المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
382. ذِكْرُ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَفْضَلِهَا مَنْزِلَةً
جنت کے سب سے ادنیٰ اور سب سے اعلیٰ درجے والے کا بیان
حدیث نمبر: 3923
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا أبو معاوية، حدَّثنا عبد الملك بن أَبجَرَ، عن ثُوَير بن أبي فاختة، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ أدنى أهل الجنة منزلةً، لَرجلٌ يَنظُر في مُلكِ الفَي سنةٍ، يَرى أقصاه كما يَرى أدناه، يَنظُر في أزواجِه وخَدَمِهِ وسُرُرِه، وإِنَّ أفضل أهل الجنة منزلةً، لمَن يَنظُر في وجه الله تعالى كلَّ يومٍ مرَّتين" (2) . تابعه إسرائيلُ بن يونس عن ثُوَير:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3880 - بل هو واهي الحديث يعني ثوير بن أبي فاختة
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3880 - بل هو واهي الحديث يعني ثوير بن أبي فاختة
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ جنت میں سے ادنیٰ درجے کا وہ شخص ہوگا جو اپنی سلطنت میں دو ہزار سال کی مسافت تک نظر دوڑائے گا، وہ اس کے آخری سرے کو ویسے ہی دیکھے گا جیسے قریب کے حصے کو دیکھتا ہے، وہ اپنی بیویوں، خادموں اور تخت و شاہی کو دیکھ رہا ہوگا، اور اہل جنت میں سب سے افضل درجے کا وہ شخص ہوگا جو ہر روز دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے چہرے کا دیدار کرے گا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3923]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف ثوير بن أبي فاختة، ووهاه الذهبي في "تلخيصه".» [ترقيم الرساله 3923] [ترقيم الشركة 3902] [ترقيم العلميه 3880]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف ثوير بن أبي فاختة
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3923 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف ثوير بن أبي فاختة، ووهاه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ثویر بن ابی فاختہ کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے، اور ذہبی نے "تلخیص" میں اسے کمزور قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 8/ (4623) عن أبي معاوية محمد بن خازم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (8/4623) نے ابو معاویہ محمد بن خازم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الترمذي (2553 م) من طريق سفيان الثوري، عن ثوير، عن مجاهدٍ، عن ابن عمر موقوفًا. وانظر ما بعده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2553 م) نے سفيان ثوری کے طریق سے، انہوں نے ثویر سے، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عمر سے "موقوفاً" روایت کیا ہے۔ اس کے بعد والی (روایت) دیکھیں۔
Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 3923 in Urdu