🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
76. قصة ولادة عيسى ابن مريم - عليهما السلام -
حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کی ولادت کا واقعہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4202
حدثني علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن محمد بن الأزهر، حدثنا علي بن حُجْر، حدثنا علي بن مُسْهِر، عن داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن جابر: أنَّ وَفْد نَجْرانَ أتَوا النبيَّ ﷺ، فقالوا: ما تقولُ في عيسى ابن مَريم؟ فقال:"هو رُوح اللهِ وَكَلِمَتُه وعبدُ الله ورسولُه" قالوا له: هل لك أن نُلاعِنَك أنه ليس كذلك؟ قال:"وذاك أحبُّ إليكم؟" قالوا: نعم، قال:"فإذا شئتُم" فجاء النبيُّ ﷺ وجَمَعَ ولدَه والحسنَ والحُسينَ، فقال رئيسُهم: لا تُلاعِنُوا هذا الرجلَ، فواللهِ لئن لاعَنْتُمُوه لَيُخسَفَنَّ بأحدِ الفريقَين، فجاؤوا، فقالوا: يا أبا القاسم، إنما أرادَ أن يُلاعِنكَ سُفهاؤُنا، وإنَّا نُحِبُّ أن تُعْفِيَنا، قال:"قد أعفَيتُكُم". ثم قال:"إنَّ العذابَ قد أظَلَّ نَجْرانَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4157 - على شرط مسلم
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نجران کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کے متعلق تمہارا کیا نظریہ ہے؟ آپ نے فرمایا: وہ روح اللہ، کلمۃ اللہ، عبداللہ اور اس کے رسول تھے۔ انہوں نے آپ سے کہا: اگر فی الواقع ایسا نہ ہو تو کیا ہم ایک دوسرے پر لعنت کر سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہیں یہ کام بہت اچھا لگتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے، جیسے تمہاری مرضی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بچوں اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو بلوا لیا، ان کا سردار کہنے لگا: اس آدمی (محمد) پر لعنت مت کرو، خدا کی قسم! اگر تم اس کے ساتھ ملاعنہ کرو گے تو دونوں فریقوں میں سے ایک برباد ہو جائے گا۔ تو یہ لوگ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے: اے ابوالقاسم! ملاعنہ کی بات تو ہم میں سے بے وقوفوں نے کی ہے جبکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں معاف فرما دیں۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمہیں معاف کیا۔ پھر فرمایا: عذاب تو نجران پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4202]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4202 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده ضعيف لضعف أحمد بن محمد بن الأزهر، والصحيح أنه عن الشَّعْبي - وهو عامر بن شَراحيل - مرسلًا كما سيأتي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند احمد بن محمد بن الازہر کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: صحیح یہ ہے کہ یہ عامر بن شراحیل الشعبی سے "مرسل" ہے جیسا کہ آگے آئے گا۔
وأخرجه بنحوه أبو بكر الآجُرِّي في "الشريعة" (1690)، والواحدي في "أسباب النزول" (209)، وابن المغازلي في "مناقب علي" (310) من طريق بشر بن مهران الخصَّاف، عن محمد بن دينار الطاحي، عن داود بن أبي هند، به. وبشر هذا ترك أبو حاتم حديثَه، وشيخه محمد بن دينار مُختلَف فيه. وأخرجه بنحوه مختصرًا سعيد بن منصور في التفسير من "سننه" (500)، وابن أبي شَيْبة 14/ 549، والطبري في "تفسيره" 3/ 299 - 300 من طريق مغيرة بن مِقْسم الضَّبِّي، عن عامر الشعبي، مرسلًا. ورجاله ثقات.
📖 حوالہ / مصدر: اسے اسی کی مانند آجری نے "الشریعہ" (1690)، واحدی نے "اسباب النزول" (209) اور ابن المغازلی نے "مناقب علی" (310) میں بشر بن مہران الخصاف کے طریق سے محمد بن دینار الطاحی سے، انہوں نے داود بن ابی ہند سے روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: بشر نامی راوی کی حدیث کو ابو حاتم نے ترک کر دیا ہے اور ان کے شیخ محمد بن دینار "مختلف فیہ" ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اسی جیسی مختصر روایت سعید بن منصور نے اپنی سنن (500)، ابن ابی شیبہ 14/ 549 اور طبری نے اپنی تفسیر 3/ 299-300 میں مغیرہ بن مقسم الضبی کے طریق سے عامر الشعبی سے "مرسل" روایت کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔