🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

62. ذِكْرُ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ صَاحِبِ الزَّبُورِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -
اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام، زبور والے، کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4175
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المنعم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: وكان نبيُّ الله داودُ ابنَ إيشا بن عُوبِد بن باعَز بن سَلْمون بن نَحْشون بن نادَب بن رام بن حَصْرون بن فارَص (3) بن يَهُوذا بن يعقوب بن إسحاق بن إبراهيم الخليل، وكان رجلًا قصيرًا أزرق، قليلَ الشَّعر، طاهرَ القلب، فقيهًا (4) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4130 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ (سیدنا داؤد علیہ السلام کا نسب بیان کرتے ہوئے) فرماتے ہیں: دَاوٗدَ بْنِ اِیْشَا بْنِ عَوْبِدٍ بْنِ بَاعِرٍ بْنِ سَلْمُوْنَ بْنِ یَحْسُوْنَ بْنِ یَارِبٍ بْنِ رَامٍ بْنِ حَضْرُوْنَ بْنِ فَارِصٍ بْنِ یَھُوْدَا بْنِ یَعْقُوْبَ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ الْخَلِیْل آپ متوسط القامت تھے، خوبصورت تھے۔ آپ کے (سر پر) کم بال تھے۔ پاکیزہ دل والے اور فقیہہ تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4175]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4176
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، قال: وأخبرني عبد الرحمن بن زيد بن أسلم، عن أبيه، في قول الله: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ﴾ إلى قوله: ﴿وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ﴾ [البقرة: 243 - 246] ، قال: أوحَى اللهُ إلى نبيِّهم: أنْ في ولدِ فُلانٍ رجلٌ يَقتُل اللهُ به الجالوتَ، ومن علامَتِه هذا القَرْنُ تضعُه على رأسِه فيَفيضُ ماءً، فأتاه، فقال: إنَّ الله أوحَى إليَّ أنَّ في ولدك رجلًا يقتُل اللهُ به جالوتَ، قال: نعم يا نبيَّ الله، قال: فأخرجَ له اثنَي عَشَر رجلًا أمثالَ السَّواري، وفيهم رجلٌ بارعٌ عليهم، فجعل يَعرِضُهم على القَرْن، فلا يَرى شيئًا، قال: فقال: إنَّ لك غيرَ هؤلاء لَولَدٌ، قال: نعم يا نبي الله، لي ولد قَصِيرٌ استحييتُ أن يَراه الناسُ، فجعلتُه في الغَنَم، قال: فأين هو؟ قال: هو في شِعْبِ كذا وكذا، قال: فخرج إليه، فقال: هذا هو لا شَكَّ فيه، قال: فَوَضَعَ القَرْنَ على رأسِه ففاضَ (1) (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4131 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے درج ذیل ارشاد کے بارے میں فرماتے ہیں: اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ وَ ھُمْ اُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَھُمُ اللّٰہُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْیَاھُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَی النَّاسِ وَ ٰلکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْکُرُوْنَ وَ قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ اعْلَمُوْآ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ اَضْعَافًا کَثِیْرَۃً وَ اللّٰہُ یَقْبِضُ وَ یَبْصُطُ وَ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ اَلَمْ تَرَ اِلَی الْمَلَاِ مِنْ بَنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ مِنْ بَعْدِ مُوْسٰی اِذْ قَالُوْا لِنَبِیٍّ لَّھُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِکًا نُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ قَالَ ھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِتَالُ اَلاَّ تُقَاتِلُوْا قَالُوْا وَ مَا لَنَآ اَلاَّ نُقَاتِلَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ قَدْ اُخْرِجْنَا مِنْ دِیَارِنَا وَ اَبْنَآئِنَا فَلَمَّا کُتِبَ عَلَیْھِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا اِلَّا قَلِیْلًا مِّنْہُمْ وَ اللّٰہُ عَلِیْمٌ بِالظّٰلِمِیْنَ (البقرۃ: 243 تا 246) اے محبوب کیا تم نے نہ دیکھا تھا انہیں جو اپنے گھروں سے نکلے اور وہ ہزاروں تھے موت کے ڈر سے، تو اللہ نے ان سے فرمایا مر جاؤ پھر انہیں زندہ فرما دیا، بیشک اللہ لوگوں پر فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ ناشکرے ہیں۔ اور لڑو اللہ کی راہ میں اور جان لو کہ اللہ سنتا جانتا ہے۔ ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کے لئے بہت گنا بڑھا دے اور اللہ تنگی اور کشائش کرتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پھر جانا۔ اے محبوب! کیا تم نے نہ دیکھا بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو جو موسیٰ کے بعد ہوا جب اپنے ایک پیغمبر سے بولے ہمارے لیے کھڑا کر دو ایک بادشاہ کہ ہم خدا کی راہ میں لڑیں۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا کیا تمہارے انداز ایسے ہیں کہ تم پر جہاد فرض کیا جائے تو پھر نہ کرو، بولے ہمیں کیا ہوا کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں حالانکہ ہم نکالے گئے ہیں اپنے وطن اور اپنی اولاد سے تو پھر جب ان پر جہاد فرض کیا گیا منہ پھیر گئے مگر ان میں کے تھوڑے اور اللہ خوب جانتا ہے ظالموں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی طرف وحی فرمائی کہ فلاں آدمی کی اولاد میں ایک شخص ہے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو ہلاک فرمائے گا۔ اس کی نشانی یہ سینگ ہے، یہ اس کے سر پر رکھا جائے گا تو جو زائد ہو گا وہ خود ہی سمٹ جائے گا۔ وہ نبی علیہ السلام اس آدمی کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی کے ذریعے بتایا ہے کہ تیری اولاد میں ایک بچہ ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جالوت کو قتل کرے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ تعالیٰ کے نبی ٹھیک ہے۔ اس نے ستونوں کی طرح (دراز قد) بارہ لڑکے ان کے سامنے کئے، ان میں ایک آدمی ایسا بھی تھا جو دوسروں کی بہ نسبت زیادہ علم و فضل کا مالک تھا۔ آپ نے ہر ایک پر سینگ رکھ کر دیکھا لیکن کسی کو پورا نہ آیا، انہوں نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی تیرا کوئی لڑکا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ تعالیٰ کے نبی۔ ایک کوتاہ قد لڑکا اور بھی ہے اس کو لوگوں کے سامنے لاتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے، اس لئے میں نے اس کو بکریوں کے ریوڑ میں ڈال رکھا ہے۔ انہوں نے پوچھا: وہ کہاں ہے؟ اس نے بتایا: فلاں فلاں گھاٹی میں ہے۔ وہ اس کی طرف چل دئیے (جب اس کو دیکھا تو) فرمایا: یہی ہے وہ، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ پھر انہوں نے وہ سینگ اس کے سر پر رکھا اور واپس آ گئے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4176]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4177
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا هِشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"لما خَلَقَ اللهُ آدمَ مَسَحَ ظَهْره، فخَرَجَ من ظَهْره كلُّ نَسَمةٍ هو خالقُها مِن ذُرِّيتِه إلى يوم القيامة، وجعل بين عينَي كلِّ إنسانٍ منهم وَبِيصًا من نور، ثم عَرَضَهم على آدم، فقال: أيْ ربِّ، من هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذُرِّيتُك، قال: فرأى رجلًا منهم أعجَبَه وبيصُ ما بين عينَيه، قال: يا ربِّ، مَن هذا؟ قال: هذا رجلٌ من آخِر الأمم من ذُرِّيتك، يقال له: داود، قال يا ربِّ: كم جعلتَ عُمرَه؟ قال: ستون سنةً، قال: أيْ ربِّ، زِدْهُ من عُمري أربعين سنة، قال: فلما انقضى عُمرُ آدمَ جاء مَلَكُ الموت، فقال: أولم يَبْقَ من عُمري أربعون سنة؟ قال: أوَلم تُعطِها ابنَك داود؟ قال: فجَحَدَ فجَحَدَتْ ذُرِّيتُه، ونَسيَ فنَسِيَتْ ذُرِّيته، وخَطِئَ فخَطِئَت ذُرِّيتُه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4132 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت کو مسلا تو قیامت تک جس کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنا تھا، وہ تمام کے تمام باہر نکل آئے۔ ان میں سے ہر انسان کی پشانی پر نور کی ایک کرن موجود تھی۔ پھر ان تمام کو سیدنا آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ انہوں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا اس کی پیشانی کا نور ان کو بہت اچھا لگا۔ انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیری اولاد میں سے آخری امتوں میں سے ہو گا، اس کا نام داؤد علیہ السلام ہے۔ انہوں نے پوچھا: یا اللہ! اس کی عمر تو نے کتنی رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 60 سال۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی: یا اللہ! میری عمر میں سے چالیس سال اس کو دے کر اس کی عمر بڑھا دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ بات لکھ دی جائے گی اور پھر اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہو گا۔ جب سیدنا آدم علیہ السلام کی عمر پوری ہو گئی تو (روح قبض کرنے کے لیے) ان کے پاس ملک الموت علیہ السلام آ گئے۔ آپ نے کہا: کیا میری عمر میں سے ابھی چالیس سال باقی نہیں رہتے؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نے وہ چالیس سال اپنے بیٹے سیدنا داؤد علیہ السلام کو نہیں دے دئیے تھے۔ فرمایا: آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے۔ وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے۔ ان سے خطا ہوئی تو ان کی اولاد سے بھی خطا ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ/حدیث: 4177]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں