المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
18. ذكر معاشرة أهل الصفة
اہلِ صفہ کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی معاشرت کا ذکر
حدیث نمبر: 4337
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن عمر بن ذر قال: حدثنا مُجاهد، عن أبي هريرة قال: كان أهل الصُّفَّة أضيافَ الإسلام، لا يأوون إلى أهل ولا مالٍ، ووالله الذي لا إله إلا هو إن كنتُ لأعتَمِدُ بكَبدي إلى الأرض من الجوع، وأشدُّ الحَجَر على بطني من الجوع، ولقد قعَدتُ يومًا على طريقهم الذي يَخرُجون فيه، فمَرَّ بي أبو بَكْر فسألته عن آيةٍ من كتاب الله ما أسأله إلا ليستتبعني، فمرَّ ولم يفعل، ثم مَرَّ عمر، فسألته عن آية من كتاب الله ما أسأله إلا ليستَتْبِعَني، فمَرَّ ولم يفعل، ثم مَرَّ أبو القاسم ﷺ فتبسم حين رآني، وقال:"أبا هر" قلت: لبيك يا رسول الله، فقال:"الْحَقْ" ومضى، فاتَّبَعْتُه، ودخل منزله، فاستأذنته فأذن لي، فوجد لبنًا في قدح، فقال:"من أين لكم هذا اللبن؟" فقيل: أهداهُ لنا فلانٌ، فقال رسول الله ﷺ:"أبا هِرّ" فقلت: لبيك، فقال:"الْحَق أهلَ الصُّفّة فادعُهُم"، فهم أضيافُ الإسلام، لا يَأوُون على أهل ولا على مال، إذا أتته صدقةٌ بعثَ بها إليهم ولم يتناول منها شيئًا، وإذا أتته هدية أرسل إليهم، فأصابَ منها وأشرَكَهم فيها، فَسَاءني ذلك، وقلت: ما هذا القَدَحُ بين أهل الصُّفّة، وأنا رسوله إليهم، فيأمرني أن أُدَوِّره عليهم، فما عَسَى أَن يُصيبني منه، وقد كنتُ أرجو أن يصيبني منه ما يُغنيني؟ ولم يكن بُدٌّ من طاعةِ الله وطاعة رسوله ﷺ، فأتيتهم فدعوتُهم. فلما دخَلُوا عليه، وأخذُوا مَجالِسَهم قال:"أبا هِرِّ، خُذِ القَدَحَ فَأَعطِهِم" فأخذتُ القَدَحَ فجعلتُ أنا وله الرجل، فيشربُ حتى يَرْوَى، ثم يَرُدُّه، وأنا وله الآخَرَ فيشربُ، حتى انتهيتُ به إلى رسول الله ﷺ وقد روي القومُ كلهم، فأخذ رسول الله ﷺ القَدَحَ فوضَعَه على يديه، ثم رفع رأسه إليَّ فتبسم، وقال:"أبا هر"، فقلت: لبيك يا رسول الله، فقال:"اقعُدْ فاشرب"، فشربتُ، ثم قال:"اشرب" فشربتُ، ثم قال:"اشرب" فشربتُ، فلم أزل أشربُ ويقول:"اشرب" حتى قلتُ: والذي بعثك بالحقِّ ما أجد له مسلكًا، فأَخَذَ القَدَحَ، فَحَمِدَ الله وسمَّى ثم شَرِب (1) . صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه بهذه السياقة (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4291 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4291 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اہل صفہ اسلام کے مہمان لوگ تھے، یہ مال و دولت اور رشتہ داریوں کی طرف مائل نہ تھے۔ اور اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ میں بھوک کی وجہ سے زمین پر لیٹا رہتا تھا اور بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیتا تھا۔ ایک دن میں اس راستے میں بیٹھ گیا جس راستے سے لوگ (مسجد سے) باہر نکلا کرتے تھے۔ میرے پاس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گزرے تو میں نے ان سے قرآن پاک کی ایک آیت کا مطلب پوچھا۔ میرے اس سوال کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہ تھا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہیں گے، لیکن انہوں نے ایسا نہ کیا۔ پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ گزرے، میں نے ان سے بھی قرآن کریم کی ایک آیت کے بارے میں پوچھا، ان سے سوال کرنے کا مقصد بھی صرف یہی تھا کہ یہ مجھے اپنے ساتھ چلنے کو کہیں گے، لیکن انہوں نے بھی ایسا نہ کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو مجھے دیکھ کر مسکرا دئیے، اور فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: میرے ساتھ چلو، پھر آپ چل دئیے اور میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، چلتے چلتے آپ علیہ السلام اپنے گھر پہنچ گئے، میں نے اجازت مانگی تو مجھے بھی (اندر آنے کی) اجازت مل گئی، آپ علیہ السلام نے دیکھا کہ ایک پیالے میں دودھ موجود ہے، آپ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ یہ دودھ کہاں سے آیا؟ آپ علیہ السلام کو بتایا گیا کہ فلاں آدمی کی جانب سے تحفہ آیا ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: اہل صفہ کو بلا لاؤ، یہ اسلام کے مہمان لوگ ہیں، یہ اہل و عیال اور مال کے پیچھے سرگرداں نہیں پھرتے۔ جب بھی آپ علیہ السلام کے پاس کوئی صدقہ آتا تو آپ علیہ السلام (سارے کا سارا صدقہ) ان کی طرف بھیج دیا کرتے تھے۔ اور خود اس میں سے کچھ بھی نہیں رکھتے تھے، اور جب کبھی آپ کے پاس کوئی ہدیہ (تحفہ) آتا تو ان کے ساتھ ساتھ خود بھی اس میں شریک ہوتے۔ (خیر) مجھے اس وقت یہ بات بہت ناگوار گزری اور میں نے سوچا کہ یہ ایک پیالہ اہل صفہ میں کیسے پورا آئے گا؟ جبکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ان کی طرف بھیجا گیا ہوں اور آپ علیہ السلام مجھے یہ حکم بھی دیں گے کہ یہ پیالہ ان تمام تک پہنچانا ہے۔ لگتا نہیں تھا کہ اس میں سے میرے لیے بھی کچھ بچے گا لیکن مجھے امید تھی کہ مجھے اس میں سے اتنا تو مل ہی جائے گا جو میرے لیے کافی ہو گا۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا، چنانچہ میں ان کے پاس گیا اور ان کو بلا لایا۔ جب وہ سب لوگ آ کر اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے تو آپ علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: ابوہریرہ! یہ پیالہ پکڑو اور ان کو دو، میں نے پیالہ پکڑ لیا اور ایک ایک آدمی کو دینا شروع کیا، وہ دودھ پی پی کر سیراب ہو جاتا پھر واپس کر دیتا۔ پھر میں دوسرے کو دے دیتا وہ بھی پیٹ بھر کر پیتا (اور واپس کر دیتا) حتیٰ کہ یہ پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گیا اور تمام لوگ سیر ہو چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ پکڑ کر اپنے سامنے رکھا، پھر میری جانب سر اٹھا کر مسکرا دئیے اور فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے کہا: لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، اور پیئو، میں نے پیا، آپ علیہ السلام نے پھر فرمایا: پیئو، میں نے پھر پیا، آپ علیہ السلام نے پھر فرمایا: پیئو، میں نے پھر پیا، آپ علیہ السلام فرماتے رہے اور میں پیتا رہا حتیٰ کہ میں نے کہا: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب تو کوئی گنجائش نہیں ہے۔ پھر آپ علیہ السلام نے وہ پیالہ پکڑا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی اور بسم اللہ پڑھ کر پی لیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الهجرة/حدیث: 4337]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4337 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل أحمد بن عبد الجبار - وهو العطاردي - وقد توبع. مجاهد: هو ابن جَبر المكي.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے اور یہ سند "احمد بن عبدالجبار" (العطاردی) کی وجہ سے حسن ہے، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔ مجاہد سے مراد "ابن جبر المکی" ہیں۔
وأخرجه الترمذي (2477) عن هَنّاد بن السَّرِي، عن يونس بن بكير، بهذا الإسناد. وقال: حديث صحيح.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (2477) نے ہناد بن السری عن یونس بن بکیر کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور فرمایا: "یہ حدیث صحیح ہے۔"
وأخرجه أحمد 16/ (10679)، والبخاري (6246) و (6452)، والنسائي (11808)، وابن حبان (6535) من طرق عن عمر بن ذر، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (16/ 10679)، بخاری (6246 اور 6452)، نسائی (11808) اور ابن حبان (6535) نے عمر بن ذر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه مختصرًا البخاري (5375)، وابن حبان (7151) من طريق أبي حازم سلمان الأشجعي، عن أبي هريرة. وفي آخره قال أبو هريرة: فلقيتُ عمر، وذكرت له الذي كان من أمري، وقلت له: فولّى الله من كان أحق به منك يا عمر، والله لقد استقرأتك الآية، ولأنا أقرأ لها منك، قال عمر: والله لأن أكون أدخلتك أحب إليَّ من أن يكون لي مثل حمر النعم.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (5375) اور ابن حبان (7151) نے ابو حازم سلمان الاشجعی عن ابی ہریرہ کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس کے آخر میں حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں: "میں عمر سے ملا اور انہیں اپنا معاملہ بتایا اور کہا: اللہ نے اس ہستی (نبی ﷺ) کو اس (نیکی) کا انتظام سونپ دیا جو آپ سے زیادہ اس کے حقدار تھے اے عمر! اللہ کی قسم میں نے آپ سے آیت پڑھنے کا کہا تھا حالانکہ میں آپ سے زیادہ اس کا قاری (جاننے والا) تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر میں آپ کو اپنے ساتھ لے جاتا (اور کھانا کھلاتا) تو یہ مجھے سرخ اونٹوں سے زیادہ محبوب ہوتا۔"
وقوله: أعتمد بكبدي إلى الأرض، أي: ألصق بطني بالأرض، أو هو كناية عن سقوطه إلى الأرض مغشيًا عليه.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول "أعتمد بکبدی إلی الارض": یعنی میں (شدتِ بھوک سے) اپنا پیٹ زمین کے ساتھ چپکا دیتا تھا، یا یہ زمین پر بے ہوش ہو کر گرنے سے کنایہ ہے۔
(2) قد أخرجه البخاري بسياق قريب جدًّا منه.
📖 حوالہ / مصدر: (2) اسے امام بخاری نے اس کے بہت ہی قریبی سیاق کے ساتھ روایت کیا ہے۔