🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. دخول الناس فى الإسلام أفواجا بعد فتح مكة
فتح مکہ کے بعد لوگوں کا جوق در جوق اسلام میں داخل ہونا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4414
حدَّثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدَّثنا أبو العباس أحمد بن محمد بن صاعِد، حدَّثنا إسماعيل بن أبي الحارث، حدَّثنا جعفر بن عَوْن، حدَّثنا إسماعيل بن أبي خالد، عن قيس، عن أبي مسعودٍ: أَنَّ رجلًا كَلَّم النبيّ ﷺ يومَ الفتح، فأخذَتْه الرِّعْدةُ، فقال النبي ﷺ: هَوِّنْ عليكَ، فإنما أنا ابن امرأةٍ من قُريش كانت تأكُلُ القَدِيدَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4366 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیبت سے) اس پر کپکپی طاری ہو گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نہایت شفقت سے) فرمایا: اپنے آپ پر نرمی کرو، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ میں تو قریش کی ایک ایسی عورت کا بیٹا ہوں جو سوکھا ہوا گوشت (قدید) کھایا کرتی تھی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4414]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد اختُلف في وصله وإرساله كما قدَّمنا بيانه برقم (3775)، وأحمد بن محمد بن صاعد متابَع.» [ترقيم الرساله 4414] [ترقيم الشركة 4391] [ترقيم العلميه 4366]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4414 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد اختُلف في وصله وإرساله كما قدَّمنا بيانه برقم (3775)، وأحمد بن محمد بن صاعد متابَع.
⚖️ درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے موصول (صحابہ تک متصل) یا مرسل ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے، جس کی تفصیل ہم پہلے نمبر (3775) پر بیان کر چکے ہیں۔ احمد بن محمد بن صاعد کی اس میں متابعت موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3312) عن إسماعيل بن أبي الحارث بهذا الإسناد
📖 حوالہ / مصدر: ابن ماجہ نے (3312) میں اسماعیل بن ابی الحارث کے طریق سے اسی سند کے ساتھ اسے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الخطيب البغدادي في "تاريخ بغداد" 7/ 264 من طريق محمد بن إسماعيل ابن عُلَيّة، عن جعفر بن عون، به. ومحمد بن إسماعيل ابن عُلَيّة ثقة.
📖 حوالہ / مصدر: خطیب بغدادی نے "تاريخ بغداد" (7/264) میں محمد بن اسماعیل بن علیہ کے طریق سے، انہوں نے جعفر بن عون سے اسے روایت کیا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: محمد بن اسماعیل بن علیہ ثقہ راوی ہیں۔
وأخرجه ابن عدي 6/ 286 من طريق محمد بن الوليد بن أبان القلانسي، عن جعفر بن عون، به. لكن محمد بن الوليد هذا متهم بوضع الحديث وسرقته كما قال ابن عدي، ولهذا يقول ابن عدي: هذا الحديث سرقه ابن أبان من إسماعيل بن أبي خالد، وسرقه منه أيضًا عُبيد بن الهيثم الحلبيّ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عدی نے (6/286) میں محمد بن ولید بن ابان قلانسی کے طریق سے جعفر بن عون سے اسے روایت کیا ہے، لیکن یہ محمد بن ولید "متہم بوضع الحدیث" (حدیث گھڑنے کا ملزم) اور حدیث چوری کرنے والا ہے جیسا کہ ابن عدی نے صراحت کی ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ابن عدی کا کہنا ہے کہ ابن ابان نے یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے چوری کی ہے، اور عبید بن ہیثم حلبی نے بھی اسے اس سے چوری کیا ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 4414 in Urdu