المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. ذكر غزوة حنين واجتماع الأنصار عند النبى صلى الله عليه وآله وسلم
غزوۂ حنین کا ذکر اور انصار کا رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہونا
حدیث نمبر: 4415
حدَّثنا أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدَّثنا الحسن بن مُكْرَم، حدَّثنا عثمان بن عمر، حدَّثنا عبد الله بن عامر الأَسلَمي، عن محمد بن المُنكَدِر، عن جابر، قال: نَدَبَ رسولُ الله ﷺ يوم حُنين الأنصارَ، فقال:"يا معشرَ الأنصار" فأجابُوه: لبَّيك بأبينا أنت وأُمّنا يا رسول الله، قال:"أقبِلُوا بوجُوهِكم إلى الله وإلى رسوله يُدخلْكم جناتٍ تجري من تحتِها الأنهارُ" فأقبَلُوا ولهم حَنِينٌ حتى أحدَقُوا به كَبْكبةً تَحَاكُّ مَناكِبُهم، يُقاتِلون حتى هزمَ اللهُ المشركين (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث المباركَ بن فَضَالة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4367 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهده حديث المباركَ بن فَضَالة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4367 - صحيح
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جنگ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو پکارا تو سب نے جواباً کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں، ہم حاضر ہیں۔ آپ نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی طرف متوجہ ہو جاؤ، وہ تمہیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہیں تو وہ سب لوگ آوازیں لگاتے ہوئے بھاگ آئے اور ان کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا، ان کو پچھاڑا گیا، ان کی گردنیں کٹتی رہیں، لیکن وہ جہاد کرتے رہے حتی کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو شکست دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ مبارک بن فضالہ سے مروی درج ذیل حدیث، مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4415]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4415 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح دون قوله: "أقبِلُوا بوجوهكم إلى الله وإلى رسوله يدخلكم جنات تجري من تحتها الأنهار"، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الأسلمي، وقد جاء عند جابر من وجه آخر بإسناد حسن دون الحرف المشار إليه، وله ما يشهد له.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، سوائے ان الفاظ کے: "اپنے چہروں کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف پھیر لو، وہ تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند عبد اللہ بن عامر اسلمی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے دوسرے طریق سے ان مخصوص الفاظ کے بغیر "حسن" سند کے ساتھ مروی ہے، اور اس کے شواہد بھی موجود ہیں۔
وأخرجه بنحوه البيهقيّ في "دلائل النبوة" 5/ 129، وابن الأثير في "أسد الغابة" 4/ 266 من طريق يونس بن بكير، عن محمد بن إسحاق، قال: حدّثني عاصم بن عمر بن قَتَادة، عن عبد الرحمن بن جابر بن عبد الله، عن أبيه جابر، زاد ابن إسحاق في روايته عند ابن الأثير: وعمرو بن شعيب والزُّهْري وعبد الله بن أبي بكر بن عمرو بن حزم وعبد الله بن المكرم بن عبد الرحمن الثقفي عن حديث حنين. وإسناد حديث جابر بن عبد الله حسن، وروايات ابن إسحاق الأخرى كلها مرسلة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "دلائل النبوة" (5/129) اور ابن اثیر نے "أسد الغابة" (4/266) میں یونس بن بکیر کے طریق سے روایت کیا ہے، جو محمد بن اسحاق سے، وہ عاصم بن عمر بن قتادہ سے اور وہ عبد الرحمن بن جابر سے اپنے والد حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نقل کرتے ہیں۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ابن اثیر کی روایت میں ابن اسحاق نے عمرو بن شعیب، زہری، عبد اللہ بن ابی بکر بن عمرو بن حزم اور عبد اللہ بن مکرم بن عبد الرحمن ثقفی کا اضافہ کیا ہے جنہوں نے غزوۂ حنین کی حدیث بیان کی۔ ⚖️ درجۂ حدیث: حضرت جابر بن عبد اللہ کی حدیث کی سند حسن ہے، جبکہ ابن اسحاق کی دیگر تمام روایات مرسل ہیں۔
ويشهد له حديث أنس الذي بعده.
🧩 متابعات و شواہد: اس کی تائید حضرت انس رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو اس کے بعد آ رہی ہے۔
وحديث العباس بن عبد المطلب الآتي برقم (5505).
🧩 متابعات و شواہد: نیز حضرت عباس بن عبد المطلب کی حدیث بھی شاہد ہے جو آگے نمبر (5505) پر آئے گی۔