المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
79. هبوط عيسى - عليه السلام - وقتل الدجال وإشاعة الإسلام
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول، دجال کا قتل اور اسلام کا غلبہ
حدیث نمبر: 4207
أخبرني أبو الطَّيِّب محمد بن أحمد الحِيْرِي، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، حدثنا يعلى بن عُبيد، حدثنا محمد بن إسحاق، عن سعيد بن أبي سعيد، عن عطاء مولى أم صُبيّة، قال: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"لَيَهبِطَنّ عيسى ابن مريم حَكَمًا عَدْلًا، وإمامًا مُقسِطًا، ولَيَسلُكنَّ فَجًّا حاجًّا (1) أو مُعتَمِرًا، أو لَيُثنيِّهما، ولَيأتِيَنَّ قَبْري حتى يُسلِّم عَلَيَّ، ولأَرُدَّنَّ عليه". يقول أبو هُريرة: أيْ بَنِي أخي، إن رأيتُمُوه فقولوا: أبو هريرة يُقرِئُك السلامَ (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4162 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4162 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سیدنا عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ضرور عادل فیصلہ کرنے والے اور منصف حکمران بن کر اتریں گے اور وہ اس گلی میں سے حج کرتے یا عمرہ کرتے یا ان دونوں کی نیت سے گزریں گے اور وہ میری قبر انور پر آئیں گے اور مجھے سلام کریں گے۔ میں ان کے سلام کا جواب دوں گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اے میرے بھائی کے بیٹو! اگر تمہاری ان سے ملاقات ہو تو ان سے کہیے گا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ کو سلام کہہ رہے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين/حدیث: 4207]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4207 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في النسخ الخطية: فَجًّا أو حاجًّا، بإقحام حرف "أو"، وهو خطأ ظاهر.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں "أو" (یا) کا لفظ غلطی سے زیادہ لکھا گیا ہے (فجاً أو حاجاً)، جو کہ ظاہر سی خطا ہے۔
(2) إسناده حسن لولا عنعنة محمد بن إسحاق - وهو ابن يسار المطَّلبي - فيه، لكن تُغتفر عنعنته هنا، فقد تابعه على بعض حديث هذا الليث بن سعد عند أحمد 16/ (10404)، ومسلم (155)، وابن حبان (6816) إلّا أنَّ الليث سمى في روايته التابعيَّ: عطاء بن ميناء، وهذا يؤيد أنَّ عطاء مولى أم صُبَيّة هو عطاء بن ميناء نفسه كما جزم به أبو بكر بن أبي داود السجستاني فيما نقله عنه الخطيب البغدادي في "موضح أوهام الجمع والتفريق" 1/ 344. وتابع محمدَ بنَ إسحاق أيضًا أبو صخر حميد بن زياد المدني على أكثر الحديث، أخرجه من طريقه عبد الملك ابن حبيب السُّلمي في "أشراط الساعة" (39)، وأبو يعلى في "مسنده" (6584)، إلا أنه جعله عن سعيد بن أبي سعيد - وهو المقبري - عن أبي هريرة مباشرة، وصرَّح المقبريُّ في رواية أبي يعلى بسماعه له من أبي هريرة، فلا يبعد أن يكون المقبري رواه على الوجهين، مرة بواسطة عطاء، ومرة بلا واسطة سامعًا له من أبي هريرة.
⚖️ درجۂ حدیث: اگر محمد بن اسحاق (المطلبی) کی "عنعنہ" نہ ہوتی تو یہ سند حسن ہوتی، مگر یہاں ان کی عنعنہ قابلِ معافی ہے، 🧩 متابعات و شواہد: کیونکہ لیث بن سعد نے (احمد 16/ 10404، مسلم 155 اور ابن حبان 6816 میں) اس حدیث کے کچھ حصے پر ان کی متابعت کی ہے، البتہ لیث نے تابعی کا نام "عطاء بن میناء" صراحت سے لکھا ہے۔ اس سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ "عطاء مولٰی ام صبیہ" دراصل عطاء بن میناء ہی ہیں، جیسا کہ ابو بکر بن ابی داود السجستانی نے جزم کے ساتھ کہا ہے۔ نیز ابو صخر حمید بن زیاد المدنی نے بھی اکثر حدیث میں محمد بن اسحاق کی متابعت کی ہے (عبد الملک بن حبیب "اشراط الساعۃ" 39 اور ابو یعلیٰ 6584)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو یعلیٰ کی روایت میں سعید المقبری نے ابو ہریرہ سے براہِ راست سماع کی تصریح کی ہے، لہٰذا بعید نہیں کہ المقبری نے اسے دو طرح سے روایت کیا ہو: ایک بار عطاء کے واسطے سے اور ایک بار براہِ راست ابو ہریرہ سے سن کر۔
وأخرج رواية ابن إسحاق: ابن أبي حاتم في "العلل" (2747) من طريق محمد بن سلمة الحَرِّاني، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد. وكذلك رواه يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق، كما قال ابن أبي حاتم.
📖 حوالہ / مصدر: ابن اسحاق کی روایت کو ابن ابی حاتم نے "العلل" (2747) میں محمد بن سلمہ الحرانی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ابن ابی حاتم کے بقول یونس بن بکیر نے بھی اسے محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
وأخرج منه نزول عيسى ابن مريم حكمًا عدلًا وإمامًا مقسطًا: أحمد 12/ (7269) و 13/ (7679) و 16 / (10944)، والبخاري (2222) و (2476) و (3448)، ومسلم (155)، وابن ماجه (4078)، والترمذي، (2233)، وابن حبان (6818) من طريق سعيد بن المسيب، وأحمد 15/ (62) من طريق الوليد بن رباح، و 15 / (9323) من طريق محمد بن سِيرِين، و 16 / (10261) من طريق زياد بن سعد، أربعتهم عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: عیسیٰ علیہ السلام کے "حاکمِ عادل اور امامِ منصف" بن کر نازل ہونے والے حصے کو: احمد (7269، 7679، 10944)، بخاری (2222، 2476، 3448)، مسلم (155)، ابن ماجہ (4078)، ترمذی (2233) اور ابن حبان (6818) نے سعید بن مسیب کے طریق سے؛ احمد 15/ (62) نے ولید بن رباح کے طریق سے؛ 15/ (9323) نے محمد بن سیرین کے طریق سے؛ اور 16/ (10261) نے زیاد بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ چاروں ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں۔
وأخرج منه سلوك عيسى ابن مريم فجًّا حاجًا أو معتمرًا: أحمد 12/ (7273) و 13/ (7903) و 16 / (10974)، ومسلم (1252)، وابن حبان (6820) من طريق حنظلة بن علي الأسلمي، عن أبي هريرة.
📖 حوالہ / مصدر: عیسیٰ علیہ السلام کے حج یا عمرے کے لیے راستے سے گزرنے والے حصے کو احمد (7273، 7903، 10974)، مسلم (1252) اور ابن حبان (6820) نے حنظلہ بن علی الاسلمی کے طریق سے ابو ہریرہ سے روایت کیا ہے۔