🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. حلية إسحاق - عليه السلام -
سیدنا اسحاق علیہ السلام کی وضع قطع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4087
أخبرني أبو سعيد أحمد بن محمد الأحمسي، حدثنا الحسين بن حميد بن الربيع، حدثنا مروان بن جعفر السَّمُري، حدثنا حميد بن معاذ، حدثنا مُدرِك بن عبد الرحمن، حدثنا الحسن بن ذكوان، عن الحسن، عن سَمُرة، عن كعب الأحبار، قال: ثم كان إسحاق بن إبراهيم الذي جعله الله نورًا وضياءً وقرة عينٍ لوالديه، فكان من أحسن الناس وجهًا وأكثره جمالًا وأحسنِه مَنطِقًا، فكان أبيضَ جَعْدَ الرأس واللحية، مُشبَّهًا بإبراهيم خَلْقًا وخُلقًا، ووُلِد لإسحاق يعقوب وعيصا، فكان يعقوب أحسنَهما وأنطقَهما وأكثرهما جمالًا وظَرْفًا، وكان عيصا كثير شعر الجسد والوجه والرأس، وكان يسكُن الروم فيما حدَّثَ سَمُرة بن جُندب (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4043 - إسناده واه
سیدنا کعب الاحبار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر سیدنا اسحاق بن ابراہیم علیہما السلام وہ تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے نور اور روشنی، ان کے والدین کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک بنایا۔ وہ سب سے زیادہ حسین تھے، سب سے اچھی گفتگو کے مالک تھے۔ ان کا رنگ سفید تھا، سر اور داڑھی کے بال گھنگریالے تھے، صورت و سیرت میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے ملتے جلتے تھے اور سیدنا اسحاق علیہ السلام کے ہاں یعقوب علیہ السلام اور عیص پیدا ہوئے۔ ان دونوں میں سے سیدنا یعقوب علیہ السلام زیادہ خوبصورت، زیادہ فصیح و بلیغ زیادہ ظرف کے مالک تھے جبکہ عیص کے سر، جسم اور چہرے پر بہت زیادہ بال تھے اور یہ روم میں رہتے تھے جہاں پر سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ حدیث کا درس دیتے رہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4087]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4087 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده واهٍ كما قال الذهبي في "تلخيصه"، وقد تقدم الكلام على رجاله برقم (4059).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "واہٍ" (بہت کمزور) ہے جیسا کہ ذہبی نے تلخیص میں کہا، اور اس کے رجال پر کلام نمبر (4059) میں گزر چکا ہے۔