🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. كان أجود الناس بالخير من الريح المرسلة
رسول اللہ ﷺ خیر و بھلائی میں تیز چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ سخی تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4272
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا هارون بن سليمان الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا شُعْبة، عن قَتَادة، قال: سمعت عبد الله بن أبي عُتبة يقول: سمعت أبا سعيد الخُدْري يقول: كان رسول الله ﷺ يُكثر الذِّكر، ويُقِلُّ اللغوَ، ويُطيل، الصلاة، ويَقصُر الخُطبَة، ولا يستنكِفُ أن يمشيَ مع العبدِ والأرملةِ، حتى يَفرُغَ لهم من حاجتهم (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه. قال الحاكم: وقد قدَّمتُ هذه الأحاديثَ الصحيحةَ في دلائل النبوة من أخلاق سيدنا المصطفى لقول الله ﷿: ﴿وَلَقَدِ اخْتَرْنَاهُمْ عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَالَمِينَ﴾ [الدخان: 32] وقوله ﷿: ﴿اللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ (1)[الأنعام: 124] وقوله: ﴿ن وَالْقَلَمِ وَمَا يَسْطُرُونَ (1) مَا أَنْتَ بِنِعْمَةِ رَبِّكَ بِمَجْنُونٍ (2) وَإِنَّ لَكَ لأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ (3) وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ﴾. فاسمع الآن الآياتِ الصحيحةَ بعدها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4226 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے ذکر کیا کرتے تھے اور فضول گوئی نہیں کرتے تھے۔ نماز طویل کرتے اور خطبہ مختصر کرتے تھے اور آپ غلاموں اور مسکینوں کی حاجت روائی کے لئے ان کے ہمراہ چلنے میں عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں: میں نے یہ صحیح احادیث سیدنا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق میں سے دلائل نبوت کے ضمن میں درج کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَلَقَدِ اخْتَرْنَاھُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعَالَمِیْن (الدخان: 32) بے شک ہم نے ان کو تمام جہانوں پر منتخب کر لیا ہے۔ اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: اللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ (الانعام: 124) اللہ خوب جانتا ہے جہاں اپنی رسالت رکھے۔ اور فرمایا: نٓ وَ الْقَلَمِ وَ مَا یَسْطُرُوْنَ مَآ اَنْتَ بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ بِمَجْنُوْنٍ وَ اِنَّ لَکَ لَاَجْرًا غَیْرَ مَمْنُوْنٍ وَ اِنَّکَ لَعَلٰی لَخُلُقٍ عَظِیْمٍ (القلم: 1 تا 4) قلم اور اس کے لکھے کی قسم تم اپنے رب کے فضل سے مجون نہیں اور ضرور تمہارے لئے بے انتہاء ثواب ہے اور بے شک تمہاری خوبو بڑی شان کی ہے۔ تو ان کے بعد یہ آیات صحیحہ سنو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التى فى دلائل النبوة/حدیث: 4272]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4272 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) هذا إسناد صحيح، لكن أحدًا في الدنيا لم يُخرّج هذا المتن بهذا الإسناد، سوى ما وجدناه في أصول "المستدرك" هنا، ويغلب على ظننا أنَّ هذا خطأ قديم، حصل فيه انتقال بصرٍ إلى متن الرواية التي قبل هذه، فذكر هذا الإسناد لذلك المتن، وإنما الذي أخرجه البيهقي في كتبه: "السنن الكبرى" 10/ 192، و "الدلائل" 1/ 316، و "الآداب" (149) عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد نفسه حديث أبي سعيد الخُدري، قال: كان رسولُ الله ﷺ أشدَّ حياءً من العذراء في خدرها، وكان إذا كره شيئًا عرفناه في وجهه. وهذا موضعه هنا في باب شمائله ﷺ، وهو حديث أخرجه أحمد 18/ (11683) و (11833) و (11862) و (11874)، والبخاري (3562) و (6102) و (6119)، ومسلم (2320)، وابن ماجه (4180)، وابن حبان (6306 - 6308) من طرق عن شعبة بإسناده هذا.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: لیکن دنیا میں کسی نے بھی اس "متن" کو اس "سند" کے ساتھ روایت نہیں کیا، سوائے اس کے جو ہمیں یہاں "مستدرک" کے اصول (نسخوں) میں ملا۔ ہمارا غالب گمان یہ ہے کہ یہ ایک پرانی غلطی ہے جس میں "انتقالِ بصر" (نظر چوکنے) کی وجہ سے نظر اس سے پہلی روایت کے متن پر چلی گئی، چنانچہ (کاتب نے) یہ سند اس (پچھلے) متن کے ساتھ لگا دی۔ 📌 اہم نکتہ: حالانکہ بیہقی نے اپنی کتب: "السنن الکبریٰ" 10/ 192، "الدلائل" 1/ 316، اور "الآداب" (149) میں ابوعبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث روایت کی ہے، جس کے الفاظ ہیں: "رسول اللہ ﷺ پردہ نشین کنواری دوشیزہ سے بھی زیادہ حیادار تھے، اور جب آپ کسی چیز کو ناپسند فرماتے تو ہم آپ کے چہرہ مبارک سے پہچان لیتے تھے۔" اور یہی حدیث یہاں "شمائلِ مصطفیٰ ﷺ" کے باب میں محل نظر (مناسب) ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ وہ حدیث ہے جسے امام احمد (کئی مقامات پر)، بخاری (3562، 6102، 6119)، مسلم (2320)، ابن ماجہ (4180) اور ابن حبان (6306-6308) نے شعبہ کے مختلف طرق سے ان کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
(1) هكذا في نسخنا الخطية، وهذه قراءة الجماعة غير ابن كثير وحفص عن عاصم، فقرآ بالإفراد. انظر "زاد المسير" لابن الجوزي 2/ 75.
📝 نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہ اسی طرح ہے، اور یہ ابن کثیر اور حفص عن عاصم کے علاوہ پوری جماعت کی قراءت ہے (جو جمع کے صیغے کے ساتھ ہے)، جبکہ ان دونوں نے مفرد پڑھا ہے۔ تفصیل کے لیے ابن الجوزی کی "زاد المسیر" 2/ 75 ملاحظہ فرمائیں۔