🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. مَقَالَةُ وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فِي تَصْدِيقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ورقہ بن نوفل کا رسول اللہ ﷺ کی تصدیق میں قول
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4256
أخبرني عبد الله بن محمد بن علي بن زياد العَدْل، حدثنا الإمام أبو بكر محمد بن إسحاق، حدثنا أبو سعيد الأشَجُّ، حدثنا أبو معاوية، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، عن عائشة، أنَّ النبي ﷺ قال:"لا تَسُبُّوا وَرَقةَ، فإني رأيتُ له جَنّةً أو جَنّتَين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. والغَرَض في إخراجه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4211 - على شرط البخاري ومسلم
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ورقہ (بن نوفل) کو گالی مت دو کیونکہ میں نے ان کے لئے دو جنتیں دیکھی ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اس حدیث کو نقل کرنے کی وجہ درج ذیل واقعہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4256]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4257
ما حدَّثَنِيه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني عبدُ الملِك بن عبد الله بن أبي سُفيان بن العلاء بن جارِيةَ الثقفي - وكان واعيةً - قال: قال ورقةُ بن نَوفَلٍ بن أسد بن عبد العُزّى - فيما كانت خديجةُ ذَكَرَتْ له من أمور رسولِ الله ﷺ: يا لَلرِّجالِ وصَرْفِ الدَّهرِ والقَدَرِ … وما لِشيءٍ قَضاهُ اللهُ من غِيَرِ حتى خديجةُ تَدْعُوني لأُخبِرَها … وما لها بخَفيِّ الغَيبِ من خَبَرِ جاءتْ لِتسألَني عنه لأُخبِرَها … أمرًا أَراهُ سيأتي الناسَ مِن أُخَرِ فخَبَّرتني بأمرٍ قد سمعتُ به … فيما مضى من قَديم الدهرِ والعُصُرِ بأن أحمدَ يأتيه فيُخبِرُه … جِبريلُ أنّكَ مَبْعُوثٌ إلى البَشَرِ فقلتُ: عَلَّ الذي تَرْجِينَ يُنْجِزُه … لكِ الإلهُ فرَجِّي الخيرَ وانتظِرِي وأرسلِيه إلينا كي نُسائِلَه … عن أمرِه ما يَرى في النومِ والسَّهَرِ فقال حين أتانا مَنْطِقًا عجبًا … تَقِفُّ منه أعالي الجِلدِ والشَّعَرِ إني رأيتُ أمينَ اللهِ واجَهَني … في صورةٍ أُكمِلَتْ من أَهْيَبِ الصُّوَرِ ثم استمرَّ فكادَ الخوفُ يَذْعَرُني … مما يُسلِّمُ مِن حَولي مِن الشَّجَرِ فقلتُ: ظنِّي وما يُدرَى أَيَصدُقُني … أن سوفَ تُبعَثُ تتلُو مُنزَلَ السُّوَر وسوف أُبْلِيكَ إن أعلنْتُ دعوتَهم … من الجهادِ بلا مَنٍّ ولا كَدَرِ (1)
عبدالملک بن عبداللہ بن ابی سفیان بن العلاء بن جاریہ ثقفی کہتے ہیں: جب سیدنا خدیجۃ الکبریٰ نے ورقہ بن نوفل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بتائیں تو انہوں نے کہا: اے لوگو! گردش زمانہ اور تقدیر اور کسی چیز کے بھی متعلق اللہ تعالیٰ کے فیصلے کو کوئی تبدیل کرنے والا نہیں ہے۔ خدیجہ نے مجھے کہا ہے کہ میں اسے غیب کی چھپی ہوئی خبر بتاؤں۔ وہ میرے پاس آئی ہے، اس کے بارے میں دریافت کرنے کے لئے تاکہ میں اس کو اس معاملہ کی خبر دوں جس کو میں دیکھتا ہوں عنقریب وہ معاملہ لوگوں کے سامنے آئے گا۔ چنانچہ اس نے مجھے اس بات کی خبر دی جو عرصہ دراز سے سنی جا رہی تھی۔ یہ کہ احمد تشریف لائیں گے اور جبریل ان کو خبر دیں گے کہ وہ انسانوں کی طرف (نبی بنا کر) بھیجے گئے ہیں۔ میں نے کہا: وہ بیمار ہے جس کا تم خوف کر رہی ہو۔ اللہ تعالیٰ تیری امید پوری کرے گا تو خیر کی امید رکھ اور انتطار کر۔ اور اس کو ہمارے پاس بھیج تاکہ ہم اس سے ان امور کے بارے میں پوچھیں جو اس نے خواب میں اور بیداری کی حالت میں دیکھے۔ جب وہ آئے تو انہوں نے ہمیں ایسی عمدہ باتیں سنائیں جس سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ (آپ نے کہا) میں نے اللہ تعالیٰ کے امین کو دیکھا ہے اور میں نے ایک ایسی صورت کا سامنا کیا جو ہر صورت سے زیادہ رعب والی ہے۔ پھر یہ سلسلہ بدستور قائم رہا اور میں خوف کی وجہ سے کانپنے لگ گیا کیونکہ میرے اردگرد درخت سلام کرنے لگ گئے۔ میں نے کہا: میرا ظن غالب یہ ہے اور میں جانتا نہیں کہ یہ میری بات سچ ہو جائے گی کہ یہ عنقریب نبی بنے گا اور سورۃ کی منزلیں تلاوت کرے گا۔ اگر تو نے جہاد کا اعلان کیا تو عنقریب میں بغیر کسی احسان کے اور بغیر ناپسندیدگی کے تیرے پاس آؤں گا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4257]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں