🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
357. شأن آية ومن يتق الله يجعل له مخرجا الآية
آیتِ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3863
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق، أخبرنا جَرير، عن مطرِّف بن طَريف، عن عمرو بن سالم، عن أُبيِّ بن كعب قال: لما نَزَلَت الآيةُ التي في سورة البقرة في عِدَدٍ من عِدَد النساء قالوا: قد بقيَ عِدَدٌ من عِدَد النساء لم يُذكَرْنَ الصِّغارُ، والكِبارُ اللَّائِي انقَطَع عنهن (1) الحَيضُ، وذواتُ الأحمال، فأنزل الله ﷿ الآيةَ التي في النساء: ﴿وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾ [الطلاق: 4] (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3821 - صحيح
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عورتوں کی عدت کے بارے میں جب سورۃ البقرہ والی آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا: صغیرہ اور ایسی کبیرہ جن میں ابھی تک بلوغت کے آثار ظاہر نہیں ہوئے اور جن کا حیض انا بند ہو چکا اور حمل والیوں کی عدت کا بیان نہیں ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء (یعنی سورۃ الطلاق) کی یہ آیت نازل فرما دی: وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِنْ نِسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (الطلاق: 4) اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی اگر تمہیں کچھ شک ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی جنہیں ابھی حیض نہ آیا اور حمل والیوں کی میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جن لیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3863]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3863 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في (ز) و (ب): والكبار ولا من انقطعت عنهن، وفي (ص) و (ع): والكبار واللاتي انقطعت عنهن. والمثبت - وهو الوجه - من "مسند إسحاق بن راهويه" كما في "المطالب العالية" (3758)، ومن "السنن الكبرى" 7/ 420 و "السنن الصغرى" (2785) كلاهما للبيهقي حيث رواه عن المصنف بإسناده ومتنه.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ب) میں الفاظ "والكبار ولا من انقطعت عنهن" ہیں، اور (ص) و (ع) میں "والكبار واللاتي انقطعت عنهن" ہیں۔ جبکہ ہم نے جو متن میں ثابت کیا ہے (وہی درست ہے) وہ "مسند اسحاق بن راہویہ" سے لیا گیا ہے جیسا کہ "المطالب العالیہ" (3758) میں ہے، اور بیہقی کی "السنن الکبریٰ" (7/420) اور "السنن الصغریٰ" (2785) سے لیا گیا ہے جہاں انہوں نے اسے مصنف سے ان کی سند اور متن کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(2) رجاله ثقات عن آخرهم إلّا أنه منقطع، عمرو بن سالم - وهو أبو عثمان الأنصاري، وهو بكنيته أشهر - لم يدرك أبيَّ بن كعب فيما قاله أبو حاتم الرازي، وأعلَّه بالانقطاع الحافظ ابن حجر في "الإتحاف" (110). إسحاق: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کے تمام راوی ثقہ ہیں لیکن یہ "منقطع" ہے۔ عمرو بن سالم (جو ابو عثمان انصاری ہیں اور اپنی کنیت سے زیادہ مشہور ہیں) نے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا جیسا کہ ابو حاتم رازی نے کہا ہے۔ اور حافظ ابن حجر نے بھی "الاتحاف" (110) میں اسے انقطاع کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے۔ اسحاق سے مراد "ابن راہویہ" اور جریر سے مراد "ابن عبد الحمید" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 7/ 420، وفي "الصغرى" (2785) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (7/420) اور "الصغریٰ" (2785) میں ابو عبد اللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن أبي شيبة 4/ 298، والطبري في "تفسيره" 28/ 141 من طريق عبد الله بن إدريس، عن مطرف بن طريف، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ (4/298) اور طبری نے اپنی تفسیر (28/141) میں عبد اللہ بن ادریس کے طریق سے، انہوں نے مطرف بن طریف سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔