🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. أنزل على النبى صلى الله عليه وآله وسلم وهو ابن ثلاث وأربعين
رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی جبکہ آپ ﷺ کی عمر تینتالیس برس تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4261
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن عمر بن ذرٍّ [عن أبيه] (1) عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس: أن رسول الله ﷺ قال لجبريلَ:"ما يَمنعُك أن تَزُورَنا أكثر مما تَزُورُنا" فأنزل الله ﷿: ﴿وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ﴾ إلى قوله: ﴿وَمَا كَانَ رَبُّكَ نَسِيًّا﴾ [مريم: 64] (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4215 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام سے کہا: جس طرح تم اکثر ہمارے پاس آیا کرتے تھے، اب کیوں نہیں آتے؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَمَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّکَ …… وَمَا کَانَ رَبُّکَ نَسِیًّا تک۔ ہم تو صرف آپ کے رب کے حکم سے اترتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/ذكر أخبار سيد المرسلين صلى الله عليه وآله وسلم/حدیث: 4261]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4261 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) سقط اسم أبي عمر - وهو ذرّ بن عبد الله المُرهِبي - من نسخنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع، وهو ثابت في إسناد الرواية عند يونس بن بكير في زياداته على "السيرة النبوية" لابن إسحاق (168)، وكذلك عند غيره.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے پاس موجود قلمی نسخوں سے ابوعمر (جو کہ ذر بن عبد اللہ المرہبی ہیں) کا نام گر گیا تھا، جسے ہم نے مطبوعہ نسخے سے ثابت (درج) کیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اور یہ نام یونس بن بکیر کی "سیرت ابن اسحاق" پر زیادات (168) اور دیگر مقامات پر روایت کی سند میں موجود ہے۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار - وهو العُطاردي - وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اور یہ سند احمد بن عبد الجبار (العطاردی) کی وجہ سے "حسن" ہے، اور ان کی متابعت (تائید) بھی موجود ہے۔
وأخرجه أحمد بن حنبل 3/ (2013) و (2078) و 5/ (3365)، والبخاري (3218) و (7455)، والترمذي (3158)، والنسائي (11257) من طرق عن عمر بن ذر، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد بن حنبل 3/ (2013، 2078) اور 5/ (3365)، بخاری (3218، 7455)، ترمذی (3158)، اور نسائی (11257) نے عمر بن ذر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔