🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. ذكر معاشرة أهل الصفة
اہلِ صفہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی معاشرت کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4338
حدثنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتاب العَبْدي ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك بن مِغْوَل، عن فُضَيل بن غَزْوان، عن أبي حازم، عن أبي هريرة، قال: لقد كان أصحابُ الصُّفّة سبعين رجلًا، ما لهم أرديةٌ (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه! قال الحاكم: تأمّلتُ هذه الأخبار الواردة في أهل الصفة، فوجدتُهم من أفاضل الصحابة ﵃، وَرَعًا وتوكُّلًا على الله ﷿، ومُلازمةً لخدمة رسول الله ﷺ، اختار الله تعالى لهم ما اختاره لنبيه ﷺ من المسكنة والفقر، والتفرغ لعبادة الله ﷿، وترك الدنيا لأهلها، وهم الطائفة المنتمية إليهم الصُّوفِيَّة قرنًا بعد قَرْنٍ، فمن جَرَى على سُنَّتِهم وصبرهم على تركِ الدنيا، والأُنس بالفقر، وتركِ التعرُّض للسؤال، فهم في كل عصرٍ بأهل الصُّفّة مُقْتَدُون، وعلى خالقهم مُتوكِّلُون.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4292 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اصحاب صفحہ 70 تھے، ان کے پاس باعث زینت کوئی چیز نہ تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ فائدہ: امام حاکم کہتے ہیں: اہل صفحہ کے متعلق وارد ان احادیث میں، میں نے غور کیا تو اکابر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پرہیزگار اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہنے والے پایا، اور اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو وہی فقر و فاقہ، وہی مسکنت اور عبادت الٰہی کے لیے گریہ زاری عطا فرمائی اور دنیا کو اہل دنیا کے سپرد کر دینے کا وہی جذبہ عطا فرمایا جو اس نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا تھا۔ اور یہ وہی لوگ ہیں جو ہر زمانہ میں صوفیاء کہلائے۔ اور جو آدمی بھی ان کے طریقہ کار پر عمل پیرا ہو کر ترک دنیا پر صبر اختیار کرے، فاقہ مستی کے ساتھ لگاؤ قائم کرے اور اہل دنیا سے سوال ترک کرے، تو ہر زمانہ میں ایسے لوگ اہل صفحہ ہی کے پیروکار کہلائیں گے اور اپنے پیدا کرنے والے پر بھروسہ کرنے والے قرار پائیں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4338]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4338 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) خبر إسناده قوي من أجل محمد بن سابق، وقد توبع. أبو حازم: هو سلمان الأشجعي مولاهم.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) اس خبر کی سند "محمد بن سابق" کی وجہ سے قوی ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو حازم سے مراد "سلمان الاشجعی" (ان کے آزاد کردہ غلام) ہیں۔
وأخرجه البخاري (442) من طريق محمد بن فضيل بن غزوان، وابن حبان (682) من طريق الفضل بن موسى، كلاهما عن الفضيل بن غزوان، به. بلفظ: ما منهم رجل عليه رداء، إما إزار وإما كساء. هذا لفظ ابن فضيل، ولفظ الفضل بن موسى بنحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (442) نے محمد بن فضیل بن غزوان کے طریق سے؛ اور ابن حبان (682) نے فضل بن موسیٰ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں فضیل بن غزوان سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: بخاری کے الفاظ یہ ہیں: "ان میں سے کسی آدمی پر چادر (رداء) نہ تھی، یا تو ازار (تہبند) تھا یا کملی"۔ یہ ابن فضیل کے الفاظ ہیں، اور فضل بن موسیٰ کے الفاظ بھی اسی طرح ہیں۔
No matching content found
📝 نوٹ: (اصل متن میں) کوئی مماثل مواد نہیں ملا۔