المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
356. تفسير سورة الطلاق - خروج المرأة قبل عدتها من بيتها فاحشة مبينة
تفسیرِ سورۃ الطلاق — عدت کے دوران عورت کا گھر سے نکلنا صریح بے حیائی ہے
حدیث نمبر: 3859
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي (2) الصَّنعاني بمكَّة، حدثنا علي بن المبارك الصَّنعاني (3) ، حدثنا زيد (4) بن المبارك، حدثنا محمد بن ثَوْر، عن ابن جُرَيج، عن محمد بن عبيد الله بن أبي رافع مولى رسول الله ﷺ، عن عِكْرمة، عن ابن عبَّاس قال: طَلَّق عبدُ يزيدَ أبو رُكَانةَ أمَّ رُكانة ثم نَكَحَ امرأةً من مُزَينة، فجاءت إلى رسول الله ﷺ فقالت: يا رسولَ الله، ما يُغني عني إلَّا ما تُغْني هذه الشَّعرة - لشعرةٍ أخَذَتْها من رأسها - فأخَذَتْ رسولَ الله ﷺ حَمِيَّةٌ عند ذلك، فدعا رُكانةَ وإخوتَه، ثم قال لجلسائه:"أتَرونَ كذا مِن كذا؟" فقال رسول الله ﷺ لعبدِ يزيدَ:"طلِّقها" ففَعَلَ، فقال لأبي رُكانةَ:"ارتجِعْها" فقال: يا رسول الله، إني طلَّقتُها! فقال رسول الله ﷺ:"قد عَلِمتُ ذلك، فارتجِعْها"، فنزلت: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3817 - محمد بن عبيد الله بن أبي رافع واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3817 - محمد بن عبيد الله بن أبي رافع واه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یزید کے غلام ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے ام رکانہ کو طلاق دی۔ پھر مزینہ قبیلے کی ایک عورت سے شادی کر لی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص نے مجھے اتنا بھی فائدہ نہیں دیا جتنا اس بال کا، اس بال کو ہے جو میں نے اپنے سر سے لیا ہے۔ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلوایا۔ پھر آپ نے تمام اہل مجلس سے اس سلسلے میں مشاورت کی۔ پھر آپ نے عبدیزید سے کہا: اس کو طلاق دے دو۔ اس نے طلاق دے دی۔ آپ نے پھر ابورکانہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اس سے رجوع کر لو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کو طلاق دے چکا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہے لیکن بہرحال تم رجوع کر لو۔ تب یہ آیت نازل ہوئی: یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ (الطلاق: 1) ” اے نبی! جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کے وقت پر انہیں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔“ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3859]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3859 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) تحرَّف في (ز) إلى: محمد بن عبد الله، وسقط منها كنيته أبو عبد الله.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) میں یہ تحریف ہو کر "محمد بن عبد اللہ" ہو گیا ہے اور اس سے ان کی کنیت "ابو عبد اللہ" ساقط ہو گئی ہے۔
(3) قوله: "حدثنا علي بن المبارك الصنعاني" سقط من النسخ الخطية غير (ب)، ومنها أثبتناه ومن "إتحاف المهرة" (8519)، وقد تكررت سلسلة الإسناد هذه في غير ما موضع عند المصنف على الصواب.
📝 نوٹ / توضیح: مصنف کا قول "حدثنا علی بن المبارک الصنعانی" نسخہ (ب) کے علاوہ تمام قلمی نسخوں سے ساقط ہے، ہم نے اسے نسخہ (ب) اور "اتحاف المہرۃ" (8519) سے ثابت کیا ہے۔ اور یہ سند کا سلسلہ مصنف کے ہاں کئی مقامات پر درست حالت میں مکرر آیا ہے۔
(4) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: يزيد.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "یزید" بن گیا ہے۔
(5) إسناده ضعيف بمرَّة لضعف محمد بن عبيد الله بن أبي رافع ونكارة حديثه، وقال الذهبي في "تلخيصه": محمد واهٍ والخبر خطأ، عبد يزيد لم يدرك الإسلام.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند بالکل "ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع کا ضعف اور ان کی حدیث کا منکر ہونا ہے۔ حافظ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں فرمایا: "محمد واہی (انتہائی کمزور) راوی ہے اور یہ خبر غلط ہے، (کیونکہ) عبد یزید نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا"۔
وأخرجه أبو داود (2196) من طريق عبد الرزاق، عن ابن جريج، قال: أخبرني بعض بني أبي رافع - ولم يسمِّه - عن عكرمة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داؤد (2196) نے عبد الرزاق کے طریق سے، انہوں نے ابن جریج سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے ابورافع کی اولاد میں سے کسی نے خبر دی - اس کا نام نہیں لیا - انہوں نے عکرمہ سے اسی طرح روایت کیا۔
وأخرجه بنحوه أحمد 4/ (2387) من طريق داود بن حصين، عن عكرمة، به. وانظر تمام الكلام عليه هناك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/2387) نے داؤد بن حصین کے طریق سے، انہوں نے عکرمہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اس پر مکمل کلام وہاں ملاحظہ کریں۔