المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
369. تفسير سورة الحاقة
تفسیر سورۂ الحاقہ
حدیث نمبر: 3888
أخبرنا أبو بكر الشافعي، حدثنا إسحاق بن الحسن، حدثنا أبو حُذَيفة، حدثنا سفيان، عن منصور، عن مجاهد، عن أبي مَعمَر، عن عبد الله بن مسعود في قوله ﷿: ﴿سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا﴾ [الحاقة: 7] ، قال: مُتتابِعاتٍ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3846 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3846 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:” الحاقہ “ (وہ حق ہونے والی) (کا مطلب ہے) ہر عمل کرنے والے کے عمل کو حق کرنے والی۔ وَمَا اَدْرَاکَ مَا الْحَاقَّۃُ ” اور تم نے کیا جانا کیسی وہ حق ہونے والی۔“ قیامت کے دن کی عظمت بیان کرنے کے لئے یوں بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: سَخَّرَھَا عَلَیْھِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمَانِیَۃَ اَیَّامٍ حُسُوْمًا (الحاقۃ: 7) ” وہ ان پر قوت سے لگا دیں سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار۔“ (کے متعلق) فرماتے ہیں (حسوماً سے مراد) مسلسل ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3888]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3888 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذ إسناد حسن من أجل أبي حذيفة - وهو موسى بن مسعود النَّهدي - وقد توبع. إسحاق بن الحسن: هو ابن ميمون أبو يعقوب الحَرْبي، وسفيان: هو الثوري، ومنصور: هو ابن معتمر، وأبو معمر: هو عبد الله بن سخبرة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ خبر "صحیح" ہے اور اس کی سند ابو حذیفہ (موسیٰ بن مسعود نہدی) کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت موجود ہے۔ اسحاق بن حسن سے مراد "ابن میمون ابو یعقوب حربی"، سفیان سے مراد "الثوری"، منصور سے مراد "ابن معتمر" اور ابو معمر سے مراد "عبد اللہ بن سخبرہ" ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 29/ 51 من طريق عبد الرحمن بن مهدي، والطبراني في "الكبير" (9061) من طريق محمد بن يوسف الفريابي، كلاهما عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی تفسیر (29/51) میں عبد الرحمن بن مہدی کے طریق سے، اور طبرانی نے "الکبیر" (9061) میں محمد بن یوسف فریابی کے طریق سے، دونوں نے سفیان ثوری سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 312، والطبري 29/ 50 و 51 من طرق عن منصور، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے تفسیر (2/312) اور طبری (29/50، 51) نے منصور کے مختلف طرق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔