🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
408. تفسير سورة { والليل إذا يغشى } - ستة لعنهم الله وكل نبي مجاب
تَفْسِيرُ سُورَةِ {وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى} - سِتَّةٌ لَعَنَهُمُ اللهُ وَكُلُّ نَبِيٍّ مُجَابٌ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3986
حدَّثنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارَى، حدَّثنا صالح بن محمد بن حبيب الحافظ، حدَّثنا سعيدٌ بن يحيى الأُمَوي، حدثني عمِّي عبد الله بن سعيد، عن زياد بن عبد الله، عن محمد بن إسحاق قال: حدثني محمد بن عبد الله بن أبي عَتِيق، عن عامر بن عبد الله بن الزُّبير، عن أبيه قال: قال أبو قُحَافة لأبي بكر: أَراك تُعتِقُ رِقابًا ضِعافًا، فلو أنك إذ فعلتَ ما فعلتَ، أعتقتَ رجالًا جُلْدًا يَمنعونَك ويقومون دُونَك، فقال أبو بكر: يا أبت، إني إنما أريدُ ما أريد، إنما نَزَلت هذه الآياتُ فيه: ﴿فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى (5) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى (6) فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى﴾ إلى قوله ﷿: ﴿وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَى (19) إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَى (20) وَلَسَوْفَ يَرْضَى﴾ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. 93 - تفسير سورة (والضُّحى)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3942 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا: میں تجھے دیکھتا ہوں کہ تو کمزور غلاموں کو آزاد کرتا ہے، اگر تو طاقتور اور مضبوط غلاموں کو آزاد کرے تو تیرا دفاع کریں اور تیرے ساتھ مل کر دشمن کا مقابلہ کریں۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابا جی! میں نے تو جو بھی ارادہ کیا ہے اس آیت کے نزول پر کیا ہے: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى۔ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى۔ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى (سورۃ الیل: 5، 6، 7) تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی، اور سب سے اچھی کو سچ مانا، تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کر دیں گے۔ اس آیت تک: وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓی اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی وَ لَسَوْفَ یَرْضٰی (سورۃ الیل: 19، 20، 21) اور کسی کا اس پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جائے، صرف اپنے رب کی رضا چاہتا ہے جو سب سے بلند ہے، اور بیشک قریب ہے کہ وہ راضی ہو گا ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3986]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3986 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن، والمحفوظ فيه أنه من رواية عامر بن عبد الله بن الزبير عن بعض أهله - لم يسمه - قال: قال أبو قحافة … هكذا رواه ابن هشام في "السيرة" 1/ 319 عن زياد بن عبد الله البكائي، وكذا رواه أحمد بن حنبل وابنه في "فضائل الصحابة" (66) و (291) - ومن طريقه الواحدي في "أسباب النزول" (855) وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 69 من طريق إبراهيم بن سعد الزهري، والطبري في "تفسيره" 30/ 221 من طريق عبد الرحمن بن محمد المحاربي، كلاهما عن ابن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس میں "محفوظ" یہ ہے کہ یہ عامر بن عبد اللہ بن زبیر کی اپنے بعض گھر والوں (نامعلوم) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ابو قحافہ نے کہا...۔ اسے ابن ہشام نے "السیرۃ" (1/319) میں زیاد بن عبد اللہ بکائی سے، اور احمد بن حنبل اور ان کے بیٹے نے "فضائل الصحابہ" (66، 291) میں - اور ان کے طریق سے واحدی نے "اسباب النزول" (855) اور ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (30/69) میں ابراہیم بن سعد زہری کے طریق سے - اور طبری نے تفسیر (30/221) میں عبد الرحمن بن محمد محاربی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں ابن اسحاق سے روایت کرتے ہیں۔