🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. ذكر نبي الله داود صاحب الزبور - عليه السلام -
اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام، زبور والے، کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4176
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، قال: وأخبرني عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، في قول الله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ إلى قوله: ﴿وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴾ [البقرة: 243 - 246] ، قال: أوحَى اللهُ إلى نبيِّهم: أنْ في ولدِ فُلانٍ رجلٌ يَقتُل اللهُ به الجالوتَ، ومن علامَتِه هذا القَرْنُ تضعُه على رأسِه فيَفيضُ ماءً، فأتاه، فقال: إنَّ الله أوحَى إليَّ أنَّ في ولدك رجلًا يقتُل اللهُ به جالوتَ، قال: نعم يا نبيَّ الله، قال: فأخرجَ له اثنَي عَشَر رجلًا أمثالَ السَّواري، وفيهم رجلٌ بارعٌ عليهم، فجعل يَعرِضُهم على القَرْن، فلا يَرى شيئًا، قال: فقال: إنَّ لك غيرَ هؤلاء لَولَدٌ، قال: نعم يا نبي الله، لي ولد قَصِيرٌ استحييتُ أن يَراه الناسُ، فجعلتُه في الغَنَم، قال: فأين هو؟ قال: هو في شِعْبِ كذا وكذا، قال: فخرج إليه، فقال: هذا هو لا شَكَّ فيه، قال: فَوَضَعَ القَرْنَ على رأسِه ففاضَ (1) (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4131 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کے بارے میں فرماتے ہیں: اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ ھُمْ اُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَھُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْیَاھُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ اعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً وَ اللّٰہُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُطُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّھُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَالَ ھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلاَّ تُقَاتِلُوْا قَالُوْا وَ مَا لَنَآ اَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ (البقرۃ: 243 تا 246) اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اللہ نے ان سے فرمایا مر جاؤ پھر انہیں زندہ فرما دیا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔ اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے۔ ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا۔ اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا جب اپنے ایک پیغمبر سے بولے ہمارے لیے کھڑا کر دو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو، بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں آدمی کی اولاد میں ایک شخص ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو ہلاک فرمائے گا۔ اس کی نشانی یہ سینگ ہے، یہ اس کے سر پر رکھا جائے گا تو جو زائد ہو گا وہ خود ہی سمٹ جائے گا۔ وہ نبی علیہ السلام اس آدمی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے بتایا ہے کہ تیری اولاد میں ایک بچہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو قتل کرے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے نبی ٹھیک ہے۔ اس نے ستونوں کی طرح (دراز قد) بارہ لڑکے ان کے سامنے کئے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی تھا جو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ علم و فضل کا مالک تھا۔ آپ نے ہر ایک پر سینگ رکھ کر دیکھا لیکن کسی کو پورا نہ آیا، انہوں نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی تیرا کوئی لڑکا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ تعالیٰ کے نبی۔ ایک کوتاہ قد لڑکا اور بھی ہے اس کو لوگوں کے سامنے لاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے، اس لئے میں نے اس کو بکریوں کے ریوڑ میں ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے بتایا: فلاں فلاں گھاٹی میں ہے۔ وہ اس کی طرف چل دئیے (جب اس کو دیکھا تو) فرمایا: یہی ہے وہ، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ پھر انہوں نے وہ سینگ اس کے سر پر رکھا اور واپس آ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4176]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4176 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: فقام، والمثبت على الصواب من رواية ابن وهب عند الطبري في "التفسير" 2/ 630، وهو الذي استظهره صاحب نسخة (ص) في هامشها.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "فقام" ہو گیا تھا، درست متن ابن وہب کی روایت سے ثابت کیا گیا ہے جو طبری کی "تفسیر" 2/ 630 میں ہے، اور نسخہ (ص) کے مالک نے بھی حاشیے میں اسی کو ظاہر کیا ہے۔
(2) رجاله ثقات غير عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، فضعيف، وهو صاحب قرآن وتفسير، كما قال الذهبي في "السير" 8/ 349، وقد جاء نحوه من رواية السُّدِّي - وهو إسماعيل بن عبد الرحمن - عن أبي مالك وأبي صالح عن ابن عبّاس، وعن مُرَّة عن ابن مسعود، وعن ناس من أصحاب رسول الله ﷺ. وسنده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں سوائے عبد الرحمن بن زید بن اسلم کے، وہ ضعیف ہیں، اور وہ صاحبِ قرآن و تفسیر ہیں جیسا کہ ذہبی نے "السیر" 8/ 349 میں کہا۔ 🧩 متابعات و شواہد: اسی طرح کی روایت سدی (اسماعیل بن عبد الرحمن) سے بھی مروی ہے جو ابو مالک اور ابو صالح کے واسطے سے ابن عباس سے، مرہ کے واسطے سے ابن مسعود سے، اور رسول اللہ ﷺ کے کچھ صحابہ سے روایت کرتے ہیں، اور اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 2/ 630 - 631، وفي "تاريخه" 1/ 476 عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، لم يُجاوزه، فجعله من تفسيره لا من تفسير أبيه زيد بن أسلم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" 2/ 630-631 اور "تاریخ" 1/ 476 میں یونس بن عبد الاعلیٰ سے، انہوں نے عبد اللہ بن وہب سے، انہوں نے عبد الرحمن بن زید بن اسلم سے روایت کیا اور اسے اوپر (مرفوع یا موقوف علی الصحابی) نہیں کیا، بلکہ اسے ان کی اپنی تفسیر قرار دیا نہ کہ ان کے والد زید بن اسلم کی تفسیر۔
وأخرج روايةَ السُّدِّيِّ الطبريُّ في "تفسيره" 2/ 629، وفي "تاريخه" 1/ 472 بالإسناد الذي أسلفنا ذكره، بيَّنه الطبري في "تاريخه" 2/ 467، واختصره في "التفسير" فقال: عن السَّدِّي، قال: فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: سدی والی روایت کو طبری نے "تفسیر" 2/ 629 اور "تاریخ" 1/ 472 میں اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے جس کا ذکر ہم کر چکے ہیں۔ طبری نے "تاریخ" 2/ 467 میں اسے واضح کیا ہے جبکہ "تفسیر" میں اسے مختصر کرتے ہوئے کہا: "عن السدی، قال..."