🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. الطيرة شرك
بدشگونی لینا شرک ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 45
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب والحسين بن محمد بن زياد وأحمد بن سلمة، قالوا: حدثنا إسحاق (2) بن إبراهيم، أخبرنا جَرير، عن الحسن بن عبيد الله النَّخَعي، عن سعد بن عُبيدة، عن ابن عمر، عن النبي ﷺ قال:"مَن حَلَفَ بغيرِ الله فقد كَفَرَ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، فقد احتجَّا بمثل هذا الإسناد وخرَّجاه في الكتاب (1) ، وليس له علَّة، ولم يُخرجاه. وله شاهد على شرط مسلم، فقد احتجَّ بشَرِيك بن عبد الله النَّخَعي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 45 - على شرطهما رواه ابن راهويه عنه هكذا
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے سوا کسی اور کی قسم کھائی، اس نے کفر کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، انہوں نے اس جیسی سند سے احتجاج کیا ہے اور کتاب میں اس کی تخریج کی ہے، اس میں کوئی علت نہیں ہے، لیکن انہوں نے اسے (ان الفاظ کے ساتھ) روایت نہیں کیا۔ اور اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر موجود ہے، کیونکہ انہوں نے شریک بن عبداللہ النخعی سے احتجاج کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 45]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 45 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في (ب): يحيى بن إسحاق، بزيادة "يحيى بن" وهو خطأ، وكانت هذه الزيادة في (ز) ثم رُمِّجت على الصواب. وإسحاق هذا: هو ابن راهويه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (2) نسخہ (ب) میں "یحییٰ بن اسحاق" زیادہ لکھا ہے جو غلطی ہے۔ اسحاق سے مراد "ابن راہویہ" ہیں۔
(3) رجاله عن آخرهم ثقات، إلّا أنَّ فيه علَّةً وهي الانقطاع بين سعد بن عبيدة وابن عمر، فقد بيَّن منصور ابن المعتمر في روايته عن سعد بن عبيدة عند أحمد 9/ (5375) و (5593) و 10/ (6073) أنَّ سعدًا إنما سمعه من رجل اسمه محمد الكندي عن ابن عمر، ومحمد هذا لا يُعرَف، ومنصور مقدَّم في الخلاف على غيره من الرواة.
⚖️ درجۂ حدیث: (3) راوی آخر تک "ثقہ" ہیں، مگر اس میں "انقطاع" کی علت ہے کہ سعد بن عبیدہ نے ابن عمر سے براہ راست نہیں سنا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: منصور بن معتمر کی روایت (احمد) میں وضاحت ہے کہ سعد نے یہ "محمد الکندی" سے سنا ہے اور وہ "غیر معروف" ہے۔
وانظر الكلام على هذا الإسناد مفصَّلًا عند الحديث (4904) من "مسند أحمد".
📝 نوٹ / توضیح: اس سند پر تفصیلی کلام "مسند احمد" (4904) پر دیکھیں۔
إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه، وجرير: هو ابن عبد الحميد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اسحاق بن ابراہیم: ابن راہویہ، جریر: ابن عبد الحمید۔
وحديث جرير سيأتي عند المصنف برقم (170) من طريق يحيى بن المغيرة عنه.
📝 نوٹ / توضیح: جریر کی حدیث مصنف کے ہاں (170) پر یحییٰ بن مغیرہ کے طریق سے آئے گی۔
وأخرجه أبو داود (3251)، وابن حبان (4358) من طريقين عن الحسن بن عبيد الله، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو داود (3251) اور ابن حبان (4358) نے حسن بن عبید اللہ سے دو طریقوں سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8008) من طريق أبي خالد الأحمر عن الحسن بن عبيد الله، وبرقم (168 - 169) من طريق سعيد بن مسروق الثوري والأعمش ومنصور عن سعد بن عبيدة.
📝 نوٹ / توضیح: یہ (8008) پر ابو خالد الاحمر عن حسن بن عبید اللہ، اور (168-169) پر سعید بن مسروق، اعمش اور منصور عن سعد بن عبیدہ کے طریق سے آئے گی۔
(1) الحسن بن عبيد الله النخعي أخرج له مسلم وحده دون البخاري.
🔍 فنی نکتہ / علّت: (1) حسن بن عبید اللہ النخعی سے صرف "مسلم" نے تخریج کی ہے، بخاری نے نہیں۔