🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. قصة ولادة عيسى ابن مريم - عليهما السلام -
حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی ولادت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4201
أخبرني محمد بن إسحاق الصَّفّار العدل، حدثنا أحمد بن نصر، حدثنا عمرو بن حمّاد، حدثنا أسباطٌ، عن السُّدِّي، عن أبي مالك، عن ابن عبّاس. وعن مُرَّةَ، عن عبد الله، قالا: خرجتْ مريمُ إلى جانبِ المحرابِ بحَيضٍ أصابَها، فلما طَهُرَتْ إذا هي برجُل معها، وهو قوله: ﴿فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا﴾ [مريم:17] ، وهو جبريلُ ﵇، ففَزِعتْ منه، فقالت: ﴿إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنْكَ إِنْ كُنْتَ تَقِيًّا (18) قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلَامًا زَكِيًّا﴾ الآية، فخرجتْ وعليها جِلْبابُها، فأخذ بكُمِّها فنَفَخَ فِي جَيبِ دِرْعِها - وكان مشقُوقًا من قُدّامها - فدخلت النَّفْخَة صَدْرَها فحَمَلَتْ، فأتتْها أختُها امرأةُ زكريا ليلةً تَزورُها، فلما فتَحتْ لها البابَ التزمَتْها، فقالت امرأةُ زكريا: يا مريم، أشَعَرْتِ أني حُبْلَى، فقالت مريم: أشعرتِ أيضًا أن حُبْلَى؟ قالت امرأةُ زكريا: فإني وجدتُ ما في بَطْنِي يَسجُد للذي في بطنِكِ، فذلك قوله ﷿: ﴿مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ﴾ [آل عِمران:39] فوَلَدَتْ امرأةُ زكريا يحيى، ولما بلغ أن تَضَعَ مريمُ خَرجَتْ إلى جانبِ المِحرابِ ﴿فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ﴾ استحياء من الناس: ﴿يَالَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا (23) فَنَادَاهَا﴾ جبريلُ ﴿مِنْ تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا (24) وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا﴾ فهزته، فأُجريَ لها في المحراب نهرٌ، والسَّرِيّ: النهر، فتساقطت النخلةُ رطبًا جنيًّا، فلما وَلَدَتْه ذهبَ الشيطانُ فأخبر بني إسرائيل أنَّ مريم وَلَدَتْ، فلما أرادُوها على الكلام أشارتْ إلى عيسى، فتكلَّم عيسى، فقال: ﴿إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (30) وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا﴾ فلما وُلِد عيسى لم يَبْقَ في الأرض صنمٌ يُعبَدُ من دون الله إلّا وقع ساجدًا لوجهِة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4156 - على شرط مسلم
ابومالک، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اور مرہ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ سیدنا مریم علیہا السلام حیض انے کی وجہ سے محراب کی طرف نکلیں۔ جب آپ پاک ہوئیں تو ان کے پاس ایک مرد کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: فَاَرْسَلْنَآ اِلَیْھَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَھَا بَشَرًا سَوِیًّا (مریم: 17) تو ان سے ادھر ایک پردہ کر لیا، تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا وہ سیدنا جبریل تھے۔ آپ اس کو دیکھ کر گھبرا گئیں اور بولیں: اِنِّیْٓ اَعُوذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْکَ اِنْ کُنْتَ تَقِیًّا (مریم: 18) بولی میں تجھ سے رحمن کی پناہ مانگتی ہوں اگر تجھے خدا کا ڈر ہے وہ بولے: اِنَّمَآ اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکِ لِاَھَبَ لَکِ غُلٰمًا زَکِیًّا (مریم: 19) بولا میں تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں، کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں آپ وہاں سے نکلیں اور آپ کے اوپر آپ کی بڑی چادر تھی۔ سیدنا جبریل علیہ السلام نے اس کا کنارہ پکڑ کر آپ کے دوپٹے میں پھونک ماری، یہ دوپٹہ آگے سے کچھ پھٹا ہوا تھا۔ یہ پھونک آپ کے سینے میں گئی، جس کی وجہ سے آپ حاملہ ہو گئیں۔ آپ رات کے وقت اپنی بہن زکریا کی بیوی کے پاس ملنے کے لئے گئیں۔ جب اس نے دروازہ کھولا تو وہ ان سے لپٹ گئیں۔ سیدنا زکریا علیہ السلام کی زوجہ نے کہا: کیا تجھے معلوم ہے کہ میں حمل سے ہوں؟ سیدنا مریم علیہا السلام نے جواباً کہا: جی ہاں اور کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں بھی حمل سے ہوں۔ تو سیدنا زکریا علیہ السلام کی بیوی نے کہا: میں محسوس کر رہی ہوں کہ میرے پیٹ میں جو ہے وہ اس کو سجدہ کر رہا ہے جو آپ کے پیٹ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: مُصَدِّقًا بِکَلِمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ (آل عمران: 39) جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی تصدیق کرے گا تو سیدنا زکریا علیہ السلام کی بیوی نے یحیی علیہ السلام کو جنم دیا اور جب سیدنا مریم علیہما السلام کے ہاں بچے کے پیدائش کا وقت آیا تو آپ محراب کی جانب نکل گئیں۔ پھر دردزہ کی وجہ سے وہ ایک کھجور کی جڑ میں آ گئیں۔ لوگوں سے شرم کی ماری مریم علیہ السلام کہنے لگی: یٰلَیْتَنِیْ مِتُّ قَبْلَ ھٰذَا وَ کُنْتُ نَسْیًا مَّنْسِیًّا فَنَادٰھَا (مریم: 23) ہائے کسی طرح میں اس سے پہلے مر گئی ہوتی اور بھولی بسری ہو جاتی تو اسے پکارا تو سیدنا جبریل نے نیچے کی طرف سے آواز دی: اَلاَّ تَحْزَنِیْ قَدْ جَعَلَ رَبُّکِ تَحْتَکِ سَرِیًّا وَ ھُزِّیْٓ اِلَیْکِ بِجِذْعِ النَّخْلَۃِ تُسٰقِطْ عَلَیْکِ رُطَبًا جَنِیًّا (مریم: 24، 25) کہ غم نہ کھا بیشک تیرے رب نے نیچے ایک نہر بہا دی ہے، اور کھجور کی جڑ پکڑ کر اپنی طرف ہلا تجھ پر تازی پکی کھجوریں گریں گی سیدنا مریم علیہا السلام نے اس کو ہلایا تو ان کے لئے محراب میں نہر جاری کر دی گئی۔ السری نہر کو کہتے ہیں۔ تو کھجور کے درخت سے تازی پکی کھجوریں گرنے لگیں۔ جب ان کے ہاں عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہو گئی تو شیطان نے بنی اسرائیل کو خبر دے دی کہ مریم علیہا السلام نے بچہ جنا ہے۔ جب لوگوں نے سیدنا مریم علیہا السلام سے وضاحت چاہی تو آپ نے (بجائے اس کے کہ اپنی صفائی خود بیان کرتیں) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جانب اشارہ کر دیا تو عیسیٰ علیہ السلام بول اٹھے: اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ اٰتٰنِیَ الْکِتٰبَ وَجَعَلَنِیْ نَبِیًّا وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَکًا (مریم: 30، 31) میں ہوں اللہ کا بندہ اس نے مجھے کتاب دی اور مجھے غیب کی خبریں بتانے والا نبی کیا، اور اس نے مجھے مبارک کیا میں کہیں ہوں۔ جب عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تو روئے زمین کا ہر وہ بت جس کی عبادت کی جاتی تھی وہ سجدہ ریز ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4201]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4201 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أسباط بن نصر والسُّدِّي. أبو مالك: هو غزوان الغفاري، ومُرَّة: هو ابن شراحيل الهَمْداني، وعبد الله: هو ابن مسعود.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند اسباط بن نصر اور سدی کی وجہ سے "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو مالک سے مراد غزوان الغفاری، مرہ سے مراد ابن شراحیل ہمدانی اور عبد اللہ سے مراد ابن مسعود ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 3/ 253 و 16/ 62 - 63، وفي "تاريخه" 1/ 599 عن موسى بن هارون، عن عمرو بن حماد، بهذا الإسناد. أسنده في "التاريخ" ولم يجاوز فيه السَّدِّي في "التفسير" اختصارًا كما تقدم تقريره برقم (4124).
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" 3/ 253 اور 16/ 62-63 میں اور اپنی "تاریخ" 1/ 599 میں موسیٰ بن ہارون سے، انہوں نے عمرو بن حماد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: طبری نے "تاریخ" میں تو اسے مسنداً بیان کیا ہے لیکن "تفسیر" میں اختصار کی وجہ سے اسے سدی سے آگے نہیں بڑھایا (یعنی سدی کا قول بنا دیا) جیسا کہ نمبر (4124) کے تحت اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔