🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. ذكر مقامات مرور النبى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عند الهجرة
ہجرت کے دوران نبی کریم ﷺ کے گزرنے کے مقامات کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4319
حدثنا أبو بكر بن إسحاق [أخبرنا محمد بن غالب] (4) حدثنا أبو الوليد، حدثنا عبيد الله بن إياد بن لَقِيط، حدثنا إياد بن لَقِيط، عن قيس بن النعمان قال: لما انطلق النبي ﷺ وأبو بكر مُستَخْفِيين، مرُّوا بعبد يرعى غنمًا، فاستسقياه من اللبن فقال: ما عندي شاةٌ تُحلَبُ غيرَ أنَّ هاهنا عَناقًا حَمَلتْ أول الشتاء، وقد أَخدَجَتْ، وما بقي لها لَبنٌ، فقال:"ادْعُ بها"، فدعا بها، فاعتقلها النبيُّ ﷺ وَمَسَحَ ضَرْعَها، ودعا حتى أنزلَتْ، قال: وجاء أبو بكر بمَجَنٍّ، فحلب فسقى أبا بكر، ثم حَلَبَ فسقى الراعي: ثم حَلَبَ فشرب، فقال الراعي: بالله مَن أنتَ، فوالله ما رأيتُ مِثلَك قَطُّ؟ قال:"أوَتَراك تكتُم عَليَّ حتى أُخبرك؟" قال: نعم، قال:"فإني محمد رسول الله" فقال: أنت الذي تزعم قريش أنه صابئ؟، قال: إنهم ليقولون ذلك" قال: فأشهد أنك نبي، وأشهد أنَّ ما جئتَ به حقٌّ، وأنه لا يفعل ما فعلت إلا نبي، وأنا مُتبعك، قال:"إنك لن تستطيع ذلك يومك، فإذا بَلَغَك أني قد ظهرت فأتِنا" (5) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4273 - صحيح
سیدنا قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مستخف ہو کر (مکہ سے) نکلے۔ (مستخف اس آدمی کو کہتے ہیں جس کو اس کی قوم نے حقیر جانا ہو) تو ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا، وہ بکریاں چرا رہا تھا۔ انہوں نے اس سے دودھ مانگا، اس نے کہا: اس وقت میرے پاس دودھ دینے والی صرف ایک یہی بکری ہے اور یہ بھی سردیوں کے شروع میں حاملہ ہو گئی تھی لیکن اس نے بچہ گرا دیا تھا، اور اب یہ دودھ نہیں دیتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ، وہ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ٹانگ کو اپنی ٹانگ اور ران کے درمیان دبا لیا اور اس کے تھنوں پر ہاتھ لگایا اور دعا مانگی، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور دعا کی برکت سے) اس بکری کا دودھ اتر آیا۔ (راوی) کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈھال لے آئے، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں) اس کو دوہا پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا اور اس کو دوہا، پھر چرواہے کو بلایا اور پھر دوہا۔ سب نے سیر ہو کر دودھ پیا۔ چرواہا بولا: تجھے خدا کی قسم ہے تم مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو؟ خدا کی قسم! میں نے آپ جیسا انسان کبھی نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم میری راز داری رکھو تو میں تمہیں بتاؤں گا (کہ میں کون ہوں) اس نے راز داری کی حامی بھر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔ اس نے کہا: اچھا تم ہی ہو وہ شخص جس کے بارے میں قریش کا گمان ہے کہ وہ صابی (ستارہ) پرست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک وہ لوگ ایسے ہی کہتے ہیں۔ اس نے کہا: تو میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ نبی ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ جو کچھ لائے ہیں سب حق ہے۔ اور جو کمال آپ نے کر کے دکھایا ہے یہ نبی کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔ اور بے شک میں آپ کے ہمراہ چلوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج تو تمہارا ہمارے ساتھ جانا مناسب نہیں ہے البتہ جب تمہیں میرے غلبہ کی خبر مل جائے تب ہمارے پاس چلے آنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4319]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4319 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) سقط من أصولنا الخطية، واستدركناه من رواية البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 497 عن أبي عبد الله الحاكم.
📝 نوٹ / توضیح: (4) یہ حصہ ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط تھا، جسے ہم نے بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (2/ 497) میں موجود ابو عبداللہ الحاکم کی روایت سے مکمل (استدراک) کیا ہے۔
(5) إسناده صحيح كما قال الحافظ ابن حجر في "مختصر زوائد البزار" (1342). أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي.
⚖️ درجۂ حدیث: (5) اس کی سند صحیح ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "مختصر زوائد البزار" (1342) میں فرمایا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو الولید سے مراد "ہشام بن عبدالملک الطیالسی" ہیں۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 2/ 497 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (2/ 497) میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه البزار كما في "كشف الأستار" (1743)، و "مختصر زوائد البزار" (1342) عن محمد بن معمر، والطبراني في "الكبير" 18/ (874) عن محمد بن محمد التمّار البصري، كلاهما عن أبي الوليد الطيالسي، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بزار نے (دیکھیں: کشف الاستار 1743، مختصر زوائد البزار 1342) محمد بن معمر سے؛ اور طبرانی نے "الکبیر" (18/ 874) میں محمد بن محمد التمار البصری سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں اسے ابو الولید الطیالسی سے (اسی سند کے ساتھ) روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه أبو يعلى في "مسنده الكبير" كما في "المطالب العالية" (4243) عن جعفر بن حميد، والطبراني في "الكبير" 18 (874)، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (5691) من طريق عاصم بن علي، وأبو نعيم في "الحلية" 9/ 41 من طريق عبد الرحمن بن مهدي، ثلاثتهم عن عبيد الله ابن إياد بن لقيط، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو یعلیٰ نے "المسند الکبیر" میں (دیکھیں: المطالب العالیہ 4243) جعفر بن حمید سے؛ طبرانی نے "الکبیر" (18/ 874) اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (5691) میں عاصم بن علی کے طریق سے؛ اور ابو نعیم نے "الحلیہ" (9/ 41) میں عبدالرحمٰن بن مہدی کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں اسے عبیداللہ بن ایاد بن لقیط سے (اسی سند کے ساتھ) روایت کرتے ہیں۔
أخْدَجَتْ، أي: ألقت حملها قبل تمام نتاجه.
📝 نوٹ / توضیح: "أخدجت": یعنی اس نے اپنا بچہ (حمل) مدت پوری ہونے سے پہلے گرا دیا۔