المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
29. استجارة عبد الله بن أبى سرح عند عثمان وشفاعته عند النبى صلى الله عليه وآله وسلم
عبد اللہ بن ابی سرح کا حضرت عثمانؓ کے پاس پناہ لینا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ان کی سفارش کرنا
حدیث نمبر: 4408
حدَّثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا أبو داود سليمان بن الأَشْعث، حدَّثنا عثمان بن أبي شَيْبة، حدّثني أحمد بن المفضّل، حدَّثنا أسباطُ ابن نَصْر، قال: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عن مُصعب بن سَعْد، عن سعدٍ قال: لما كان يومُ فتح مَكةَ اختَبأ عبدُ الله بن سَعْد بن أبي سَرْحٍ عند عثمان بن عفان، فجاءَ به حتى أوقَفَه على النبيّ ﷺ، فقال: يا رسولَ الله، بايعْ عبدَ الله، فرفع رأسَه فنَظَر إليه ثلاثًا، ثم أقبَلَ على أصحابِه، فقال:"أما كان فيكُم رجلٌ رَشِيدٌ يقومُ إلى هذا حين رآني كَفَفْتُ يدي عن بَيعَتِه فيَقْتُلَه؟" فقالوا: ما نَدري يا رسول الله ما في نفسك، ألَا أَومأْتَ إلينا بعَينِك؟ فقال:"إنه لا يَنبَغي لِنبي أن تكون له خائنةُ الأَعيُنِ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4360 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4360 - على شرط مسلم
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: فتح مکہ کے دن عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر چھپ گئے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ کی بیعت لے لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا پھر آپ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں ہے؟ جب اس نے دیکھ لیا تھا کہ میں اس کی بیعت سے پہلو تہی کر رہا ہوں تو وہ اٹھ کر اس کو مار دیتا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں پتہ نہیں چل سکا تھا کہ آپ کے دل میں کیا ارادہ ہے۔ آپ ہمیں آنکھ سے اشارہ فرما دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی نبی کی شان کے لائق نہیں ہے کہ اس کی آنکھ خائن ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4408]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4408 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن من أجل أسباط بن نَصْر والسُّدِّي: واسمه إسماعيل بن عبد الرحمن بن أبي كَريمة. وهو في "سنن أبي داود" (2683) و (4359).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے، اسباط بن نصر اور السُدّی (اسماعیل بن عبدالرحمن بن ابی کریمہ) کی وجہ سے۔ یہ سنن ابی داؤد (2683، 4359) میں موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (3516) عن القاسم بن زكريا بن دينار، عن أحمد بن المفضَّل، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نسائی (3516) نے قاسم بن زکریا بن دینار عن احمد بن المفضل سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وخائنة الأعيُن: أن يُضمر في قلبه غير ما يُظهره للناس.
📝 نوٹ / توضیح: "خائنۃ الأعین": آنکھوں کی خیانت، یعنی انسان اپنے دل میں وہ چیز چھپائے جو وہ لوگوں پر ظاہر کر رہا ہے (چوری چھپے اشارہ کرنا)۔