🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. دخول الناس فى الإسلام أفواجا بعد فتح مكة
فتح مکہ کے بعد لوگوں کا جوق در جوق اسلام میں داخل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4412
حدَّثنا أبو عبد الله الحسين بن الحسن بن أيوب الطُّوسي، حدَّثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدَّثنا سليمان بن حَرْب، حدَّثنا حماد بن زيد، حدَّثنا أيوب، حدَّثنا أبو قِلابة، عن عَمرو بن سَلِمةَ، ثم قال: هو حيٌّ، ألا تَلْقاهُ فتسمعَ منه، فلقيتُ عَمرًا، فحدّثني بالحديث، قال: كنا بممرِّ الناسِ فتُحدِّثُنا الرُّكبانُ، فنسألُهم ما هذا الأمرُ، وما لِلناس؟ فيقولون: نبيٌّ زَعَمَ أَنَّ الله تعالى أرسلَه، وأنَّ الله أوحَى إليه كذا وكذا، وكانت العربُ تَلَوَّمُ بإسلامها الفتحَ، ويقولون: انظُروه، فإن ظهرَ فهو نبيٌّ فصَدِّقُوه، فلما كانَ وقعةُ الفتحِ بادَرَ كلُّ قومٍ بإسلامهم، فانطَلقَ أبي بإسلامهم إلى رسول الله ﷺ، فقَدِم فأقامَ عنده كذا وكذا، ثم جاء مِن عنده فتلقَّيناهُ، فقال: جئتُكم من عند رسول الله حَقًّا، وإنه يأمرُكم بكذا وكذا، فإذا حَضَرتِ الصلاةُ فليُؤذِّنْ أحدُكم وليَؤمَّكُم أكثرُكم قرآنًا، فنَظَروا فلم يَجِدُوا أكثرَ قُرآنًا مني، فقدَّموني، وأنا ابن سبعِ سنين أو ستِّ سنين، فكنتُ أصلِّي فإذا سجدتُ تَقلّصتْ بُردةٌ عليَّ، قال: تقولُ امرأَةٌ من الحيّ: غَطُّوا عنّا اسْتَ قارِئِكم، قال: فكُسِيتُ مُعَقَّدَةً من مُعَقَّد البَحرَينِ (1) بستةِ دراهمِ أو سبعةٍ، فما فَرِحتُ بشيءٍ كَفَرَحي بذلك (2) . قد روى البخاريّ هذا الحديث عن سليمان بن حَرْبٍ مختصرًا فأخرجتُه بطوله!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4364 - أخرج البخاري بعضه
سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کی گزرگاہ پر ہوتے تھے اور آتے جاتے قافلوں سے ملاقات کر کے ان سے پوچھتے کہ اصل مسئلہ کیا ہے؟ اور اس کے بارے میں لوگوں کے تاثرات کیا ہیں؟ تو وہ بتاتے کہ ایک نبی ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو رسول بنایا ہے اور اس کی طرف فلاں فلاں وحی آتی ہے۔ جبکہ لوگوں کو اسلام لانے میں ان کی فتح کا انتظار ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اس کو دیکھتے رہو اگر یہ غالب آ گیا تو واقعی نبی ہو گا تو اس کی تصدیق کر دینا۔ چنانچہ فتح مکہ کے بعد ہر قبیلہ ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں مشرف بااسلام ہوتا تو وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور کچھ عرصہ وہیں قیام کیا پھر وہاں سے آ گئے۔ تو ہم نے ان سے ملاقات کی۔ تو انہوں نے کہا: میں تمہارے پاس اللہ کے سچے رسول کے پاس سے آیا ہوں۔ اور وہ فلاں فلاں حکم دیتے ہیں۔ اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو ہم میں سے کوئی ایک آدمی اذان پڑھے اور تم میں سے وہ شخص جماعت کرائے جو تم میں سب سے اچھا قرآن پڑھتا ہو۔ ان لوگوں نے بہت تلاش کیا مگر ان لوگوں کو مجھ سے زیادہ اچھا قرآن پڑھنے والا کوئی نہ ملا۔ چنانچہ انہوں نے مجھے ہی آگے کر دیا۔ میری عمر اس وقت چھ یا سات سال ہو گی۔ تو میں ان کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ جب میں سجدہ میں جاتا تو میری چادر اکٹھی ہو جاتی تو قبیلے کی ایک خاتون نے کہا: اپنے امام کی سرین چھپانے کا انتظام کرو۔ سیدنا عمرو بن سلمہ بیان کرتے ہیں: تو مجھے ایک یمنی چادر پہننے کے لیے دی گئی جس کی قیمت چھ یا سات درہم تھی جتنی مجھے وہ چادر حاصل کرنے کی خوشی ہوئی اس سے پہلے کبھی اتنی خوشی نہیں ہوئی تھی۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے یہ حدیث سیدنا سلیمان بن حرب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مختصراً روایت کی ہے جبکہ میں نے اس کو مفصل بیان کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4412]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4412 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) كذلك جاء في رواية البيهقيّ في "دلائل النبوة" 5/ 111، وفي "معرفة السنن والآثار" 4/ (5777) عن أبي عبد الله الحاكم، وهو الموافق لما في مصادر تخريج الحديث التي ذكرت هذا الحرف، وهو المعروف في كتب اللغة حيث جاء فيها أنَّ المُعقَّد بُرد من بُرود هَجَر. قلنا: وهجرُ اسم كان يطلق قديمًا على بلاد البحرين، وهي المنطقة الشرقية من الجزيرة العربية. وجاء في أصول "المستدرك": اليمن بدل البحرين، ويغلب على ظننا أنها تحريف عن البحرين، والله أعلم.
🔍 فنی نکتہ / تحقیقِ متن و جغرافیہ: بیہقی کی "دلائل النبوۃ" (5/ 111) اور "معرفۃ السنن" (4/ 5777) میں حاکم سے روایت میں اسی طرح آیا ہے، اور یہی کتبِ لغت کے معروف قول کے موافق ہے کہ "المُعقَّد" ہجر کی چادروں (بُرد) میں سے ایک چادر ہے۔ ہم کہتے ہیں: "ہجر" قدیم زمانے میں "بحرین" (مشرقی عرب) کے علاقے کو کہا جاتا تھا۔ "مستدرک" کے اصول میں بحرین کی جگہ "یمن" لکھا ہے، ہمارا غالب گمان ہے کہ یہ "بحرین" سے تحریف ہے۔ واللہ اعلم۔
(2) إسناده صحيح. أيوب: هو ابن أبي تميمة السختياني، وأبو قِلابة: هو عبد الله بن زيد الجَرْمي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / تعیینِ راوی: "ایوب" سے مراد ابن ابی تمیمہ السختیانی ہیں، اور "ابو قلابہ" سے مراد عبداللہ بن زید الجرمی ہیں۔
وأخرجه بطوله البخاريّ (4302)، والنسائي (1612) من طريق عن سليمان بن حرب، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری (4302) اور نسائی (1612) نے سلیمان بن حرب کے واسطے سے طوالت کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 33/ (20333) عن إسماعيل ابن عُليّة، و 34/ (20685) من طريق شعبة بن الحجاج، وأبو داود (585) من طريق حماد بن سلمة، والنسائي (866) من طريق سفيان الثوري، أربعتهم عن أيوب السَّختياني، عن عمرو بن سلمة، دون ذكر أبي قلابة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (33/ 20333) نے اسماعیل بن علیہ سے، اور (34/ 20685) شعبہ سے؛ ابو داؤد (585) نے حماد بن سلمہ سے؛ اور نسائی (866) نے سفیان ثوری سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ چاروں ایوب السختیانی سے اور وہ عمرو بن سلمہ سے روایت کرتے ہیں، اس میں "ابو قلابہ" کا واسطہ ذکر نہیں کیا۔
وأخرجه مختصرًا جدًّا أحمد 25/ (15902) و 23/ (20334) و 34/ (20687) من طريق خالد الحذاء، عن أبي قلابة به. وأخرجه مختصرًا أيضًا النسائي (845) من طريق عاصم بن سليمان الأحول، عن عمرو بن سَلِمة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (25/ 15902 وغیرہ) نے خالد الحذاء عن ابی قلابہ کے طریق سے انتہائی مختصر روایت کیا ہے۔ اور نسائی (845) نے عاصم بن سلیمان الاحول عن عمرو بن سلمہ کے طریق سے بھی مختصراً روایت کیا ہے۔