المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. ذكر غزوة حنين واجتماع الأنصار عند النبى صلى الله عليه وآله وسلم
غزوۂ حنین کا ذکر اور انصار کا رسول اللہ ﷺ کے گرد جمع ہونا
حدیث نمبر: 4417
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدَّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدَّثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: حدّثني عاصم بن عُمر بن قَتَادة، عن عبد الرحمن بن جابر، عن أبيه جابر بن عبد الله: أنَّ رسول الله ﷺ سارَ إلى حُنين لما فرَغ من فتح مكة، جمعَ مالك بن عوف النَّصْري من بني نَصْرٍ وجُشَم، ومن سعْد بن بكر وأوزاعًا من بني هِلال، وناسًا من بني عمرو بن عاصم بن عوف بن عامر، وأوعبَتْ (2) معَهم ثقيفٌ الأحلافُ، وبنو مالك، ثم سار بهم إلى رسول الله ﷺ وسار مع الأموال والنساءِ والأبناءِ، فلما سمع بهم رسولُ الله ﷺ بعث عبد الرحمن بن أبي حَدْرَد الأسلَمي، فقال:"اذهب فادخُل بالقومِ حتى تعلَمَ لنا من عِلْمِهِم"، فدخل، فمَكَثَ فيهم يومًا أو يومَين، [ثم أقبلَ فأخبرَه الخبرَ] (3) ثم قال رسولُ الله ﷺ لعمر بن الخطّاب:"ألا تسمع ما يقول ابن أبي حَدْرَدٍ؟ فقال عمرُ: كذبَ ابن أَبي حَدْرَد، فقال ابن أبي حَدْرد: إن كذَّبتني فربما كذَّبْتَ من هو خيرٌ مني، فقال عمرُ: يا رسول الله، ألا تسمعُ ما يقولُ ابن أبي حَدْرد؟ فقال رسولُ الله ﷺ:"قد كنتَ يا عمرُ ضالًّا فهَداك اللهُ ﷿" (1) ، ثم بعث رسول الله ﷺ إلى صفوان ابن أُمية، فسأله أدراعًا مئةَ دِرْعٍ وما يُصلِحُها مِن عُدّتِها، فقال: أغصْبًا يا محمدُ؟ قال: بل عارِيَّةً مضمونةً، حتى نُؤدِّيَها لك"، ثم خرجَ رسولُ الله ﷺ سائرًا (2) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4369 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4369 - صحيح
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی طرف پیش قدمی فرمائی (اس کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ) بنو نصر میں سے مالک بن عوف نصری اور سعد بن بکر میں سے جشم اور بنی ہلال میں سے اوزاع اور بنو عمرو بن عاصم بن عوف بن عامر میں سے کچھ لوگ جمع ہوئے، اور ان کے ساتھ ساتھ ان کے حلیف قبائل بنو ثقیف اور بنو مالک کو بھی بھڑکا کر شامل کر لیا گیا۔ پھر ان تمام قبیلوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب پیش قدمی شروع کر دی اور مال کے علاوہ عورتوں اور بچوں کو ہمراہ لے چلے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ملی، تو آپ نے عبدالرحمن بن ابی حدرد اسلمی کو بھیجا تاکہ ان کے حالات معلوم کر کے آئیں اور ہمیں اس کی خبر دیں۔ وہ گئے اور وہاں ایک دن یا دو دن ٹھہرے اور پھر واپس آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی صورت حال سے آگاہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ابن ابی حدرد جو کچھ کہہ رہے ہیں۔ کیا تم وہ نہیں سن رہے ہو؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن ابی حدرد جھوٹ بول رہا ہے۔ ابن ابی حدرد نے کہا: اگر تم مجھے جھٹلا رہے ہو تو (کوئی بات نہیں) کیونکہ تم اس کو بھی جھٹلا چکے ہو جو مجھ سے افضل ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابن ابی حدرد جو کہہ رہا ہے، آپ نے سنا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے عمر رضی اللہ عنہ! بے شک میں بھی ” ضال “ تھا پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت دے دی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے ایک سو زرہیں بمعہ ان کے متعلقات کے منگوائیں، اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ ناراضگی کے ساتھ لے رہے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ بلکہ یہ عاریتاً لے رہے ہیں۔ جو ضائع ہوں گی ان کی ضمان ادا کریں گے۔ اور تمام کی تمام تمہیں واپس کی جائیں گی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (حنین کی طرف) پیش قدمی شروع کر دی۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب المغازي والسرايا/حدیث: 4417]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4417 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذلك جاء في (ع) وفي رواية البيهقيّ في "دلائل النبوة" 5/ 121 عن أبي عبد الله الحاكم ورجل آخر معه، وهو الموافق لرواية رضوان بن أحمد الصيدلاني عن أحمد بن عبد الجبار عند ابن الأثير في "أسد الغابة" 4/ 266، وتحرَّف في (ز) و (م) و (ب) إلى: وأودعت، وفي (ص) إلى: وادعت، وضُبِّب فوقها في (ز) إشارةً إلى استغرابها.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ع) اور بیہقی کی روایت (5/121) میں حاکم اور ایک دوسرے شخص کے واسطے سے اسی طرح مروی ہے، جو ابن اثیر کی "أسد الغابة" (4/266) میں رضوان بن احمد صیدلانی کی احمد بن عبد الجبار سے روایت کے موافق ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخوں (ز)، (م) اور (ب) میں یہ لفظ "وأودعت" سے بدل گیا ہے، اور نسخہ (ص) میں "وادعت" ہو گیا ہے، جبکہ نسخہ (ز) میں اس پر علامتِ استغراب (شک یا غرابت کا نشان) لگائی گئی ہے۔
(3) ما بين المعقوفين سقط من أصولنا الخطية، وأثبتناه من المطبوع، وهو ثابت في رواية البيهقيّ في "الدلائل" عن أبي عبد الله الحاكم، وبسقوطه ينقطع سياق الخبر كما هو ظاهر.
📝 نوٹ / توضیح: بریکٹ [ ] کے درمیان والی عبارت ہمارے قلمی نسخوں سے ساقط تھی، جسے ہم نے مطبوعہ نسخوں سے درج کیا ہے۔ یہ عبارت بیہقی کی "الدلائل" میں حاکم کے واسطے سے ثابت ہے، اور اس کے بغیر روایت کا سیاق و سباق ٹوٹ جاتا ہے۔
(1) من قوله: "فقال عمر: كذب ابن حَدْرد" إلى هنا جاء مكانَه في أُصولنا الخطية ما نصّه: فقال عمر: ألا تسمعُ يا ابنَ أبي حَدْرد ما يقولُ رسولُ الله؟ فقال ابن أبي حَدْرد: قد كنتَ يا عمرُ ضالًّا فهداك الله. وفي هذا مخالفةٌ بيّنةٌ لما أثبتناه من المطبوع، وإنما أثبتناه لموافقته لرواية البيهقيّ عن الحاكم، وهو ما ساقه الذهبي في "تاريخ الإسلام " 1/ 385 في رواية يونس بن بكير، وهو الموافق أيضًا لما في "سيرة ابن هشام" 2/ 440، وكذلك جاء في "مغازي الواقدي" 3/ 893 عن شيوخه. وعليه فيكون قوله: "قد كنت يا عمر ضالًّا … " من قول النبي ﷺ لعمر، وليس من قول ابن أبي حدرد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: عبارت "فقال عمر: کذب ابن حدرد" سے یہاں تک، ہمارے قلمی نسخوں میں اس کی جگہ یہ الفاظ تھے: "عمر نے کہا: اے ابن ابی حدرد! کیا تم نہیں سن رہے جو رسول اللہ فرما رہے ہیں؟ ابن ابی حدرد نے کہا: اے عمر! تم گمراہ تھے تو اللہ نے تمہیں ہدایت دی"۔ 📌 اہم نکتہ: یہ مطبوعہ نسخوں کے صریح خلاف ہے، ہم نے مطبوعہ متن کو اس لیے ترجیح دی کہ وہ بیہقی کی حاکم سے روایت، ذہبی کی "تاريخ الإسلام" (1/385) میں یونس بن بکیر کی روایت، "سيرة ابن هشام" (2/440) اور "مغازي الواقدی" (3/893) کے موافق ہے۔ اس تحقیق کی رو سے جملہ "تم گمراہ تھے..." نبی کریم ﷺ کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ارشاد ہے، نہ کہ ابن ابی حدرد کا قول۔
(2) إسناده حسن من أجل محمد بن إسحاق.
⚖️ درجۂ حدیث: محمد بن اسحاق کی وجہ سے اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه البيهقيّ في "دلائل النبوة" 5/ 119 - 121، وفي "السنن الكبرى" 6/ 89 عن أبي عبد الله الحاكم وأبي بكر بن الحسن القاضي، عن أبي العباس محمد بن يعقوب، بهذا الإسناد. ولم يسق البيهقيّ في "السنن الكبرى" لفظه بتمامه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بیہقی نے "دلائل النبوة" (5/119-121) اور "السنن الكبرى" (6/89) میں حاکم اور ابو بکر بن حسن قاضی کے واسطے سے، انہوں نے ابو العباس محمد بن یعقوب سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، تاہم "السنن الکبریٰ" میں مکمل الفاظ نقل نہیں کیے۔
وأخرجه ابن الأثير في "أسد الغابة" 4/ 266 من طريق رضوان بن أحمد الصيدلاني، عن أحمد بن عبد الجبار، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن اثیر نے "أسد الغابة" (4/266) میں رضوان بن احمد صیدلانی کے طریق سے احمد بن عبد الجبار سے روایت کیا ہے۔
وقد تقدَّم من هذا الخبر قصةُ عاريّة صفوان بن أمية من حديث صفوان نفسه، ومن حديث ابن عبّاس برقم (2331) و (2332).
🧾 تفصیلِ روایت: اسی روایت کا وہ حصہ جس میں حضرت صفوان بن امیہ سے عاریت (ادھار اسلحہ) لینے کا قصہ ہے، خود صفوان کی حدیث سے اور ابن عباس کی حدیث سے نمبر (2331) اور (2332) پر گزر چکا ہے۔