🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. خطبة أبى بكر واعتذاره فى أمر الإمارة .
امارت کے معاملے میں حضرت ابو بکرؓ کا خطبہ اور ان کا عذر بیان کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4471
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد البَيهقي، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحِزَامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقبة، عن سعد بن إبراهيم، قال: حدثني إبراهيم بن عبد الرحمن بن عَوْف: أنَّ عبد الرحمن بن عوف كان مع عُمر بن الخطاب، وأنَّ محمد بن مَسْلَمة كسر سيفَ الزُّبير، ثم قام أبو بكر فخطبَ الناسَ واعتذرَ إليهم، وقال: والله ما كنتُ حَريصًا على الإمارة يومًا ولا ليلةً قطُّ، ولا كنتُ فيها راغِبًا، ولا سألتُها الله ﷿ في سِرٍّ ولا عَلانية، ولكني أشفقتُ مِن الفتنة، وما لي في الإمارة من راحةٍ، ولكن قُلَدتُ أمرًا عظيمًا ما لي به من طاقةٍ ولا يَدانِ إلَّا بتقوية الله ﷿، ولَودِدْتُ أنَّ أقوى الناسِ عليها مَكاني اليومَ، فقَبِل المهاجِرون منه ما قال وما اعتذَر به قال عليٌّ والزبيرُ: ما غَضِبنا إِلَّا أنّا قد أُخِّرنا عن المُشاورة، وإنا نَرى أبا بكرٍ أحقَّ الناس بها بعدَ رسول الله ﷺ إنه لَصاحِبُ الغارِ، وثاني اثنين، وإنا لَنعلَمُ بشرفه وكُبْرِه، ولقد أمَره رسول الله ﷺ بالصلاةِ بالناسِ وهو حيٌّ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4422 - على شرط البخاري ومسلم
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف بیان کرتے ہیں: عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے کہ محمد بن مسلمہ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار توڑ ڈالی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اٹھ کر لوگوں سے خطاب کیا اور ان سے معذرت کی۔ اور فرمایا: خدا کی قسم! میں نے کسی دن یا رات امارت کی کبھی بھی لالچ نہیں کی اور نہ ہی اس میں میری دلچسپی ہے اور نہ ہی میں نے ظاہر یا پوشیدہ کبھی اللہ تعالیٰ سے اس کی دعا مانگی ہے۔ بلکہ میں تو اس کی آزمائش سے ڈرتا ہوں اور امارت میں میرے لئے کوئی راحت نہیں ہے تاہم میں نے اس بہت بڑی ذمہ داری کو خود قبول کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر مجھ میں اس کی طاقت اور ہمت نہیں ہے بلکہ میری تو یہ خواہش ہے کہ آج میری اس جگہ وہ شخص ہو جو تمام لوگوں سے زیادہ طاقتور ہو، چنانچہ مہاجرین نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی گفتگو اور ان کی معذرت قبول کر لی۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمیں تو صرف اس بات کا غصہ تھا کہ مشورہ میں ہمیں شامل نہیں کیا گیا ورنہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو تمام لوگوں سے زیادہ مستحق خلافت سمجھتے ہیں۔ یہ ان کی نماز کے ساتھی ہیں، ثانی اثنین ہیں، ہم ان کی شرافت اور بزرگی کے معترف ہیں۔ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی حیات طیبہ میں ان کی امامت کا حکم فرمایا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4471]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4471 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) رجاله ثقات، لكنه مرسل إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف تابعي كبير، وذكره بعضهم في الصحابة لكن الأصح أنه تابعي، إلَّا أنه مع إرساله يعدُّ من أقوى المراسيل لجلالة إبراهيم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں لیکن یہ ’’مرسل‘‘ ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کبار تابعین میں سے ہیں۔ بعض نے انہیں صحابہ میں ذکر کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ تابعی ہیں۔ 📌 اہم نکتہ: تاہم ان کی مرسل روایت ابراہیم کی جلالت شان کی وجہ سے ’’اقویٰ المراسیل‘‘ میں شمار ہوتی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 152، وفي الاعتقاد ص 350 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ 8/ 152 اور ’’الاعتقاد‘‘ ص 350 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وهو في "مغازي موسى بن عقبة" برواية إسماعيل بن إبراهيم بن عقبة عنه كما في "منتخبه" لابن قاضي شُهْبة (19).
📖 حوالہ / مصدر: یہ موسیٰ بن عقبہ کی ’’المغازی‘‘ میں اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ کی روایت سے موجود ہے، جیسا کہ ابن قاضی شہبہ کے ’’المنتخب‘‘ (19) میں ہے۔
الكُبْر: القُعدُد في النسب.
📝 نوٹ / توضیح: ’’الکُبْر‘‘: نسب میں بزرگی یا بڑائی (شرف)۔