🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. أخذ الله الميثاق من ظهر آدم بعرفة
اللہ تعالیٰ کا عرفات میں سیدنا آدم علیہ السلام کی پشت سے عہد لینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4044
أخبرنا عبد الصمد بن علي بن مُكْرَم ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد الصائغ، حدثنا الحسين بن محمد المَرْوَرُّوذي، حدثنا جرير بن حازم، عن كُلثوم بن جبر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، عن النبي ﷺ قال:"أخذ الله الميثاق من ظَهْر آدم ﵇ بنَعْمان - يعني: بعَرَفة - فأَخرَجَ مِن صُلْبِهِ كلَّ ذُريَّةٍ ذَرَأها، فنثرهم بين يديه كالذَّرُ، ثم كلمهم قبلًا، وقال: ﴿أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ إلى قوله: ﴿بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ﴾ [الأعراف: 172 - 173] (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4000 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی پشت سے نعمان یعنی عرفات میں میثاق لیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی پشت سے وہ تمام مخلوق نکال لی جو اس نے پیدا کی ہے پھر ان کو آدم علیہ السلام کے سامنے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی مانند پھیلا دیا پھر ان کو متوجہ کر کے ان سے فرمایا: اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ قَالُوْآ بَلٰی شَھِدْنَا اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذَا غٰفِلِیْنَ اَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَآ اَشْرَکَ ٰابَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ بَعْدِھِمْ اَفَتُھْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ (الاعراف: 172,173) کیا میں تمہارا رب نہیں۔ سب بولے کیوں نہیں ہم گواہ ہوئے کہ کہیں قیامت کے دن کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہ تھی، یا کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے باپ دادا نے کیا اور ہم ان کے بعد بچے ہوئے تو کیا تو ہمیں اس پر ہلاک فرمائے گا جو اہل باطل نے کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4044]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4044 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده جيد وإن كان أكثر من رواه عن كلثوم بن جبر وقفوه على ابن عباس، وكذلك رواه غير واحد عن سعيد بن جُبَير فوقفوه، فإنَّ مثله لا يُقال بمحض الرأي، ويؤيد ذلك وروده مرفوعًا في أحاديث أخرى عن غير ابن عباس.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "جید" ہے، اگرچہ کلثوم بن جبر سے روایت کرنے والے اکثر راویوں نے اسے ابن عباس پر "موقوف" کیا ہے، اور اسی طرح سعید بن جبیر سے ایک سے زائد راویوں نے اسے موقوف روایت کیا ہے، لیکن ایسی بات محض رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔ اور اس کی تائید دیگر احادیث میں ابن عباس کے علاوہ دوسروں سے "مرفوعاً" وارد ہونے سے بھی ہوتی ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2455)، وأخرجه النسائي (11127) عن محمد بن عبد الرحيم، كلاهما (أحمد وابن عبد الرحيم) عن الحسين بن محمد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (4/2455) اور نسائی (11127) نے محمد بن عبد الرحیم سے، دونوں (احمد اور ابن عبد الرحیم) نے حسین بن محمد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم برقم (75) من طريق وهب بن جرير عن أبيه.
📖 حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (75) پر وہب بن جرير عن ابیہ کے طریق سے گزر چکی ہے۔
والذَّر: النمل الأحمر الصغير.
📝 نوٹ / توضیح: "الذر": چھوٹی سرخ چیونٹی۔
وقوله: قبلًا، ضبط بوجوه، بفتح القاف والباء، وبضمهما، وبضم الأول وفتح الثاني، وبكسر الأول وفتح الثاني، كله بمعنى العيان والمقابلة.
📝 نوٹ / توضیح: قول "قُبُلاً": یہ کئی طرح ضبط کیا گیا ہے: قاف اور با کے فتحہ (زبر) کے ساتھ، دونوں کے ضمہ (پیش) کے ساتھ، پہلے کے ضمہ اور دوسرے کے فتحہ کے ساتھ، اور پہلے کے کسرہ (زیر) اور دوسرے کے فتحہ کے ساتھ۔ ان سب کا معنی "آنکھوں کے سامنے" اور "آمنے سامنے" ہے۔