🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. ذكر مراكبه صلى الله عليه وآله وسلم ودرعه وسيفه
رسول اللہ ﷺ کی سواریوں، زرہ اور تلوار کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4255
حدّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا سليمان بن محمد بن الفضل، حدثنا محمد بن هاشم البَعْلَبكِّي، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلَمة، عن أبي هريرة، قال: قيل للنبي ﷺ: متى وَجَبَتْ لك النبوّةُ؟ قال:"بين خَلْقِ آدمَ ونَفْخِ الرُّوح فيه" (2) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: آپ کو نبوت کب ملی؟ آپ نے فرمایا: (میں تو اس وقت بھی نبی تھا) جب آدم علیہ السلام کی تخلیق ہو رہی تھی اور ان میں روح پھونکی جا رہی تھی۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4255]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4255 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. وقد صرَّح الوليد بن مسلم بسماعه وسماع الأوزاعي عند جعفر الفريابي في "القدر" (14) وعند غيره، فانتفت شبهة تدليسه.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ولید بن مسلم نے جعفر فریابی کی کتاب "القدر" (14) اور دیگر مقامات پر اپنے "سماع" (سننے) کی اور اوزاعی کے "سماع" کی تصریح کر دی ہے، جس سے ان کے "تدلیس" کرنے کا شبہ ختم ہو گیا۔
وأخرجه الترمذي (3609) عن الوليد بن شجاع، عن الوليد بن مسلم، بهذا الإسناد. واختلفت نسخ الترمذي في ذكر حكمه، ففي بعضها: حسن صحيح غريب، وفي بعضها الآخر: حسن غريب.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے (3609) میں ولید بن شجاع کے طریق سے، ولید بن مسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس حدیث پر لگائے گئے حکم کے بارے میں ترمذی کے نسخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے؛ بعض نسخوں میں "حسن صحیح غریب" ہے، جبکہ بعض دوسرے نسخوں میں صرف "حسن غریب" درج ہے۔