🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
429. تفسير سورة الكوثر - صفة الكوثر
تفسیر سورہ الکوثر - حوضِ کوثر کی صفات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4023
أخبرني إبراهيم بن عِصْمةَ بن إبراهيم العَدْل، حدَّثنا أبي، حدَّثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا هُشَيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس: ﴿إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ﴾ قال: الكوثرُ: الخيرُ الكثير الذي أعطاه الله إياه. قال أبو بِشْر: فقلتُ لسعيد: إنَّ ناسًا يَزعُمون أنه نهرٌ في الجنة، فقال: والنهرُ من الخير الكثير (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه! فأما قولُه ﷿: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾، فقد اختلف الصحابةُ في تأويلها، وأحسنُها ما رُوي عن أمير المؤمنين عليّ بن أبي طالب في روايتين: الأولى منهما:
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ (میں کوثر سے مراد) خیر کثیر ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا۔ ابوبشر کہتے ہیں: میں نے سعید سے کہا: لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنت میں ایک نہر ہے۔ تو انہوں نے کہا: نہر تو ہے پر وہ خیر کثیر کی نہر ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَ انْحَرْ کی تاویل میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں اختلاف پایا جاتا ہے، ان سب میں سب سے بہتر تاویل امیرالمومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے مروی درج ذیل دو رواتیں ہیں۔ پہلی روایت: [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4023]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4023 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. يحيى بن يحيى: هو النيسابوري، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشية.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ یحییٰ بن یحییٰ سے مراد "نیشاپوری" اور ابو بشر سے مراد "جعفر بن ابی وحشیہ" ہیں۔
وأخرجه البخاري (4966) و (6578)، والنسائي (11640) من طرق عن هشيم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4966، 6578) اور نسائی (11640) نے ہشیم سے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: لہٰذا حاکم کا اسے مستدرک میں لانا ان کا "ذہول" ہے۔
وانظر ما سيأتي برقم (6387).
📖 حوالہ / مصدر: اور جو آگے نمبر (6387) پر آئے گا اسے دیکھیں۔

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4023M
من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3979 - على شرط البخاري ومسلم
0 [المستدرك على الصحيحين/كتاب التفسير/حدیث: 4023M]