المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
12. مقالة ورقة بن نوفل فى تصديق النبى صلى الله عليه وآله وسلم
ورقہ بن نوفل کا رسول اللہ ﷺ کی تصدیق میں قول
حدیث نمبر: 4257
ما حدَّثَنِيه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عبدُ الملِك بن عبد الله بن أبي سُفيان بن العلاء بن جارِيةَ الثقفي - وكان واعيةً - قال: قال ورقةُ بن نَوفَلٍ بن أسد بن عبد العُزّى - فيما كانت خديجةُ ذَكَرَتْ له من أمور رسولِ الله ﷺ: يا لَلرِّجالِ وصَرْفِ الدَّهرِ والقَدَرِ … وما لِشيءٍ قَضاهُ اللهُ من غِيَرِ حتى خديجةُ تَدْعُوني لأُخبِرَها … وما لها بخَفيِّ الغَيبِ من خَبَرِ جاءتْ لِتسألَني عنه لأُخبِرَها … أمرًا أَراهُ سيأتي الناسَ مِن أُخَرِ فخَبَّرتني بأمرٍ قد سمعتُ به … فيما مضى من قَديم الدهرِ والعُصُرِ بأن أحمدَ يأتيه فيُخبِرُه … جِبريلُ أنّكَ مَبْعُوثٌ إلى البَشَرِ فقلتُ: عَلَّ الذي تَرْجِينَ يُنْجِزُه … لكِ الإلهُ فرَجِّي الخيرَ وانتظِرِي وأرسلِيه إلينا كي نُسائِلَه … عن أمرِه ما يَرى في النومِ والسَّهَرِ فقال حين أتانا مَنْطِقًا عجبًا … تَقِفُّ منه أعالي الجِلدِ والشَّعَرِ إني رأيتُ أمينَ اللهِ واجَهَني … في صورةٍ أُكمِلَتْ من أَهْيَبِ الصُّوَرِ ثم استمرَّ فكادَ الخوفُ يَذْعَرُني … مما يُسلِّمُ مِن حَولي مِن الشَّجَرِ فقلتُ: ظنِّي وما يُدرَى أَيَصدُقُني … أن سوفَ تُبعَثُ تتلُو مُنزَلَ السُّوَر وسوف أُبْلِيكَ إن أعلنْتُ دعوتَهم … من الجهادِ بلا مَنٍّ ولا كَدَرِ (1)
عبدالملک بن عبداللہ بن ابی سفیان بن العلاء بن جاریہ ثقفی کہتے ہیں: جب سیدنا خدیجۃ الکبریٰ نے ورقہ بن نوفل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بتائیں تو انہوں نے کہا: اے لوگو! گردش زمانہ اور تقدیر اور کسی چیز کے بھی متعلق اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے۔ خدیجہ نے مجھے کہا ہے کہ میں اسے غیب کی چھپی ہوئی خبر بتاؤں۔ وہ میرے پاس آئی ہے، اس کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے تاکہ میں اس کو اس معاملہ کی خبر دوں جس کو میں دیکھتا ہوں عنقریب وہ معاملہ لوگوں کے سامنے آئے گا۔ چنانچہ اس نے مجھے اس بات کی خبر دی جو عرصہ دراز سے سنی جا رہی تھی۔ یہ کہ احمد تشریف لائیں گے اور جبریل ان کو خبر دیں گے کہ وہ انسانوں کی طرف (نبی بنا کر) بھیجے گئے ہیں۔ میں نے کہا: وہ بیمار ہے جس کا تم خوف کر رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ تیری امید پوری کرے گا تو خیر کی امید رکھ اور انتطار کر۔ اور اس کو ہمارے پاس بھیج تاکہ ہم اس سے ان امور کے بارے میں پوچھیں جو اس نے خواب میں اور بیداری کی حالت میں دیکھے۔ جب وہ آئے تو انہوں نے ہمیں ایسی عمدہ باتیں سنائیں جس سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ (آپ نے کہا) میں نے اللہ تعالیٰ کے امین کو دیکھا ہے اور میں نے ایک ایسی صورت کا سامنا کیا جو ہر صورت سے زیادہ رعب والی ہے۔ پھر یہ سلسلہ بدستور قائم رہا اور میں خوف کی وجہ سے کانپنے لگ گیا کیونکہ میرے اردگرد درخت سلام کرنے لگ گئے۔ میں نے کہا: میرا ظن غالب یہ ہے اور میں جانتا نہیں کہ یہ میری بات سچ ہو جائے گی کہ یہ عنقریب نبی بنے گا اور سورۃ کی منزلیں تلاوت کرے گا۔ اگر تو نے جہاد کا اعلان کیا تو عنقریب میں بغیر کسی احسان کے اور بغیر ناپسندیدگی کے تیرے پاس آؤں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4257]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4257 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) ضعيف لإرساله، والصحيح أنه من مرسل ابن إسحاق - وهو محمد بن إسحاق بن يسار المطَّلبي - فقد رواه البيهقي في "الدلائل" 2/ 149 - 150 عن أبي عبد الله الحاكم، بسنده الذي هنا، فلم يذكر فيه عبد الملك الثقفي، وكذلك هو في "سيرة ابن إسحاق" برواية يونس بن بكير (142) دون ذكر عبد الملك فيه. والظاهر أنَّ المصنِّف صار يُلحقه مُؤخَّرًا لما صنَّف هذا الكتاب، اغتِرارًا بورود قصة تسليم الشجر هنا في شِعر ورقة، وهي قصة رواها ابن إسحاق في "سيرته" كما في رواية ابن هشام عن البكائي عنه 1/ 234 - 235، وكما في رواية يونس بن بكير (140) عن عبد الملك الثقفي المذكور، وهو تابعي يروي عن عثمان بن عفان، فالظاهر أنَّ المصنِّف ظن أنَّ ابن إسحاق إنما أخذه عن عبد الملك فذكره، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: "ارسال" (سند منقطع ہونے) کی وجہ سے یہ ضعیف ہے۔ 📌 اہم نکتہ: صحیح بات یہ ہے کہ یہ ابن اسحاق (محمد بن اسحاق بن یسار المطلبی) کی مرسل روایات میں سے ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: کیونکہ امام بیہقی نے "الدلائل" (2/ 149-150) میں اسے ابوعبداللہ الحاکم سے، مصنف کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، لیکن اس میں "عبد الملک الثقفی" کا ذکر نہیں کیا۔ اسی طرح یہ "سیرت ابن اسحاق" (روایت یونس بن بکیر: 142) میں بھی عبد الملک کے ذکر کے بغیر ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ظاہر یہ ہوتا ہے کہ مصنف (امام احمد) نے جب یہ کتاب تصنیف کی تو بعد میں غلطی سے (عبد الملک کا نام) ملحق کر دیا، اس دھوکے کی بنا پر کہ یہاں ورقہ بن نوفل کے شعر میں "درخت کے سلام کرنے" کا قصہ آیا ہے۔ یہ (درخت والا) قصہ ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں روایت کیا ہے (جیسا کہ ابن ہشام کی روایت 1/ 234-235 میں ہے اور یونس بن بکیر 140 میں ہے) اور وہاں یہ مذکورہ "عبد الملک الثقفی" (جو کہ تابعی ہیں اور عثمان بن عفان سے روایت کرتے ہیں) کے واسطے سے ہے۔ چنانچہ مصنف نے غالباً یہ گمان کیا کہ ابن اسحاق نے یہ (حدیث بھی) عبد الملک ہی سے لی ہے، لہٰذا ان کا ذکر کر دیا۔ واللہ اعلم۔