المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
31. دخول الناس فى الإسلام أفواجا بعد فتح مكة
فتح مکہ کے بعد لوگوں کا جوق در جوق اسلام میں داخل ہونا
حدیث نمبر: 4414
حدَّثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن صاعِد، حدَّثنا إسماعيل بن أبي الحارث، حدَّثنا جعفر بن عَوْن، حدَّثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس، عن أبي مسعودٍ: أَنَّ رجلًا كَلَّم النبيّ ﷺ يومَ الفتح، فأخذَتْه الرِّعْدةُ، فقال النبي ﷺ: هَوِّنْ عليكَ، فإنما أنا ابن امرأةٍ من قُريش كانت تأكُلُ القَدِيدَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4366 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4366 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرتے ہوئے کانپنے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اپنے آپ کو قابو میں رکھو کیونکہ میں قریش کی اس خاتون کا بیٹا ہوں جو خشک گوشت کھایا کرتی تھی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4414]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4414 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد اختُلف في وصله وإرساله كما قدَّمنا بيانه برقم (3775)، وأحمد بن محمد بن صاعد متابَع.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے موصول (صحابہ تک متصل) یا مرسل ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے، جس کی تفصیل ہم پہلے نمبر (3775) پر بیان کر چکے ہیں۔ احمد بن محمد بن صاعد کی اس میں متابعت موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3312) عن إسماعيل بن أبي الحارث بهذا الإسناد
📖 حوالہ / مصدر: ابن ماجہ نے (3312) میں اسماعیل بن ابی الحارث کے طریق سے اسی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 7/ 264 من طريق محمد بن إسماعيل ابن عُلَيّة، عن جعفر بن عون، به. ومحمد بن إسماعيل ابن عُلَيّة ثقة.
📖 حوالہ / مصدر: خطیب بغدادی نے "تاريخ بغداد" (7/264) میں محمد بن اسماعیل بن علیہ کے طریق سے، انہوں نے جعفر بن عون سے اسے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: محمد بن اسماعیل بن علیہ ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه ابن عدي 6/ 286 من طريق محمد بن الوليد بن أبان القلانسي، عن جعفر بن عون، به. لكن محمد بن الوليد هذا متهم بوضع الحديث وسرقته كما قال ابن عدي، ولهذا يقول ابن عدي: هذا الحديث سرقه ابن أبان من إسماعيل بن أبي خالد، وسرقه منه أيضًا عُبيد بن الهيثم الحلبيّ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عدی نے (6/286) میں محمد بن ولید بن ابان قلانسی کے طریق سے جعفر بن عون سے اسے روایت کیا ہے، لیکن یہ محمد بن ولید "متہم بوضع الحدیث" (حدیث گھڑنے کا ملزم) اور حدیث چوری کرنے والا ہے جیسا کہ ابن عدی نے صراحت کی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن عدی کا کہنا ہے کہ ابن ابان نے یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے چوری کی ہے، اور عبید بن ہیثم حلبی نے بھی اسے اس سے چوری کیا ہے۔