🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بيان الاختلاف فى أن الذبيح إسماعيل أو إسحاق
اس بات میں اختلاف کا بیان کہ ذبیح سیدنا اسماعیل علیہ السلام تھے یا سیدنا اسحاق علیہ السلام
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4081
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر الخَوْلاني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عُمر بن قيس، عن عطاء بن أبي رباح، عن عبد الله بن عبّاس أنه قال: المُفدَّى إسماعيل، وزَعَمتِ اليهود أنه إسحاق وكَذَبتِ اليهود (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4037 - سمعه ابن وهب منه يعني من عمر بن قيس وهو هالك
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جن کا فدیہ (مینڈھے کے طور پر) دیا گیا تھا وہ سیدنا اسماعیل علیہ السلام ہیں جبکہ یہودی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ سیدنا اسحاق علیہ السلام ہیں۔ یہودی جھوٹے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4081]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4081 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده واهٍ من أجل عمر بن قيس - وهو المكي، المعروف بسندل - فهو متروك الحديث وكذبه مالك. ويُغني عن روايته هذه رواية غيره ممن رواه عن ابن عبّاس، كما تقدم برقم (3654) و (4078)، وكما سيأتي بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہٍ" (سخت کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس کی وجہ "عمر بن قیس" ہیں (جو مکی ہیں اور "سندل" کے نام سے معروف ہیں)۔ یہ "متروک الحدیث" ہیں اور امام مالک نے انہیں جھوٹا کہا ہے۔ ان کی اس روایت سے بے نیازی اس لیے ہے کہ دوسروں نے بھی ابن عباس سے یہ روایت بیان کی ہے، جیسا کہ نمبر (3654) اور (4078) پر گزرا اور آگے بھی آئے گا۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 23/ 84، وفي "تاريخه" 1/ 268 عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے اپنی تفسیر 23/ 84 اور تاریخ 1/ 268 میں یونس بن عبدالاعلیٰ سے، انہوں نے عبداللہ بن وہب سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔