المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
30. قصة إسلام أبى قحافة رضى الله عنه
حضرت ابو قحافہؓ کے اسلام لانے کا واقعہ
حدیث نمبر: 4411
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدَّثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق، قال: حدَّثنا يحيى بن عَبّاد بن عبد الله بن الزبير، عن أبيه عَبّاد بن عبد الله، عن أسماء بنت أبي بكر الصِّدِّيق، قالت: لما كان عامُ الفَتحِ ونزلَ رسولُ الله ﷺ ذا طُوى، قال أبو قُحافةَ لابنةٍ له - وكانت أصغرَ ولدِه -: أي بُنيّةُ، أَشْرفي بي على أبي قُبَيس - وقد كُفَّ بصرُه - فأشرفَتْ به عليه، فقال: أي بُنيّةُ، ماذا تَرَين؟ قالت: أرى سَوادًا مجتمِعًا، وأَرى رجلًا يشتدُّ (3) بين ذلك السَّواد مُقبِلًا [ومُدبِرًا] (1) ، فقال: تلك الخَيلُ يا بُنيّة، ثم قال: ماذا تَرَين؟ فقالت: أرى السَّواد قد انتشَرَ، فقال: إذًا واللهِ دُفِعَتِ الخَيلُ، فأسرِعى بي يا بُنيّةُ إلى بيتي، فَخَرجَتْ سريعًا حتى إذا هَبَطَتْ به إلى الأبْطَحِ؛ وكان في عنقها طَوقٌ لها من وَرِق، فاقتطعه إنسانٌ من عُنُقِها، فلما دخل رسولُ الله ﷺ المسجدَ خرجَ أبو بكر حتى جاءَ بأبيهِ يَقُودُه، فلما رآه ﷺ قال:"هَلَا تَركْتَ الشيخَ في بَيتِه حتى أَجِيئَه" فقال: يَمْشي هو إليكَ يا رسول الله أحقُّ مِن أن تمشيَ إليه، فأجلَسَه بين يَدَيه، ثم مَسَحَ رسولُ الله ﷺ صَدْرَه، وقال:"أسلِمْ تَسلَمْ" فأسلَمَ، ثم قامَ أبو بكر فأخذَ بيدِ أُختِه، فقال: أَنشُدُ باللهِ والإسلامِ طَوقَ أُختي، فواللهِ ما جاء به أحدٌ، ثم قال الثانيةَ: أنشُدُ باللهِ والإسلامِ طَوقَ أُختي، فما جاء به أحدٌ، فقال: يا أُخيّةُ، احتَسِبي طَوقَكِ، فواللهِ إِنَّ الأمانةَ في الناس لَقليلٌ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4363 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4363 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: فتح مکہ کے دن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ” ذی طوی “ میں تشریف لے آئے تو سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی سے کہا: اے بیٹی! مجھے ابوقبیس (پہاڑ) پر لے جاؤ۔ اس وقت سیدنا ابوقحافہ کی بینائی زائل ہو چکی تھی۔ وہ ان کو ابوقبیس پہاڑ پر لے گئی۔ ابوقحافہ نے پوچھا: بیٹی! تم کیا دیکھ رہی ہو؟ اس نے کہا: میں ایک بہت بڑا مجمع دیکھ رہی ہوں اور اس بڑے مجمع کے آگے آگے ایک آدمی آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا: اے بیٹی! یہ لشکر ہے۔ پھر پوچھا: بیٹی! تمہیں کیا دکھائی دے رہا ہے؟ اس نے کہا: میں دیکھ رہی ہوں کہ وہ مجمع بکھر رہا ہے۔ انہوں نے کہا: خدا کی قسم! اب لشکر منتشر ہو گیا ہے۔ تم مجھے جلدی جلدی گھر لے چلو، وہ جلدی جلدی چلنا شروع ہوئی جب وہ ” ابطح “ میں پہنچے تو ان کے گلے کا چاندی کا ہار کسی نے چھین لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گئے اور اپنے والد کو ساتھ لے آئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو فرمایا:” تم اس بزرگ کو گھر رہنے دیتے اور میں خود چل کر اس کے پاس چلا آتا “ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا چل کر آپ کی خدمت میں حاضر ہونا زیادہ اچھا تھا بہ نسبت آپ کے اس کے گھر جانے سے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا:” مسلمان ہو جا، سلامت رہے گا “ تو وہ مسلمان ہو گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہوئے اور اس کے ہار چھینے جانے کا اعلان کیا لیکن کسی نے بھی وہ پیش نہ کیا۔ انہوں نے دوسری مرتبہ پھر اعلان کیا لیکن پھر بھی وہ ہار کسی سے نہ مل سکا۔ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میری بہن! اپنے ہار سے تو ہی صبر کر لے۔ کیونکہ لوگوں میں امانت داری (کا جذبہ بہت) کم ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4411]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4411 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) كذلك جاء في رواية البيهقيّ في "دلائل النبوة" 5/ 95 عن أبي عبد الله الحاكم ورجل آخر عن أبي العباس، وهو الموافق لرواية رضوان من أحمد الصيدلاني عن أحمد بن عبد الجبار عند ابن الأثير في أسد الغابة 3/ 478، وفي أصول "المستدرك": يَسْري، وما أثبتناه أوجَهُ.
🔍 فنی نکتہ / تحقیقِ متن: بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (5/ 95) میں حاکم کی روایت اسی طرح آئی ہے، اور یہ ابن الاثیر کی "اسد الغابہ" (3/ 478) میں رضوان کی روایت کے موافق ہے۔ "مستدرک" کے اصل نسخوں میں لفظ "یَسری" ہے، لیکن جو ہم نے ثابت کیا ہے وہی زیادہ درست ہے۔
(1) قوله "ومدبرًا" أثبتناه من رواية البيهقيّ عن الحاكم، وهو ثابت في رواية رضوان بن أحمد عن أحمد بن عبد الجبار.
🔍 فنی نکتہ / تحقیقِ متن: لفظ "ومدبرًا" ہم نے بیہقی عن الحاکم کی روایت سے ثابت کیا ہے، اور یہ رضوان بن احمد عن احمد بن عبدالجبار کی روایت میں بھی ثابت ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل ابن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "حسن" ہے، ابن اسحاق کی وجہ سے۔
وأخرجه أحمد 44/ (26956)، وابن حبان (7208) من طريق إبراهيم بن سعد الزُّهْري، عن محمد بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (44/ 26956) اور ابن حبان (7208) نے ابراہیم بن سعد الزہری عن محمد بن اسحاق کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ذو طُوى: موضع بمكة، وهو وادٍ من أوديتها، يسيل في سفوح جبل أذاخر والحَجْون من الغرب.
📝 نوٹ / توضیح: "ذو طُویٰ": مکہ میں ایک مقام ہے، یہ مکہ کی وادیوں میں سے ایک وادی ہے جو جبلِ اذاخر اور حجون کے دامن میں مغرب کی طرف بہتی ہے۔
وأبو قُبيس: جبل من جبال مكة يُشرف على المسجد الحرام من مطلع الشمس.
📝 نوٹ / توضیح: "ابو قبیس": مکہ کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے جو مشرق کی جانب سے مسجد حرام پر جھانکا ہوا (مشرف) ہے۔
والأبطح: مكان كان ينزل فيه الحاجُّ إذا رجع من منى، وهو جِزْعٌ من وادي مكة بين المُنحنى إلى الحَجُون، ثم تليه البطحاء إلى المسجد الحرام.
📝 نوٹ / توضیح: "الأبطح": وہ جگہ جہاں حاجی منیٰ سے واپسی پر اترتے تھے۔ یہ وادیِ مکہ کا ایک حصہ ہے جو "مُنحنیٰ" اور "حجون" کے درمیان ہے، اس کے بعد "بطحاء" کا علاقہ شروع ہوتا ہے جو مسجد حرام تک جاتا ہے۔