المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. خلافة أبى بكر بتأييد عمر بعد النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - .
نبی کریم ﷺ کے بعد حضرت عمرؓ کی تائید سے حضرت ابو بکرؓ کی خلافت قائم ہوئی
حدیث نمبر: 4472
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا حسين بن علي الجعفي، عن زائدة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: لما قُبِضَ رسولُ الله ﷺ وقالت الأنصارُ: مِنّا أميرٌ ومنكم أميرٌ، قال: فأتاهم عمرُ فقال: يا معشر الأنصار، ألستم تعلمون أنَّ رسول الله ﷺ قد أمَر أبا بكر يؤمُّ الناسّ، فأيُّكم تطيبُ نفسُه أن يتقدَّم أبا بكر؟ فقالت الأنصار: نعوذُ بالله أن نتقّدمَ أبا بكر (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4423 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4423 - صحيح
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد انصار نے کہا: ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک تم میں سے (عبداللہ) فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آ کر کہا: اے انصاریو! کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ لوگوں کی امامت کروائیں، تو تم میں سے کون ہے جو ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے ہونے میں خوش ہے؟ انصار نے کہا: ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے ہونے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم/حدیث: 4472]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 4472 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم - وهو ابن أبي النَّجُود، ويقال له أيضًا: ابن بَهْدلة - لكن تابعه إسماعيل بن أبي خالد عند أبي بكر الآجُرّي في "الشريعة" (1198)، وابنِ عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 272، وغيرهما زائدة: هو ابن قُدامة، وزِرٌّ: هو ابن حُبيش.
⚖️ درجۂ حدیث: خبر صحیح ہے، اور یہ سند عاصم (ابن ابی النجود / ابن بہدلہ) کی وجہ سے ’’حسن‘‘ ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: لیکن اسماعیل بن ابی خالد نے (آجری: الشریعہ 1198، ابن عساکر: 30/ 272 وغیرہ میں) ان کی متابعت کی ہے۔ زائدہ: یہ ابن قدامہ ہیں۔ زرّ: یہ ابن حبیش ہیں۔
وأخرجه أحمد 1/ (133) و 6 / (3765) عن حُسين بن علي الجُعفي، والنسائي (855) عن إسحاق بن إبراهيم - وهو المعروف بابن راهويه - وهناد بن السَّرِيّ، عن حُسين بن علي الجُعفي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 1/ (133) اور 6/ (3765) نے حسین بن علی الجعفی سے، اور نسائی (855) نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) اور ہناد بن السری > حسین بن علی الجعفی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 1 / (133) و 6 / (3842) عن معاوية بن عمرو، عن زائدة بن قُدامة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد 1/ (133) اور 6/ (3842) نے معاویہ بن عمرو > زائدہ بن قدامہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔