🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. ذكر إسحاق بن إبراهيم صلوات الله وسلامه عليهما
سیدنا اسحاق بن سیدنا ابراہیم علیہما السلام کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4086
أخبرني أبو أحمد محمد بن إسحاق العَدْل الصَّفّار، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن حماد، حدثنا أسباط بن نصر، عن السُّدِّي، عن عكرمة، عن ابن عبّاس، قال: كانت سارة بنت تسعين سنة وإبراهيم ابن عشرين ومئة سنة، فلما ذهب عن إبراهيم الرَّوعُ وجاءته البشرى بإسحاق وأمن ممن كان يخافه، قال: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّي لَسَمِيعُ الدُّعَاءِ (39)[إبراهيم: 39] ، فجاء جبريل ﵇ إلى سارة بالبشرى، فقال أبشري بولد يقال له: إسحاق، ومن وراء إسحاق يعقوب، قال: فضربت جبهتها عجبًا، فذلك قوله: ﴿فَصَكَّتْ وَجْهَهَا﴾ [الذاريات: 29] ، وقالت: ﴿أَأَلِدُ وَأَنَا عَجُوزٌ وَهَذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ (72) قَالُوا أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ رَحْمَتُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ﴾ [هود: 72 - 73] (1) . قد احتج البخاري بعِكرمة واحتج مسلم بالسُّدِّي، والحديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4042 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا سارہ 90 سال کی تھیں اور سیدنا ابراہیم علیہ السلام 120 سال کے تھے۔ جب ابراہیم علیہ السلام کا خوف زائل ہوا اور انہیں سیدنا اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری ملی اور اس چیز سے ان کو امن ہو گیا جس سے وہ خوفزدہ تھے تو بولے۔ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام دئیے، بے شک میرا رب دعا سننے والا ہے۔ تو سیدنا جبریل علیہ السلام سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک بیٹے کی خوشخبری لے کر آئے، جن کا نام اسحاق علیہ السلام ہے اور اسحاق علیہ السلام کے بعد یعقوب علیہ السلام آپ (سیدنا سارہ رضی اللہ عنہا) نے حیرانگی کے عالم میں اپنا ماتھا پکڑ لیا۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فصکت وجھھا (پھر اپنا ماتھا ٹھونکا) اور بولیں: میں بچہ جنوں گی؟ حالانکہ میں بوڑھی ہوں اور میرا شوہر بھی بوڑھا ہے۔ یہ بڑی عجیب شے ہے۔ فرشتے بولے: کیا اللہ تعالیٰ کے کام کو عجیب سمجھتی ہو؟ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں تم پر اس گھر والو، بے شک وہی ہے سب خوبیوں والا عزت والا۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے عکرمہ رضی اللہ عنہ کی اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سدی کی روایات نقل کی ہیں اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4086]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4086 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) رجاله لا بأس بهم، لكنه اختلف فيه عن عمرو بن حماد في ذكر التابعي، فذكر فيه أحمد بن نصر - وهو أحمد بن محمد نصر اللباد - عكرمة، وخالفه موسى بن هارون الطُّوسي، فذكر أبا صالح باذام مولى أم هانئ، وهذا أقوى وأثبت من رواية اللباد. وأبو صالح هذا ضعيف الحديث، لكنه لم ينفرد به كما سيأتي السُّدِّي: هو إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كريمة.
⚖️ درجۂ راوی: اس کے رجال میں کوئی حرج نہیں ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن اس میں عمرو بن حماد سے تابعی کا نام ذکر کرنے میں اختلاف ہوا ہے۔ احمد بن نصر (اللباد) نے "عکرمہ" کا ذکر کیا، جبکہ موسیٰ بن ہارون الطوسی نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے "ابو صالح باذام" (مولیٰ ام ہانی) کا ذکر کیا۔ یہ (موسیٰ کی روایت) اللباد کی روایت سے زیادہ قوی اور ثابت ہے۔ اگرچہ ابو صالح "ضعیف الحدیث" ہیں، لیکن وہ اس میں منفرد نہیں ہیں جیسا کہ آگے آئے گا۔ (راوی) سدی سے مراد "اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی کریمہ" ہیں۔
فقد أخرجه الطبري في "تاريخه" 1/ 271 عن موسى بن هارون، عن عمرو بن حماد، عن أسباط، عن السُّدِّي، في خبر ذكره عن أبي مالك، وعن أبي صالح، عن ابن عبّاس، وعن مُرة الهَمْداني، عن عبد الله - يعني ابن مسعود - وعن ناس من أصحاب رسول الله ﷺ، قال: قال جبريل لسارة … كذا قال في هذه الرواية، ولم يتعرض فيها لذكر سِنِّ إبراهيم وسارة لما بُشِّرا بإسحاق. وهذا القدر المذكور حسن الإسناد من رواية السُّدِّي عن مرة وعن ناس من الصحابة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تاریخ" 1/ 271 میں موسیٰ بن ہارون سے، انہوں نے عمرو بن حماد سے، انہوں نے اسباط سے، انہوں نے سدی سے روایت کیا ہے۔ سدی نے یہ خبر ابو مالک سے، ابو صالح سے (جو ابن عباس سے روایت کرتے ہیں)، اور مرہ الہمْدانی سے (جو عبداللہ بن مسعود سے)، اور کچھ صحابہ سے نقل کی ہے کہ: "جبرائیل نے سارہ سے کہا..."۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں حضرت ابراہیم اور سارہ کی عمروں کا ذکر نہیں ہے۔ اور یہ حصہ سدی کی روایت (عن مرہ و ناس من الصحابہ) کی وجہ سے "حسن الاسناد" ہے۔
والظاهر أنَّ ما وقع هنا من ذكر سنِّ إبراهيم وسارة متلقّى عن أهل الكتاب كما تدل عليه رواية محمد بن إسحاق عند ابن أبي حاتم في "تفسيره" 6/ 2056 قال: ذكر لي عن بعض من قرأ الكتاب أن سارة كانت بنت تسعين سنة. ثم قال عن إبراهيم: وهو ابن عشرين ومئة سنة.
📌 تحقیق: ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت ابراہیم اور سارہ کی عمروں کا جو ذکر ہے وہ "اہلِ کتاب" سے لیا گیا ہے، جیسا کہ ابن ابی حاتم (6/ 2056) میں محمد بن اسحاق کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں: "مجھے ان لوگوں سے ذکر کیا گیا جو کتاب (تورات) پڑھتے ہیں کہ سارہ 90 سال کی تھیں اور ابراہیم 120 سال کے۔"