🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. زيارته صلى الله عليه وآله وسلم قبر أمه
رسول اللہ ﷺ کا اپنی والدہ کے مزار کی زیارت کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4237
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا يوسف بن عبد الله الخُوارزمي ببيت المَقدِس، حدثنا أبو سعيد يحيى بن سليمان الجُعفي، حدثنا يحيى بن يَمَان، حدثنا سفيان، عن علقمة بن مَرْثَد، عن سليمان بن بُريدة، عن أبيه: أنَّ النبي ﷺ زار قَبْرَ أُمِّه في ألف مُقنَّعٍ، فما رُئِيَ أكثرُ باكِيًا من ذلك اليوم (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، إنما أخرج مسلم وحدَه حديث مُحارِب بن دِثار، عن ابن بُريدة، عن أبيه:"استأذنتُ ربِّي في الاستغفارِ لأُمِّي فلم يأْذَنْ لي" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4192 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہزار فوجیوں کے ہمراہ اپنی والدہ محترمہ کی قبر کی زیارت کی۔ اس دن سے زیادہ آپ کو کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے محارب بن دثار پھر ابن بریدہ کے حوالے سے ان کے والد سے یہ روایت نقل کی ہے۔ میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعا مانگی لیکن مجھے اجازت نہ ملی۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4237]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4237 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف بهذا اللفظ كما تقدَّم بيانه برقم (1405) فقد روي هناك من طريق أخرى عن يحيى بن يمان، وذكر هناك لفظه الصحيح عن بُريدة.
⚖️ درجۂ حدیث: ان الفاظ کے ساتھ یہ سند ضعیف ہے جیسا کہ حدیث نمبر (1405) کے تحت گزر چکا۔ 📝 نوٹ / توضیح: وہاں اسے یحییٰ بن یمان کے دوسرے طریق سے روایت کیا گیا ہے اور وہاں حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے اس کے صحیح الفاظ ذکر کیے گئے ہیں۔
(2) كذا المصنف هنا بأنَّ مسلمًا أخرجه من هذه الطريق، مع أنه جزم جزم عند الحديث المتقدم أنّ مسلمًا لم يخرجه من الطريق المذكورة، وهو الصحيح، وإنما أخرج مسلم في استئذانه ﷺ في الاستغفار لأمِّه حديثَ أبي هريرة برقم (976).
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف نے یہاں ذکر کیا ہے کہ امام مسلم نے اس طریق سے روایت کیا ہے، حالانکہ گزشتہ حدیث میں انہوں نے یقین کے ساتھ کہا تھا کہ مسلم نے اس طریق سے روایت نہیں کیا، اور یہی بات صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: امام مسلم نے آپ ﷺ کا اپنی والدہ کے لیے استغفار کی اجازت مانگنے والی روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (976) نمبر پر روایت کی ہے۔