🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
368. كان خلق رسول الله - صلى الله عليه وآله وسلم - القرآن
رسول اللہ ﷺ کا اخلاق قرآن تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3886
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا عبد الله بن أحمد بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا موسى بن عُلَي بن رَبَاح، قال: سمعت أَبي يحدِّث عن عبد الله بن عمرو بن العاص: أنه تلا هذه الآيةَ: ﴿مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ (12) عُتُلٍّ بَعْدَ ذَلِكَ زَنِيمٍ (13) ﴾، قال: سمعت النبي ﷺ يقول:"أهلُ النار كلُّ جَعظَريٍّ جوَّاظٍ مُستكبرٍ جمَّاعٍ، وأهلُ الجنة الضعفاءُ المُغلَّبون" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، قد أخرجاه (2) من حديث شُعبة والثَّوري عن مَعبَد بن خالد عن حارثةَ بن وهب عن رسول الله ﷺ مختصرًا.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3844 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ عُتُلٍّ بَعْدَ ذٰلِکَ زَنِیْمٍ (القلم: 12، 13) بھلائی سے بڑا روکنے والا، حد سے بڑھنے والا گنہگار، درشت خو، اس سب پر طرہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا ہے۔ پھر کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دوزخی لوگ بدخلق، خوبصورت، اجڈ، متکبر اور بہت جمع کرنے والے ہوتے ہیں اور جنتی لوگ کمزور اور مغلوب ہوتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے شعبہ اور ثوری کی حدیث معبد بن خالد کے ذریعے سیدنا حارثہ بن وھب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مختصراً روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3886]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3886 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 11/ (6580) عن أبي عبد الرحمن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد - دون ذكر أهل الجنة، ولم يذكر التلاوة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11/6580) نے ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن یزید المقرئ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے - بغیر "اہل جنت" کے ذکر کے، اور نہ ہی اس میں تلاوت کا ذکر کیا۔
وأخرجه أحمد أيضًا (7010) من طريق عبد الله بن المبارك، عن موسى بن علي، به - ولم يذكر التلاوة أيضًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (7010) نے عبد اللہ بن مبارک کے طریق سے، انہوں نے موسیٰ بن علی سے اسی طرح روایت کیا ہے - اور اس میں بھی تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔
وانظر ما سلف برقم (203).
📖 حوالہ / مصدر: ملاحظہ ہو جو پہلے نمبر (203) پر گزر چکا ہے۔
(2) البخاري برقم (4918) و (6071) و (6657)، ومسلم برقم (2853) (46) و (47). وانظر تمام تخريجه في "مسند أحمد" 31/ (18728).
📖 حوالہ / مصدر: بخاری (4918، 6071، 6657) اور مسلم (2853/46، 47)۔ اس کی مکمل تخریج "مسند احمد" (31/18728) میں دیکھیں۔