🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
382. ذكر أدنى أهل الجنة وأفضلها منزلة
جنت کے سب سے ادنیٰ اور سب سے اعلیٰ درجے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3924
حدَّثَناه أبو العبَّاس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدَّثنا سعيدٌ بن مسعود، حدَّثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن ثُوَير، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ أدنى أهل الجنة منزلةً لمَن ينظُر في مُلكِ ألفَي سنةٍ، وإنَّ أفضلهم منزلةً لمَن يَنظُر في وجه الله كلَّ يومٍ مرَّتين"، ثم تلا: ﴿وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ﴾ [القيامة: 22] قال:"بالبياض والصَّفاءِ" ﴿إِلَى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ﴾ [القيامة: 23] ، قال:"يَنظُر كلَّ يومٍ في وجه الله ﷿" (1) .
هذا حديث مفسَّر في الردِّ على المبتدعة، وثُوَيرُ بن أبي فاختة وإن لم يُخرجاه، فلم يُنقَمْ عليه غيرُ التشيُّع (2) .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہلِ جنت میں سب سے ادنیٰ مرتبے والا وہ شخص ہوگا جو اپنی سلطنت کو دو ہزار سال (کی مسافت) تک دیکھے گا، اور ان میں سب سے افضل مرتبے والا وہ ہوگا جو ہر روز دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے چہرے (دیدار) کی طرف دیکھے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: بہت سے چہرے اس دن ترو تازہ ہوں گے، (راوی کہتے ہیں کہ اس سے مراد) سفیدی اور صفائی ہے، اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے، فرمایا: وہ ہر روز اللہ عزوجل کے چہرے کی طرف دیکھیں گے۔ یہ حدیث بدعتیوں کے رد میں ایک واضح تفسیر ہے، اور ثویر بن ابی فاختہ (اس کے راوی ہیں)، اگرچہ شیخین نے ان سے روایت تخریج نہیں کی، لیکن ان پر سوائے تشیع (شیعہ ہونے) کے اور کوئی اعتراض نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3924]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3924 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند بھی پچھلی (سند) کی طرح "ضعیف" ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 9/ (5317)، والترمذي (2553) و (3330) من طريقين عن إسرائيل، بهذا الإسناد. وانظر ما قبله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (9/5317) اور ترمذی (2553، 3330) نے اسرائیل سے دو مختلف طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ اس سے پہلے والی (روایت) دیکھیں۔
(2) تعقبه الذهبي بقوله: بل هو واهي الحديث.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ذہبی نے ان کا تعاقب کرتے ہوئے فرمایا: "بلکہ وہ (ثویر) واہی الحدیث (انتہائی کمزور) ہے"۔