المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. الطيرة شرك
بدشگونی لینا شرک ہے
حدیث نمبر: 44
حدثنا بصِحَّة ما ذكرتُه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن خَلَّاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن سلمة بن كُهَيل، عن عيسى بن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"الطِّيَرةُ من الشِّرك، وما مِنّا، ولكنَّ الله يُذهِبُه بالتوكُّل" (1) .
هذا حديثٌ صحيحٌ سندُه، ثقاتٌ رواتُه، ولم يُخرجاه. وعيسى بن عاصم الأسدي قد روى أيضًا عن عَدِيِّ بن ثابت وغيره، وقد روى عنه شعبة وجرير بن حازم ومعاوية بن صالح وغيرهم.
هذا حديثٌ صحيحٌ سندُه، ثقاتٌ رواتُه، ولم يُخرجاه. وعيسى بن عاصم الأسدي قد روى أيضًا عن عَدِيِّ بن ثابت وغيره، وقد روى عنه شعبة وجرير بن حازم ومعاوية بن صالح وغيرهم.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی شرک میں سے ہے، اور ہم میں سے کوئی ایسا نہیں (جس کے دل میں کچھ نہ آئے) لیکن اللہ تعالیٰ اسے توکل کے ذریعے دور فرما دیتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، تاہم ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور عیسیٰ بن عاصم الاسدی نے عدی بن ثابت اور دیگر سے بھی روایات لی ہیں، اور ان سے شعبہ، جریر بن حازم اور معاویہ بن صالح وغیرہ نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 44]
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، تاہم ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور عیسیٰ بن عاصم الاسدی نے عدی بن ثابت اور دیگر سے بھی روایات لی ہیں، اور ان سے شعبہ، جریر بن حازم اور معاویہ بن صالح وغیرہ نے روایت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الإيمان/حدیث: 44]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 44 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح كسابقه. ونقل الترمذي بإثر الحديث عن البخاري عن سليمان بن حرب في قوله هذا الحديث: "وما منَّا، ولكن الله يذهبه بالتوكل" قال: هذا عندي قول عبد الله بن مسعود!
⚖️ درجۂ حدیث: (1) اس کی سند پچھلی کی طرح "صحیح" ہے۔ ترمذی نے بخاری کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سلیمان بن حرب نے کہا: "وما منا..." کے الفاظ میرے نزدیک عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول (مدرج) ہیں۔