لئے حاطب ابن ابی بلتعہ اور اس کے ساتھیوں کے ان کی جانب بھیجے گئے خط کے متعلق نازل ہوا اور الا قول ابراھیم سے لوگوں کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ وہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی اپنے باپ کے لئے استغفار کی پیروی کرتے ہوئے مشرکین کے لئے استغفار کرنے لگ جائیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد: رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَۃً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَ اغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ (الممتحنۃ: 5) اے ہمارے رب ہمیں کافروں کی آزمائش میں نہ ڈال اور ہمیں بخش دے، اے ہمارے رب بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے۔ ہمیں ان کے ہاتھ سے عذاب نہ دے اور نہ اپنی طرف سے عذاب دے ورنہ وہ کہیں گے: اگر یہ لوگ حق پر ہوتے تو ان کو یہ تکلیف نہ پہنچتی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3844]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3844 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح عن مجاهد من قوله، وذكر ابن عبَّاس فيه وهمٌ كما قال الحافظ ابن حجر في "تغليق التعليق" 4/ 338 و "فتح الباري" 14/ 387، وشيخ المصنف في هذا الأثر عبد الرحمن بن الحسن القاضي فيه ضعف لكنه راوية لكتاب "تفسير آدم بن أبي إياس"، وقد وقع في "التفسير" 2/ 667 بروايته من قول مجاهد، وهو الصواب.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ امام مجاہد کا صحیح قول (مقطوع) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں حضرت ابن عباس کا نام ذکر کرنا وہم (غلطی) ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "تغلیق التعلیق" 4/ 338 اور "فتح الباری" 14/ 387 میں وضاحت کی ہے۔ مصنف کے شیخ عبدالرحمن بن الحسن قاضی اگرچہ ضعیف ہیں مگر وہ کتاب "تفسیر آدم بن ابی ایاس" کے راوی ہیں، اور اس تفسیر (2/ 667) میں یہ روایت مجاہد کے قول کے طور پر ہی درج ہے، جو کہ درست ہے۔
فقد أخرجه محمد بن يوسف الفريابي في "تفسيره" - كما ذكر ابن حجر - عن ورقاء بن عمر اليشكري، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن مجاهد من قوله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے محمد بن یوسف فریابی نے اپنی "تفسیر" میں (جیسا کہ ابن حجر نے ذکر کیا) ورقاء بن عمر یشکری عن عبداللہ بن ابی نجیح کے واسطے سے امام مجاہد کے قول کے طور پر روایت کیا ہے۔
وكذلك رواه عن ورقاء: شبابةُ بن سوّار عند عبد بن حميد في "تفسيره" كما ذكر ابن حجر، والحسن بن موسى الأشيب عند الطبري في "تفسيره" 28/ 60 - 61 و 63 و 64.
🧩 متابعات و شواہد: ورقاء بن عمر سے اسے شبابہ بن سوار نے (تفسیر عبد بن حمید میں) اور حسن بن موسیٰ اشیب نے (تفسیر طبری 28/ 60-64 میں) اسی طرح مجاہد کا قول بیان کیا ہے۔
وأخرجه الطبري أيضًا من طريق أبي عاصم النبيل، عن عيسى بن ميمون الجُرشي، عن عبد الله بن أبي نجيح، عن مجاهد قوله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبری نے ابوعاصم نبیل عن عیسیٰ بن میمون جرشی عن عبداللہ بن ابی نجیح کے طریق سے امام مجاہد کا قول ہی روایت کیا ہے۔
وانظر قصة حاطب بن أبي بلتعة في حديث علي بن أبي طالب عند البخاري برقم (3007).
📖 حوالہ / مصدر: سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ صحیح بخاری میں حدیث نمبر (3007) کے تحت سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی روایت میں ملاحظہ فرمائیں۔