المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
414. تفسير سورة ( اقرأ باسم ربك الذى خلق )
تفسیر سورہ اقراء (سورہ العلق)
حدیث نمبر: 3997
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن شَيْبان الرَّمْلي، حدَّثنا سفيان بن عُيَينة، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: أولُ سورةٍ نزلت من القرآن ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ﴾ (2) . فإذا ابن عُيينة لم يَسمعْه من الزهري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3953 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3953 - على شرط مسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: قرآن کریم کی نازل ہونے والی سب سے پہلی سورۃ اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ ” پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔“ ہے۔ ٭٭ لیکن ابن عیینہ نے زہری سے یہ حدیث نہیں سنی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3997]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3997 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، رجاله ثقات غير أحمد بن شيبان فصدوق، وبين سفيان بن عيينة والزهري فيه ابن إسحاق، وقد بيَّن سفيان فيما سلف عند المصنف برقم (2910) من حديث ابن أبي عمر العدني عنه: أنَّ ابن إسحاق حفظه لهم عن الزهري. وانظر ما بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اس کے راوی ثقہ ہیں سوائے احمد بن شیبان کے جو "صدوق" ہیں۔ سفیان بن عیینہ اور زہری کے درمیان "ابن اسحاق" ہیں، اور سفیان نے مصنف کے ہاں پہلے نمبر (2910) پر ابن ابی عمر العدنی کی حدیث میں بیان کر دیا ہے کہ ابن اسحاق نے زہری سے سن کر اسے ان (سفیان وغیرہ) کے لیے محفوظ کیا۔ اس کے بعد والی (حدیث) دیکھیں۔