🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. ذكر نبي الله داود صاحب الزبور - عليه السلام -
اللہ کے نبی حضرت داود علیہ السلام، زبور والے، کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4177
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا هِشام بن سعد، عن زيد بن أسلم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"لما خَلَقَ اللهُ آدمَ مَسَحَ ظَهْره، فخَرَجَ من ظَهْره كلُّ نَسَمةٍ هو خالقُها مِن ذُرِّيتِه إلى يوم القيامة، وجعل بين عينَي كلِّ إنسانٍ منهم وَبِيصًا من نور، ثم عَرَضَهم على آدم، فقال: أيْ ربِّ، من هؤلاء؟ قال: هؤلاء ذُرِّيتُك، قال: فرأى رجلًا منهم أعجَبَه وبيصُ ما بين عينَيه، قال: يا ربِّ، مَن هذا؟ قال: هذا رجلٌ من آخِر الأمم من ذُرِّيتك، يقال له: داود، قال يا ربِّ: كم جعلتَ عُمرَه؟ قال: ستون سنةً، قال: أيْ ربِّ، زِدْهُ من عُمري أربعين سنة، قال: فلما انقضى عُمرُ آدمَ جاء مَلَكُ الموت، فقال: أولم يَبْقَ من عُمري أربعون سنة؟ قال: أوَلم تُعطِها ابنَك داود؟ قال: فجَحَدَ فجَحَدَتْ ذُرِّيتُه، ونَسيَ فنَسِيَتْ ذُرِّيته، وخَطِئَ فخَطِئَت ذُرِّيتُه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4132 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو ان کی پشت کو مسلا تو قیامت تک جس کو بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا کرنا تھا، وہ تمام کے تمام باہر نکل آئے۔ ان میں سے ہر انسان کی پشانی پر نور کی ایک کرن موجود تھی۔ پھر ان تمام کو سیدنا آدم علیہ السلام کے سامنے پیش کیا۔ آدم علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیری اولاد ہے۔ انہوں نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا اس کی پیشانی کا نور ان کو بہت اچھا لگا۔ انہوں نے پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تیری اولاد میں سے آخری امتوں میں سے ہو گا، اس کا نام داؤد علیہ السلام ہے۔ انہوں نے پوچھا: یا اللہ! اس کی عمر تو نے کتنی رکھی ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 60 سال۔ آدم علیہ السلام نے عرض کی: یا اللہ! میری عمر میں سے چالیس سال اس کو دے کر اس کی عمر بڑھا دی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ بات لکھ دی جائے گی اور پھر اس میں کوئی ردوبدل نہیں ہو گا۔ جب سیدنا آدم علیہ السلام کی عمر پوری ہو گئی تو (روح قبض کرنے کے لیے) ان کے پاس ملک الموت علیہ السلام آ گئے۔ آپ نے کہا: کیا میری عمر میں سے ابھی چالیس سال باقی نہیں رہتے؟ انہوں نے کہا: کیا آپ نے وہ چالیس سال اپنے بیٹے سیدنا داؤد علیہ السلام کو نہیں دے دئیے تھے۔ فرمایا: آدم علیہ السلام نے انکار کیا تو ان کی اولاد بھی انکار کرتی ہے۔ وہ بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول جاتی ہے۔ ان سے خطا ہوئی تو ان کی اولاد سے بھی خطا ہوتی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4177]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4177 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل هشام بن سعد، وقد توبع كما قدَّمنا بيانه برقم (3296).
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند متابعات و شواہد میں "حسن" ہے ہشام بن سعد کی وجہ سے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے جیسا کہ ہم نمبر (3296) میں بیان کر چکے ہیں۔
وسلف عند المصنف برقم (215) و (216) من وجهين آخرين عن أبي هريرة.
🧾 تفصیلِ روایت: مصنف کے ہاں یہ حدیث پہلے نمبر (215) اور (216) پر ابو ہریرہ سے دو دوسرے طریقوں سے گزر چکی ہے۔