المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
367. تفسير سورة { ن والقلم }- أول شيء خلقه الله القلم
تفسیر سورۂ ن والقلم — اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا
حدیث نمبر: 3882
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن الأعمش، عن أبي ظَبْيان، عن ابن عبَّاس قال: إِنَّ أول شيءٍ خَلَقَه اللهُ القلمُ، فقال له: اكتبْ، فقال: وما أكتبُ؟ فقال: القَدَرَ، فجَرَى من ذلك اليوم بما هو كائنٌ إلى أن تقومَ الساعةُ. قال: وكان عرشُه على الماء، فارتفع بخارُ الماء ففُتِقَت منه السماواتُ، ثم خُلِقَ النُّونُ فبُسِطَت الأرض عليه، والأرضُ على ظهر النُّون، فاضطَرَبَ النُّونُ فمادَتِ الأرض، فأُثبِتَت بالجبال، فإن الجبال تَفخَرُ على الأرض (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3840 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3840 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدا فرمایا۔ اس کو کہا: لکھ! اس نے کہا: کیا لکھوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: قدر۔ اس نے اس دن سے لے کر قیامت تک جو کچھ ہونے والا تھا، سب لکھ دیا۔ آپ فرماتے ہیں: اس کا عرش پانی پر تھا پھر پانی کے بخارات اوپر کی جانب اٹھے، ان سے آسمان بنائے گئے پھر مچھلی بنائی گئی، اس پر زمین بچھائی گئی اور زمین مچھلی کی پشت پر تھی۔ مچھلی تڑپنے لگی، پھر زمین کو کھینچ دیا گیا اور پہاڑوں کے ساتھ اس کو مضبوط کیا گیا کیونکہ پہاڑ زمین پر فخر کرتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3882]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3882 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو ظبيان: هو حصين بن جندب.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسحاق بن ابراہیم سے مراد "ابن راہویہ"، جریر سے مراد "ابن عبد الحمید"، اعمش سے مراد "سلیمان بن مہران" اور ابو ظبیان سے مراد "حصین بن جندب" ہیں۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 307، وجعفر الفريابي في "القدر" (77)، والطبري في "تفسيره" 29/ 14، والخلّال في "السنة" (1890) و (1891) و (1894 - 1896)، والآجري في "الشريعة" (350) و (443)، وأبو الشيخ في "العظمة" (897)، وابن منده في "التوحيد" (14) و (15) و (62)، والبيهقي في "السنن" 9/ 3، و "الأسماء والصفات" (804)، و "القضاء والقدر" (9)، والخطيب في "تاريخ بغداد" 10/ 81 من طرق عن الأعمش، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے تفسیر (2/307)، جعفر فریابی نے "القدر" (77)، طبری نے تفسیر (29/14)، خلال نے "السنۃ" (1890، 1891، 1894-1896)، آجری نے "الشریعۃ" (350، 443)، ابو الشیخ نے "العظمۃ" (897)، ابن مندہ نے "التوحید" (14، 15، 62)، بیہقی نے "السنن" (9/3)، "الاسماء والصفات" (804) اور "القضاء والقدر" (9) اور خطیب نے "تاریخ بغداد" (10/81) میں اعمش کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ولشطره الأول انظر ما سلف برقم (3735).
📖 حوالہ / مصدر: اس کے پہلے حصے کے لیے ملاحظہ فرمائیں جو پہلے نمبر (3735) پر گزر چکا ہے۔