🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. كان خاتم النبوة على ظهر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم مثل بيضة الحمام
رسول اللہ ﷺ کی پشت مبارک پر مہرِ نبوت کبوتر کے انڈے کے برابر تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4244
حدثنا أبو بكر الشافعي وأبو بكر القطيعي في آخَرِين، قالوا: حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا حماد بن خالد، حدثنا مالك بن أنس، عن زياد بن سعد، عن الزُّهْري، عن أنس بن مالك، قال: سَدَلَ رسولُ الله ﷺ نَاصِيتَه ما شاء الله، ثم فَرَقَ بعدُ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4199 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشانی کے بالوں (بغیر مانگ کے) کو لٹکائے رکھا، جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا، پھر اس کے بعد آپ نے مانگ نکال لی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4244]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4244 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لكن من حديث الزُّهْري عن عُبيد الله بن عبد الله بن عُتبة عن ابن عبّاسٍ، كما قال الإمام أحمد فيما نقله عنه ابن عبد البر في "التمهيد" 6/ 71، وقال محمد بن يحيى الذُّهْلي فيما نقله عنه ابن عبد البر 6/ 73 - 74: هو الصحيح المحفوظ.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے مگر امام زہری عن عبید اللہ بن عبد اللہ عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے۔ 📌 اہم نکتہ: جیسا کہ امام احمد نے فرمایا (بحوالہ التمہید 6/71) اور محمد بن یحییٰ ذہلی نے صراحت کی کہ یہی سند "صحیح محفوظ" ہے۔
فقد خالف حمادَ بن خالد - وهو الخيّاط - جميع أصحاب مالك الذين رووه عنه عن زياد بن سعد عن الزُّهْري مرسلًا، فالمحفوظ إذًا في حديث مالك الإرسالُ، كما قال ابن عبد البر في "التمهيد" 6/ 69، وفي غير حديث مالك المحفوظ هو الوصل كما قال أحمد والذُّهلي، لكن عن الزُّهْري عن عبيد الله بن عبد الله عن ابن عبّاس.
🔍 فنی نکتہ / علّت: حماد بن خالد خیاط نے امام مالک کے ان تمام شاگردوں کی مخالفت کی ہے جو اسے امام مالک سے، وہ زیاد بن سعد سے، وہ امام زہری سے "مرسل" روایت کرتے ہیں۔ لہٰذا امام مالک کی حدیث میں "ارسال" ہی محفوظ ہے جیسا کہ ابن عبد البر نے "التمہید" 6/69 میں کہا۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام مالک کے علاوہ دیگر رواۃ کی روایت میں "وصل" (سند کا متصل ہونا) ہی محفوظ ہے جیسا کہ امام احمد اور ذہلی نے صراحت کی، مگر وہ زہری عن عبید اللہ عن ابن عباس کے واسطے سے ہے۔
وهو في "مسند أحمد" 20/ (13254).
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" 20/ (13254) میں موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (9283) من طريق عبد الرحمن بن القاسم، عن مالك، عن زياد بن سعد، عن الزُّهْري، مرسلًا. وكذلك هو في "الموطأ" برواية يحيى الليثي 2/ 948، وفي رواية أبي مصعب الزُّهْري (1992)، وفي رواية سويد بن سعيد بإثر (660).
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (9283) نے عبدالرحمن بن قاسم عن مالک عن زیاد بن سعد کے طریق سے "مرسل" روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اسی طرح یہ "موطا امام مالک" میں یحییٰ لیثی (2/948)، ابومصعب زہری (1992) اور سوید بن سعید (660 کے بعد) کی روایات میں مرسل ہی موجود ہے۔
وأخرجه أحمد 4/ (2605) و 5/ (2942)، والبخاري (3558) و (3944)، ومسلم (2336)، والنسائي (9282)، وابن حبان (5485) من طريق يونس بن يزيد الأيلي، وأحمد 4/ (2209) و (2364)، والبخاري (5917)، ومسلم (2336)، وأبو داود (4188)، وابن ماجه (3632) من طريق إبراهيم بن سعد، كلاهما عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن ابن عبّاس.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد 4/(2605)، 5/(2942)، بخاری (3558، 3944)، مسلم (2336)، نسائی (9282) اور ابن حبان (5485) نے یونس بن یزید ایلی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ نیز امام احمد (2209، 2364)، بخاری (5917)، مسلم (2336)، ابوداؤد (4188) اور ابن ماجہ (3632) نے ابراہیم بن سعد کے طریق سے روایت کیا ہے، یہ دونوں اسے زہری عن عبیداللہ بن عبداللہ عن ابن عباس کی متصل سند سے نقل کرتے ہیں۔