🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
359. تفسير سورة التحريم - شأن نزول آية: لم تحرم ما أحل الله لك
تفسیرِ سورۃ التحریم — آیتِ لم تحرم ما أحل اللہ لک کے نزول کا سبب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3867
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا سفيان، عن سالم الأفطَس، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس قال: جاءه رجل فقال: جَعلتُ امرأتي عليَّ حرامًا، فقال: كذبتَ ليست عليكَ بحَرامٍ؛ ثم تلا هذه الآية: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3825 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص حضور کے پاس آیا اور بولا! میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو جھوٹا ہے، وہ تجھ پر حرام نہیں ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی: یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ (التحریم: 1) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3867]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3867 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن مهران الأصبهاني. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين، وسفيان: هو الثوري.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے اور اس کی سند احمد بن مہران اصبہانی کی وجہ سے "حسن" ہے۔ ابو نعیم سے مراد "فضل بن دکین" ہیں اور سفیان سے مراد "الثوری" ہیں۔
وأخرجه النسائي (5583) و (11545) من طريق مخلد بن يزيد الحراني، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد - وزاد في آخره: عليك أغلظ الكفارات: عتق رقبة. وإسناده جيد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (5583، 11545) نے مخلد بن یزید حرانی سے، انہوں نے سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے - اور آخر میں یہ اضافہ کیا ہے: "تم پر سب سے بھاری کفارہ لازم ہے: ایک گردن آزاد کرنا"۔ اور اس کی سند "جید" ہے۔
وتابع مخلدًا على هذا الزيادة عبد الله بن الوليد العدني عند ابن المنذر في "الأوسط" (7677)، وروحُ بن عبادة عند الدارقطني في "سننه" (4016)، كلاهما عن سفيان به. وتابع سفيانَ عليها مطيعٌ الغزّال عن سالم الأفطس عند الطبراني في "المعجم الكبير" (12246).
🧩 متابعات و شواہد: مخلد کی اس زیادتی پر متابعت عبد اللہ بن ولید عدنی نے (ابن المنذر کی "الاوسط" 7677 میں) اور روح بن عبادہ نے (دارقطنی کی سنن 4016 میں) کی ہے، دونوں نے سفیان سے روایت کیا ہے۔ اور سفیان کی متابعت اس پر مطیع الغزال نے کی ہے جو سالم الافطس سے روایت کرتے ہیں (طبرانی کی "المعجم الکبیر" 12246 میں)۔