المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
1. رؤيا عاتكة قبل قدوم ضمضم فى قتل كفار قريش
ضمضم کے آنے سے پہلے عاتکہ کا خواب جس میں قریش کے کافروں کی ہلاکت دیکھی
حدیث نمبر: 4343
ما حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدثني حسين بن عبد الله بن عُبيد الله بن العباس، عن عكرمة، عن ابن عبّاس. قال ابن إسحاق: وحدثني يزيد بن رومان، عن عُروة بن الزبير؛ قالا: رأتْ عاتِكةُ بنت عبد المُطلب فيما يرى النائمُ قبل مَقدَم ضَمْضَم (1) بن عمرو الغفاري على قريش (2) بمكة بثلاث ليالٍ رؤيا، فأصبحت عاتكة فأعظَمَتْها، فبعثت إلى أخيها العباس بن عبد المطلب فقالت له: يا أخي، لقد رأيتُ رؤيا الليلة ليدخُلَنَّ على قومِك منها شرٌّ وبَلاءٌ، فقال: وما هي؟ فقالت: رأيتُ فيما يرى النائم أنَّ رجلًا أقبل على بعيرٍ له فوقف بالأبْطَحِ، فقال: انفِرُوا يا آلَ غُدَرَ لِمَصارِعِكم في ثلاث، فأرى الناس اجتمعوا إليه، ثم أرى بَعِيرَه دخل به المسجد واجتمعَ الناسُ إليه، ثم مَثَلَ به بَعِيرُه، فإذا هو على رأس الكعبة، فقال: انفروا يا آلَ غُدَرَ لِمَصارعكم في ثلاث، ثم أرى بعيرَه مثل به على رأس أبي قُبيس، فقال: انفروا يا آلَ غُدَرَ لِمَصارعِكم في ثلاثٍ، ثم أخذ صخرةً، فأرسلها من رأس الجبل فأقبلتْ تَهوِي، حتى إذا كانت في أسفله ارفضت (1) ، فما بقيت دارٌ من دُور قومِك ولا بيتٌ إلا دخل فيه بعضُها، فقال العباس: والله إنَّ هذه لرؤيا فاكتُمِيها، قالت: وأنت فاكتُمْها، لئن بلغت هذه قريشًا لَيُؤذُونا. فخرج العباس من عندها ولقي الوليدَ بن عُتبة - وكان له صديقًا - فذكرها له، واستكتمه إياها، فذكرها الوليد لأبيه، فتحدَّث بها ففَشَا الحديث، قال العباس: والله إني لَغَادٍ إلى الكعبة لأطُوفَ بها إذ دخلتُ المسجد، فإذا أبو جهل في نفرٍ من قريش يتحدثون عن رؤيا عاتكة، فقال أبو جهل: يا أبا الفضل، متى حدثت هذه النبيَّة فيكم؟! قلت: وما ذاك، قال: رؤيا رأتها عاتكة بنت عبد المطلب، أما رضيتُم يا بني عبد المطلب أن تنبأ رجالكم حتى تنبأ نساؤكم! فسنتربَّص بكم هذه الثلاث التي ذكرت عاتكة، فإن كان حقًّا فسيكون، وإلا كتبنا عليكم كتابًا أنكم أكذَبُ أهل بيتٍ في العرب، فوالله ما كان إليه مني من كبيرٍ إلَّا أني أنكرتُ ما قالت، فقلت: ما رأت شيئًا ولا سمعتُ بهذا، فلما أمسيتُ لم تبق امرأةٌ من بني عبد المطّلب إلَّا أتتني، فقلن: صبرتُم لهذا الفاسق الخَبيث أن يقع في رجالكم، ثم تناول النساء وأنت تسمعُ، فلم يكن عندك في ذلك غَيْرٌ (2) ؟! فقلت: قد والله صدقتن، وما كان عندي في ذلك من مِن غَيْرِ، إلَّا أني قد أنكرتُ ما قال، فإن عاد لأكْسَعَنَّه، فغَدَوتُ في اليوم الثالث أتعرَّضُه ليقول شيئًا فأُشاتِمَه، فوالله إني لَمُقبلٌ نحوه، وكان رجلًا حديد الوجهِ، حديد المنظَر، حديد اللسانِ، إذ ولى نحو باب المسجد يَشتَدُّ، فقلتُ في نفسي: اللهم العنه، أكل هذا فَرَقًا أن أُشاتِمَه، وإذا هو قد سمع ما لم أسمع، صوتَ ضَمْضَم بن عمرو وهو واقفٌ على بعيره بالأبْطَح قد حَوّل رَحْلَه، وشَقّ قَمِيصَه، وجَدَع بَعِيرَه يقول: يا معشر قريش، اللَّطِيمةَ اللَّطِيمةَ، أموالُكم مع أبي سفيان وتجارتُكم قد عَرَضَ لها محمدٌ وأصحابه، فالغوثَ، فَشَغَلَه ذلك عني، فلم يكن إلَّا الجَهازُ حتى خَرَجْنَا، فَأَصابَ قريشًا ما أصابها يوم بدر من قتل أشرافِهم، وأسرِ خِيارهم، فقالت عاتكةُ بنت عبد المطلب: ألم تكن الرؤيا بحقٍّ وعابَكم..... بتصديقها فَلٌّ من القوم هارِبُ فقلتُم - ولم أكذب -: كذبتِ وإنما.... يُكذِّبنا بالصِّدقِ من هو كاذِبُ وذكر قصة طويلة (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4297 - حسين ضعيف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4297 - حسين ضعيف
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ابن اسحاق اور عروہ بن زبیر کا بیان ہے کہ عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے ضمضم بن عمرو الغفاری کے مکہ میں قریش پر چڑھائی کرنے سے تین دن پہلے خواب دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو سیدنا عاتکہ رضی اللہ عنہا نے اس خواب کو معمولی سمجھا اور اپنے بھائی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور کہا: اے میرے بھائی! میں نے رات کو ایک خواب دیکھا ہے، اس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ کی قوم پر کوئی آزمائش اور مصیبت نہ آ جائے، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ کیا (خواب) ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے دیکھا ہے کہ ایک آدمی اپنے اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور (مقام) ابطح میں کھڑا ہو کر کہنے لگا: اے غدارو! باہر نکلو، تین دن بعد تمہارے ساتھ جنگ ہو گی۔ میں دیکھتی ہوں کہ وہ لوگ اس کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں، پھر میں دیکھتی ہوں کہ اس کا اونٹ مسجد میں داخل ہو جاتا ہے اور لوگ اس کے اردگرد جمع ہو جاتے ہیں، پھر وہ اونٹ سمیت کعبہ کے اوپر ہوتا ہے اور کہتا ہے: اے غدر والو! تین دن میں تمہارا قتل ہو گا، پھر وہ اونٹ سمیت ابوقبیس (پہاڑ) پر ہوتا ہے اور کہتا ہے: اے غدر والو! باہر نکلو، تین دن میں تمہارا قتل ہو گا۔ پھر اس نے پہاڑ کی چوٹی سے ایک بھاری پتھر گرا دیا، وہ نیچے کی جانب لڑھکتا آیا حتی کہ جب وہ پہاڑ کی گہرائی میں پہنچا تو پھٹ گیا تو تمہاری قوم کا کوئی گھر اور کوئی مکان ایسا نہیں ہو گا جس میں اس کے ذرات نہ پہنچے ہوں۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: خدا کی قسم یہ خاص بات ہے، اس کو چھپا کر رکھنا۔ سیدنا عاتکہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ بھی اس کو پوشیدہ رکھنا، کیونکہ اگر اس بات کی خبر قریش کو ہو گئی تو وہ مجھے تکلیف دیں گے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے اور اپنے دوست ولید بن عتبہ کے پاس گئے اور یہ خواب اس کو سنا دیا اور ساتھ ہی اس کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کرنے کی تاکید بھی کر دی، لیکن ولید نے یہ خواب اپنے والد کو بتا دیا، اور اس کے والد نے جگہ جگہ بیان کر دیا، اس وجہ سے یہ بات پھیل گئی، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں کل کعبۃ اللہ کا طواف کروں گا، لیکن جب میں مسجد میں داخل ہوا تو ابوجہل پوری ایک جماعت میں بیٹھا تھا اور ان میں اسی خواب کا تذکرہ ہو رہا تھا، ابوجہل نے کہا: اے ابوالفضل! تم میں یہ عورت کب سے نبی بن گئی ہے؟ میں نے کہا: کیا مطلب؟ اس نے کہا: وہی عاتکہ بنت عبدالمطلب کی خواب۔ اے بنی عبدالمطلب! کیا تمہیں اپنے مردوں کا دعوائے نبوت کافی نہ تھا کہ اب تمہاری عورتوں نے بھی نبوت کے دعوے شروع کر دئیے ہیں؟۔ ہم ان تین دنوں کا انتظار کر رہے ہیں، جن کا ذکر عاتکہ نے کیا ہے۔ کہ اگر (اس کا یہ خواب) حق ہوا تو ہو جائے گا ورنہ ہم تمہارے بارے میں یہ فیصلہ لکھ دیں گے کہ پورے عرب میں تمہارا گھرانہ سب سے زیادہ جھوٹا ہے (سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) خدا کی قسم! میرے لئے اس سے بڑھ کر تکلیف دہ کوئی بات نہیں ہو سکتی تھی۔ میں عاتکہ کے خواب سے مکر گیا اور میں نے کہہ دیا کہ نہ اس نے کوئی خواب دیکھا ہے اور نہ میں نے اس سے کوئی بات سنی ہے۔ جب شام ہوئی تو بنی عبدالمطلب کی تمام عورتیں میرے پاس آئیں اور کہنے لگیں: تم نے اس فاسق خبیث کی باتیں سن کر بھی صبر کیا، اس نے تمہارے مردوں پر طعنہ زنی کی ہے اور تمہاری عورتوں پر بھی باتیں بنائیں اور تم (خاموش تماشائی بنے) سنتے رہے، تمہارے اندر غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہے؟ میں نے کہا: خدا کی قسم! سچ کہہ رہی ہو، اس معاملے میں واقعی مجھ میں غیرت نہیں تھی (یعنی غیرت تو تھی مگر میں اس پر بگڑ نہیں سکتا تھا) تو سوائے اس کے کہ میں اس بات سے ہی مکر جاتا میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا لیکن اب اگر اس نے دوبارہ ایسی کوئی بات کہی تو میں اس کو بھرپور جواب دوں گا۔ چنانچہ میں تیسرے دن ان کا مقابلہ کرنے کی نیت سے بیٹھا ہوا تھا کہ وہ کچھ بولے تو میں اس کو گالیاں دوں۔ خدا کی قسم! میں تو اس کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی لوہے کے چہرے والا، دیکھنے میں نیا اور تیز زبان والا، مسجد کے دروازے کی جانب تیزی سے بڑھا، میں نے اپنے دل میں کہا: یا اللہ! اس پر لعنت کر، میں اس سے مقابلہ بازی نہیں کر سکتا اور وہ ضمضم بن عمرو کی آواز سن رہا تھا جو میں نہیں سن رہا تھا۔ وہ اونٹ پر سوار ” ابطح “ میں کھڑا تھا، اس نے اپنا کجاوہ اتارا، اپنی قمیص پھاڑی اور اپنے اونٹ کی ناک کاٹ ڈالی اور بولا: اے گروہ قریش! بازار میں آؤ، بازار میں آؤ۔ تمہارا مال ابوسفیان کے پاس ہے اور تمہاری تجارت کو محمد اور اس کے ساتھیوں نے روک رکھا ہے اور آؤ میری مدد کرو۔ تو وہ لوگ اسی سلسلہ میں مشغول ہو گئے، اور ہم تیاری کر کے وہاں سے نکل گئے۔ تو اس دن قریش کو اتنا نقصان پہنچا جتنا جنگ بدر میں پہنچا تھا۔ ان کے بڑے بڑے لوگوں کو قتل کر دیا گیا اور سرداروں کو گرفتار کیا گیا تو سیدنا عاتکہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا میرا خواب سچا نہ تھا؟ اور اس کی تصدیق نے تمہیں نقصان دیا، قوم میں سے بہت کم لوگ بھاگ سکے۔ تو تم نے کہا: اور میں تمہارے جھٹلانے سے جھوٹی نہیں ہو گئی، کیونکہ سچائی کو جھوٹا ہی جھٹلاتا ہے پھر اس کے بعد مفصل قصہ بیان کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4343]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4343 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وقع في النسخ الخطية: أقبل ضمضم، وفيه سقط وتحريف.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ "أقبل ضمضم" لکھا ہے، جس میں "سقط" (کچھ حصہ غائب) اور "تحریف" ہے۔
(2) تحرّف في النسخ الخطية: إلى فرس. والتصويب من رواية البيهقي في "الدلائل".
📝 نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "فرس" ہوگیا ہے۔ درست لفظ کی تصحیح بیہقی کی "الدلائل" کی روایت سے کی گئی ہے۔
(1) تحرفت العبارة في النسخ الخطية إلى: كانت في أسفل ثم ارفاضت، والمثبت من رواية البيهقي في "الدلائل"، وارفضت بمعنى: تفتتت وتفرقت.
📝 نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں عبارت تحریف ہو کر "کانت فی أسفل ثم ارفاضت" ہوگئی ہے۔ درست عبارت وہ ہے جو بیہقی کی "الدلائل" سے ثابت ہے۔ "ارفضّت" کا معنی ہے: ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئی۔
(2) تحرّفت في أصولنا الخطية إلى: غيرا، بزيادة الألف آخره، وجاء على الصواب في "دلائل النبوة" للبيهقي، إذ رواه عن الحاكم، والغَيْر: التغيير والتبديل، فكأنَّ المعنى: أنه لم يكن عندك تغيير لما قيل، ولا إنكار لما تعرضنا إليه من الشتم والتوبيخ.
📝 نوٹ / توضیح: (2) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "غیرا" (آخر میں الف کے اضافے کے ساتھ) ہوگیا ہے، جبکہ بیہقی کی "دلائل النبوۃ" میں یہ درست آیا ہے (کیونکہ انہوں نے حاکم سے روایت کیا ہے)۔ "الغَیْر" کا مطلب ہے تبدیلی اور بدلاؤ۔ گویا معنی یہ ہے کہ: آپ کے پاس اس بات کو تبدیل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی جو کہی گئی، اور نہ ہی اس گالی گلوچ اور ملامت کا کوئی انکار تھا جس کا ہمیں سامنا کرنا پڑا۔
(1) إسناد هذا الخبر من رواية عروة بن الزبير حسن، إلا أنه مرسل، ولكنه وإن كان مرسلًا، قد روي نحوه من مرسل الزُّهْري ومن مرسل موسى بن عقبة أيضًا، فباجتماع هذه المراسيل يتقوى هذا الخبر، ولا يصح من رواية ابن عبّاس، لأنَّ حسين بن عبد الله ضعيف، ولم يسنده عن ابن عبّاس غيره، وقد روي من حديث عاتكة بنت عبد المطلب بإسنادٍ واهٍ إليها لا يُفرح بمثله، فالاعتماد في هذا الخبر على مراسيل عروة والزُّهري وموسى بن عقبة، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: (1) عروہ بن زبیر کی روایت سے اس خبر کی سند حسن ہے، مگر یہ مرسل ہے۔ 📌 اہم نکتہ / تقویت: اگرچہ یہ مرسل ہے، لیکن اس کی مثل زہری اور موسیٰ بن عقبہ کی مرسل روایات بھی مروی ہیں؛ پس ان تمام مراسیل کے اجتماع سے یہ خبر قوی ہو جاتی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ روایت ابن عباس سے صحیح نہیں ہے، کیونکہ (اس سند میں) حسین بن عبداللہ "ضعیف" ہے اور اس کے سوا کسی نے اسے ابن عباس سے مسنداً بیان نہیں کیا۔ یہ عاتکہ بنت عبدالمطلب کی حدیث سے بھی مروی ہے لیکن اس کی سند ان تک "واہی" (انتہائی کمزور) ہے اور ایسی سند پر خوش نہیں ہوا جا سکتا (ناقابلِ اعتبار ہے)۔ لہٰذا اس خبر میں اعتماد عروہ، زہری اور موسیٰ بن عقبہ کی مراسیل پر ہے۔ واللہ اعلم۔
وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 29 عن أبي عبد الله الحاكم وأبي سعيد محمد بن موسى بن الفضل، كلاهما عن أبي العباس محمد بن يعقوب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (3/ 29) میں ابو عبداللہ الحاکم اور ابو سعید محمد بن موسیٰ بن الفضل سے، اور وہ دونوں ابو العباس محمد بن یعقوب سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه ابن الأثير في "أسد الغابة" 6/ 185 من طريق رضوان بن أحمد الصيدلاني، عن أحمد بن عبد الجبار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن الاثیر نے "اسد الغابہ" (6/ 185) میں رضوان بن احمد الصیدلانی عن احمد بن عبدالجبار کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وهو في "سيرة ابن هشام" 1/ 607 وهي روايته عن زياد بن عبد الله البكائي، عن محمد بن إسحاق، غير أنه قال: أخبرني من لا أتهم، عن عكرمة، عن ابن عباس، ويزيد بن رومان عن عروة بن الزبير، قالا. فلم يصرح باسم حسين.
📖 حوالہ / مصدر: یہ "سیرت ابن ہشام" (1/ 607) میں موجود ہے جو ان کی زیاد بن عبداللہ البکائی عن محمد بن اسحاق سے روایت ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا: "مجھے اس نے خبر دی جسے میں متہم نہیں سمجھتا (عمن لا اتہم)، وہ عکرمہ سے، وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں؛ اور یزید بن رومان نے عروہ بن زبیر سے روایت کی ہے"۔ انہوں نے (راوی) حسین کے نام کی صراحت نہیں کی۔
وكذلك أخرجه البلادزي في "أنساب الأشراف" 4/ 26، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (7766) من طريق إبراهيم بن سعد، والطبري في "تاريخه" 2/ 428 من طريق سلمة بن الفضل الأبرش، كلاهما عن ابن إسحاق، به ولم يُصرحا باسم حُسين.
📖 حوالہ / مصدر: اسی طرح اسے بلاذری نے "انساب الاشراف" (4/ 26) اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (7766) میں ابراہیم بن سعد کے طریق سے؛ اور طبری نے "التاریخ" (2/ 428) میں سلمہ بن الفضل الابرش کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ دونوں ابن اسحاق سے (اسی سند کے ساتھ) روایت کرتے ہیں اور انہوں نے بھی حسین کے نام کی صراحت نہیں کی۔
وأخرجه الطبراني في "الكبير" 24 / (860) من طريق أبي الأسود، عن عروة، به. وأخرجه البيهقي في "دلائل النبوة" 3/ 101 من طريق موسى بن عقبة مرسلًا، ومن طريق موسى بن عقبة عن الزهري مرسلًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "الکبیر" (24/ 860) میں ابو الاسود عن عروہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔ نیز بیہقی نے "دلائل النبوۃ" (3/ 101) میں موسیٰ بن عقبہ کے طریق سے "مرسلًا"، اور موسیٰ بن عقبہ عن الزہری کے طریق سے "مرسلًا" تخریج کیا ہے۔
وأخرجه الطبراني في "المطولات" (32)، وفي "الكبير" 24/ 859)، وابن منده في "معرفة الصحابة" 1/ 936، وأبو نعيم في "معرفة الصحابة" (7494) من طريق عبد العزيز بن عمران، عن محمد بن عبد العزيز، عن ابن شهاب، عن حميد بن عبد الرحمن، عن أمه أم كلثوم بنت عقبة بن أبي مُعيط، عن عاتكة بنت عبد المطلب. وقال ابن منده: غريب بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے "المطولات" (32) اور "الکبیر" (24/ 859) میں؛ ابن مندہ نے "معرفۃ الصحابہ" (1/ 936) میں؛ اور ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابہ" (7494) میں عبدالعزیز بن عمران عن محمد بن عبدالعزیز عن ابن شہاب عن حمید بن عبدالرحمٰن عن امہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط عن عاتکہ بنت عبدالمطلب کے طریق سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: ابن مندہ نے فرمایا: "یہ اس سند کے ساتھ غریب ہے۔"
قلنا: بل الإسناد واهٍ بمرّة، لأنَّ عبد العزيز بن عمران - وهو المعروف بابن أبي ثابت - وشيخه محمد بن عبد العزيز - وهو ابن عمر بن عبد الرحمن بن عوف - واهيان.
⚖️ درجۂ حدیث: ہم کہتے ہیں: بلکہ یہ سند انتہائی واہی (کمزور ترین) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: کیونکہ عبدالعزیز بن عمران (جو ابن ابی ثابت کے نام سے معروف ہیں) اور ان کے شیخ محمد بن عبدالعزیز (جو ابن عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف ہیں) دونوں "واہی" (ضعیف) ہیں۔