🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
414. تفسير سورة ( اقرأ باسم ربك الذى خلق )
تفسیر سورہ اقراء (سورہ العلق)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3998
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: حدَّثنا بِشْر بن موسى، حدَّثنا الحُميدي، حدَّثنا سفيان، عن محمد بن إسحاق، عن الزُّهري، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: أولُ سورةٍ نزلت من القرآن ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (2) .
مذکورہ سند کے ہمراہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ قرآن کریم کی سب سے پہلی سورۃ اقراء باسم ربک نازل ہوئی۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 3998]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 3998 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق. وهو مكرر ما سلف برقم (2909) عن أبي بكر بن إسحاق وحده.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے اور اس کی سند محمد بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔ یہ نمبر (2909) پر ابو بکر بن اسحاق سے اکیلے مروی ہو کر گزر چکی ہے۔
(2) بل أخرجا معناه ضمن حديث بَدْء الوحي من حديث غير واحد عن الزهري عن عروة عن عائشة كما سيأتي برقم (4903).
📖 حوالہ / مصدر: بلکہ (شیخین) نے اس کے مفہوم کو "آغاز وحی" کی حدیث کے ضمن میں کئی راویوں سے زہری عن عروہ عن عائشہ کے طریق سے روایت کیا ہے، جیسا کہ آگے نمبر (4903) پر آئے گا۔